اسلامی نظام کے قیام کا آسان اور کم خرچ مگر قابلِ عمل نسخہ ! بھائیو جو بات میں کہنے لگا ھوں، اجمالاً ایک جملے میں بیان کی جا سکتی ھے،، مگر تفصیلاً پوری کتاب یا تھیسس لکھا جا سکتا ھے ! وہ اجمالی جملہ یہ ھے کہ " جتنا زور ھم نے علماء کو کُرسی تک پہنچانے پر صرف کیا ھے،، اس کا صرف 05۔0 ٪ بھی کرسی والے کو فیصل مسجد کے مبنر پر لانے میں خرچ کرتے تو آج پاکستان میں اسلام کا بول بالا ھوتا "،،صرف ایک گھنٹے کی میٹنگ میں نواز شریف کو فیصل مسجد میں خطبہ دینے پر قائل کیا جا سکتا ھے ! اگلے دو ھفتے میں آئینی ترمیم کے ساتھ انہیں امیر المومنین قرار دیا جا سکتا ھے ! لو جی خلافت قائم ھو گئ ! اللہ پاک نے سورہ الحج کی آیت 41 میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صاحب اقتدار پر فرض کیا ھے اور یہ" منبر و محراب" اصلاً خلیفہ کا فرضِ منصبی ھے ! مساجد اس فریضے کی ادائیگی کے ٹولز ھیں ! اور ھمیشہ اسی طرح رھا ھے کہ دارالخلافے میں خلیفہ اور صوبوں میں گورنر خطبہ دیا کرتے تھے جہاں وہ نئے احکامات کا اعلان کیا کرتے تھے،، جن کو تبدیل کرنا ھوتا تھا وہ بھی جمعے میں بیان ھوتے تھے اور جن باتوں سے روکنا مقصود ھوتا تھا اس کی انفارمیشن میں خطابِ جمعہ میں دی جاتی تھی ! یوں اسلام کتابوں میں اور فتوؤں میں نہیں ملتا تھا،، احکامات کی صورت سوسائٹی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا پھرتا تھا ! یہی وجہ ھے کہ خلفاء سے احادیث کی روایت بہت کم ھے کیونکہ روایت وہ بیان کرتا ھے جو صرف پریس کانفرنس کر کے مطالبہ کر سکتا ھے،جس کے ھاتھ میں طاقت ھوتی ھے وہ روایت بیان نہیں کرتا روایت پر عمل کرتا ھے کیونکہ یہ اس کا فرض منصبی ھوتا تھا، اسی وجہ سے خلفاء کے آثار فقہاء کے نزدیک سنت کا درجہ رکھتے ھیں ! مساجد یونین کونسل ،تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کی طرح کا سرکاری ادارہ ھے،جسے سرکار ھی قائم کرتی،اور چلاتی تھی،، 100 سال تک کسی پرائیویٹ مسجد کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،،کہ جس کے پاس پیسہ ھوا ایک محلے میں تین تین مساجد بنا کر بیٹھ گئے ! آپ کبھی نہیں سنیں گے ،کہیں نہیں پڑھیں گے کہ امام ابوحنیفہؒ نے فلاں مسجد میں جمعے کا خطبہ دیا،،، البتہ یہ ضرور پڑھیں گے کہ حجاج بن یوسف نے جمعے کا خطبہ دیا ،،زیاد اور ابن زیاد نے جمعے کا خطبہ دیا اور لوگوں نے کنکریاں ماریں،، ابو موسی الاشعریؓ نے بحیثیت گورنر جمعے کا خطبہ دیا،،یہاں تک کہ عبداللہ ابن مسعودؓ جلیل القدر فقیہہ صحابی چونکہ گورنر نہیں بلکہ معلم اور مدرس بنا کر بھیجے گئے تھے ،انہوں نے کبھی جمعے کا خطبہ مرکزی مسجد میں نہیں دیا،،خطیب گورنر کی طرف سے مقرر ھوتے تھے اور اسی کے حکم سے معزول کیئے جاتے تھے،،نبی کریمﷺ کے زمانے سے لوگ خطیب نہیں چنا کرتے تھے بلکہ آپ ﷺ سرکاری حیثیت سے ان کا تعین فرمایا کرتے تھے،ان کا ٹیسٹ لیا جاتا تھا،،ایک دفعہ آپ ﷺ نے خطباء کے تعـین کے لئے کچھ لوگوں کو بلایا اور ان کا امتحان لینا شروع کیا،، ایک خطیب نے کہا ،، من یطع اللہ ورسولہ فقد ھدی و من یعصِھما فقد غوی ،، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ھی ضمیر میں اللہ اور رسول کو جمع کرنے پر اس سے سخت ناراض ھوئے اور اسے فرمایا بئس الخطیب انت ! تو برا خطیب ھے،بیٹھ جا ! اسی سنت کو خلفاء نے زندہ رکھا !علماء کا کردار ھمیشہ سے مشاورتی رھا ھے ! چاروں ائمہ اور ان کے شاگردوں نے کبھی نہ حکومت طلب کی، نہ لوگوں نے انہیں حاکم اور خلیفہ بنانے کی کوئی تحریک شروع کی ! ائمہ نے بھی اپنے مشاورتی کرادر پر ھی توجہ دی اور اسے دیانت کے ساتھ نبھایا،حالانکہ وہ کوئی آئیڈیل حکمران نہیں تھے،، کہ جن پر کوئی اعتراض وارد نہ کیا جا سکتا ھو، وہ قتل سمیت ھر جرم میں ماخوذ کیئے جا سکتے تھے، اس کے باوجود لوگوں نے ان کو ھٹا کر کبھی بھی ،،امام مالک ،امام ابوحںیفہ ،امام شافعی اور امام احمد کو حکمران بنانے کی کوئی تحریک یا مہم نہیں چلائی ! جب سے ھمارے علماء نے اپنی نگاھیں اقتدار پر جمائی ھیں اس دن سے مشاورتی کردار کو بھی متنازعہ اور مشکوک بنا لیا ھے،، خدا ھی ملا نہ وصالِ صنم ،،والی مثال اگر سو فیصد کسی پر لاگو ھوتی ھے تو وہ ھمارے مذھبی طبقے پر لاگو ھوتی ھے جونہی حکمرانوں نے مساجد کو ایزی لیا انہیں انڑ اسٹیمیٹ کیا اور ان کی اھمیت کا ادراک نہ کیا ،اسے دوسروں کو سونپ دیا اور خود الگ ھو کر بیٹھ گئے اسی دن سے اسلام اقتدار سے محروم ھو کر دین نہ رھا بلکہ مذاھب میں تبدیل ھو گیا !صرف فتوؤں کا مذھب رہ گیا اور فتوی چونکہ نافذ نہیں ھوتا،، نافذ کرنے والوں نے اسے علماء کو گفٹ کر دیا،، بس تب سے دین فتوؤں میں ملتا ھے اور دال جوتیوں مین بٹتی ھے ! مساجد کی بھرمار ھے اور مساجد ایک بیمار کے بدن میں پیدا ھونے والی گلٹیوں کی شکل اختیار کر گئ ھیں جو دین کی وحدت کی نہیں بلکہ مذاھب اور مسالک کے مورچے بن گئے جہاں اپنے اپنے مسالک کے سپاھی پیدا کیئے جاتے ھیں ! حاکم تو ایک ھے،دین بھی ایک ھے، وہ ایک ھی بات کرے گا جو کہے گا اس پر عمل کا اختیار بھی رکھتا ھے یوں دین اپنے اصل منبعے کی طرف پلٹے گا! الذین ان مکناھم فی الارض،، وہ جن کو ھم زمین پر تمکن عطا فرمائیں تو ظاھر ھے یہ تمکن نواز شریف کو بخشا گیا ھے،، اقامو الصلوۃ ، وہ نماز قائم کریں،، مرکزی مسجد کا امام نواز شریف ھے،، و اٰتوالزکوۃ ،، زکوۃ کی وصولی اور عوام تک اسے پہنچانے کا ذمہ دار بھی وھی ھے ،، و امروا بالمعروف،، منبر سے معروف کی تلقین اور اس کے لئے ضروری عملی اقدامات کا ذمہ دار وھی ھے، و نہوا عن المنکر ،، اور برائی سے خبردار کر کے اس کی راہ روکنے کے عملی اقدامات اٹھانا بھی اس کا مذھبی فریضہ ھے،، کیوںکہ تمکن اس کو ملا ھے،، مفتی حضرات صرف تقریر کر سکتے ھیں اور کرتے چلے آ رھے ھیں ! کیونکہ سورہ یوسف میں جو بار بار حضرت یوسف کو تمکن فی الارض کا احسان جتایا جا رھا ھے تو ساتھ یہ بھی بتایا جا رھا ھے کہ تمکن کا حقیقی مفہوم صاحب اختیار ھونا اور اس اختیار کو پھر خیر کے لئے استعمال کرنا ھے،،یوں امر بالمعروف حاکم کا فریضہ ھے،عوام بطور آلہ استعمال ھوتے ھیں،، ان پر اپنے اپنے دائرہ کار میں یہ کام فرضِ کفایہ ھے،، اصل ذمہ داری حاکم کی ھے،، جب اسے معلوم ھو گا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نمائندگی کر رھا ھے تو یقیناً اسے اس عہدے کے ساتھ ایک تقدس کا تعلق اور رشتہ محسوس ھو گا، وہ اس کی اھمیت کو سمجھے گا ،، نتیجے میں اس کے ذاتی کردار میں بھی بلندی پیدا ھو گی اور وہ ایک سیاست دان کے بازاری مقام سے اٹھ کر خلافت کے مقدس مقام پر فائز ھو جائے گا،، یوں ھِــز ھائی نیس اور ھــز ھولی نیس کا ایک ھی ھستی اور ایک ھی عہدے میں ادغام ھو جائے گی،، اور جس پرزے کی خرابی سے اسلام کی شکست وریخت شروع ھوئی تھی وہ پرزہ ٹھیک کام کرنا شروع کر دے گا ،، اور اسلام دوبارہ وحدت کی طرف گامزن ھو گا،، خلفاء کی مساجد اور منابر سے گرفت کمزور ھونے کے زمانے سے ھی مختلف مذاھب کی مارا ماری شروع ھوئی ھے ! اب علماء کو چاھئے کہ وہ اپنی یہ ضد چھوڑ دیں کہ اسلام وھی ھو گا جو ان کے دستِ مبارک سے نافذ ھو گا،، بلکہ جسے اللہ نے اقتدار بخشا ھے اسے تسلیم کریں اور منبر جس کی امانت ھے اسے واپس کریں اور نیچے بیٹھ کر اس کا خطاب سنیں ،،
Wednesday, March 5, 2014
بدنام اللہ کو کر دیا کہ اللہ سے ڈر لگتا ھے
میں اللہ سے کیوں ڈروں ؟
1- کیا وہ ظالم ھے ؟
2- کیا وہ میری نیکیاں کسی اور کو دے دے گا ؟
3- کیا وہ کسی کے گناہ مجھ پر لاد دے گا ؟
4- کیا وہ کسی ایسے آدمی کی وجہ سے جو میری نسبت نفل زیادہ پڑھتا ھے اور میرے ساتھ اس کی ان بن ھو گئ ھے تو اللہ اس ادمی کی حمایت میں میری فائلوں میں وہ گناہ ڈال دے گا جو نہیں کیئے یا ان گناھوں کا ریٹ اور ویٹ بڑھا دے گا ؟
5- کیا وہ جج کی طرح کسی کے نفلوں کے آگے بِک جائے گا ؟
6- کیا وہ کسی کرپٹ وکیل کی طرح مخالف پارٹی سے مل جائے گا؟
7- کیا وہ پولیس کی طرح چرس کی پڑیا میرے نامہ اعمال میں گھسا کر حدود کا پرچہ بنا دے گا ؟
8- کیا وہ پٹواری کی طرح میری جنت کسی اور کے نام کر دے گا ؟
9- جس طرح ماں اپنی بیٹیوں کی خاطر بیٹوں سے اور بیٹوں کی خاطر بیٹیوں سے ناجائز ناراض ھو جاتی ھے ، اللہ بھی کسی سے ناجائز ناراض ھو جاتا ھے ؟
10- جس طرح ایک چاپلوس اور نکمہ بیٹا والدین کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کر کے اور مسکہ پالش کر کے ایک مخلص اور خدمتگار بیٹے کے بارے میں بدظن کر نے میں کامیاب ھو جاتا ھے، اسی طرح کوئی میرے بارے میں میرے رب کو بھی ورغلا دے گا ؟؟
تلک عشرۃٓ کاملہ !! مجھے کوئی ایک وجہ بتائی جائے کہ میں کیوں اپنے اللہ سے ڈروں ؟
یہ سارا کیا دھرا ھماری زبان کا ھے !
اتقوا اللہ کا ترجمہ اللہ سے ڈرو،،کر دیا ھے،، حالانکہ اس کا مطلب ھے اللہ کا خیال رکھو ! جو بات کرو جو کام کرو، بس اللہ کی پسند ناپسند اور رضا کا خیال رکھو،، جہاں جس ماحول میں ھو اللہ کا خیال رکھو ،، بے خدا ھو کے مت جیو،کوئی لمحہ بے خدا مت گزارو ،، روزے اس لئے فرض کیئے کہ تم کو اللہ کا خیال رکھنا آ جائے !
جو دم غافل ، سو دم کافر ،مرشد اے فرمایا ھُــو !
ڈر اپنے کرتوتوں کا ھوتا ھے،، بدنام اللہ کو کر دیا کہ اللہ سے ڈر لگتا ھے !
آپ سڑک پر جا رھے ھیں ! ٹریفک پولیس کی گاڑیاں آپ کے دائیں بائیں سے گزر رھی ھیں ،آپ کو پولیس سے ذرا ڈر نہیں لگ رھا بلکہ آپ پولیس گاڑیوں کو اور ٹیک بھی کر رھے ھیں !!
اچانک آپ نو انٹری میں داخل ھو گئے یا سرخ اشارہ جمپ کر دیا ،، اب آپ کی نظریں بیک مرر پر جم گئیں،، پولیس کی گاڑی دیکھ کر آپ کی ٹانگیں کانپنا شروع ھو گئیں،، رنگ پیلا پڑ گیا، بلڈ پریشر لو ھو گیا،، آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا ،،پسینے کی تریلیاں آنے لگیں ،، اور آپ کہہ رھے ھیں کہ یہ سب کچھ پولیس کے ڈر سے ھوا؟ کیوں اشارہ جمپ کرنے کے بعد پولیس کی گاڑی کے سینگ نکل آئے تھے،، آپ اپنے کارنامے کے نتائج سے خوفزدہ تھے نہ کہ پولیس سے،،یہی معاملہ ھم اللہ کے ساتھ کرتے ھیں !
اللہ کی قسم مجھے اللہ سے ڈر نہیں لگتا
بھائی لوگو !
معاف کـــــرنا !
میں نے تو اپنی مقدور بھر کوشش کر دیکھی ھے،، پوری کوشش کی ھے، ھر طریقہ آزما دیکھا ھے !
مگر اللہ کی قسم مجھے اللہ سے ڈر نہیں لگتا !
مجھے اللہ سے ڈرا نہیں جاتا ! اللہ کی محبت نے سیلاب کے پانی کی طرح اندر سب کچھ جل تھل کر کے رکھ دیا ھے ھر جگہ پیار کا پانی بھرا پڑا ھے،خوف اور ڈر اندر گھستے ھوئے ڈرتے ھیں،،
میں نے بہت چاھا کہ اس میں ڈراوے اور خوف کا کوئی عنصر تلاش کر لوں ! مگر ناکام رھا،، میں خوف اور ڈر نام کی کوئی چیز اپنے اندر نہیں پاتا ،میں نے اسے سراپا رحمت ھی رحمت، پیار ھی پیار پایا ھے ! معاف کرنے والا ،در گزر کرنے والا ،نہ صرف عذر قبول کرنے والا بلکہ خود عذر دماغ میں سجھانے والا،، اسی نے آدم علیہ السلام کو توبہ کا صیغہ اور طریقہ سجھایا تھا !
آپ جب کسی سے کوئی لوکیشن پوچھتے ھیں تو وہ خود جس رستے سے اس منزل تک گیا ھوتا ھے ،بالکل اسی رستے سے آپ کو سمجھاتا ھے،،وھی چوک ، وھی سگنل، وھی رائٹ سے لیفٹ اور لیفٹ کے بعد دوسرا کٹ !
اللہ کا رستہ سجھانے والے بھی قسم قسم کے لوگ ھیں،،مگر میں نے تو اسے پیار میں ھی پایا ھے،، پیار کے رستے سے ھی لوکیشن سمجھاتا ھوں ،اس میں کوئی رائٹ اور لیفٹ ھے ھی نہیں،، آپ سے اللہ تک درمیان میں کوئی ھے بھی نہیں !
میں جب بھی مصنوعی خوف طاری کرنے کی کوشش کرتا ھوں تو لگتا ھے جیسے وہ اللہ طنزیہ انداز میں دیکھتا ھے اور ایک لمبــــــــــــــــــی ھـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــوں کر کے فرماتا ھے '' تیری ساری زندگی تیرے چونچلے برداشت کرتے،، تجھے سنبھالتے، سنوارتے ،اٹھاتے بناتے گزر گئی،، اب جب ھم سے ملاقات کا وقت آیا تو جناب کو ھم سے ڈر لگنا شروع ھو گیا ؟ ذرا ھمیں بھی دکھاؤ جی وہ ڈر کدھر ھے ؟ تا کہ ھم اس کا علاج کریں ! تمہارے اندر تو کوئی نہیں ، ڈر بھی کوئی نہیں اور ڈر کی جگہ بھی کوئی نہیں ،ھمیں تو سارے سٹور پیار سے ھی بھرے ملے ھیں !
"لا خوفٓ علیھم ولا ھم یحزنون " سے ھی تو ھماری دوستی شروع ھوتی ھے ! اب یہ دوستی کی انتہا میں خوف کہاں سے آ گیا ؟ جب لوگ دوسروں سے ڈرتے ھیں تو اللہ انہیں فرماتا ھے کہ ' اگر ڈرنا ھے تو پھر میں زیادہ حقدار ھوں کہ مجھ سے ڈرو ،کیونکہ تمہارا نفع نقصان تو میں کر سکتا ھوں،،فلا تخافوھم و خافونِ " چنانچہ تم ان سے مت ڈرو ،مجھ سے ڈرو،، فلا تخشوھم واخشونِ'' ان سے سہمے سہمے مت رھا کرو ھم سے سہمے رھا کرو ! یہ تو خوف کے مریض کو دوا دی جا رھی ! خوف مرض ھے اور پیار صفت ھے،، محبت مطلوب ھے !
البتہ میں اس سے محبت کرتا ھوں ،دنیا کی ھر چیز مجھ سے محبت کرتی ھے کیونکہ وہ اللہ سے بھی محبت کرتی ھے اور اللہ سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت کرتی ھے،اللہ کی ساری کائنات مجھے اپنی اپنی لگتی ھے اور اللہ جب میرے ساتھ ھوتا ھے تو وہ سیلوٹ کرتی نظر آتی ھے، وہ مجھے رشک کی نگاہ سے دیکھتی ھے ،، جان دار اور بے جان کی کوئی تخصیص نہیں ھے! مجھے یہ احساس کہ اللہ میرے ساتھ ھے،، کسی سے ڈرنے نہیں دیتا،کسی سے دبنے نہیں دیتا ،، کسی سے مرعوب نہیں ھونے دیتا،، دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ھونے دیتا،، میرے پیارے نبی ﷺ کی دعا ھے، اللھم بک ادرأ فی نحور الاعداءِ والجبابرہ ،، ائے اللہ میں تیرے بھروسے پر دشمنوں کی گردنوں پر ھاتھ ڈال دیتا ھوں اور جابروں سے ٹکــرا جاتا ھوں ! مجھ سے جب کوئی ایسی غلطی سر زد ھو جاتی ھے جس سے مجھے احساس ھوتا ھے کہ میرا اللہ مجھ سے ناراض ھو گیا ھو گا تو میں سہم جاتا ھوں اس شوخے بچے کی طرح جو باپ کی موجودگی تو بڑی ڈھینگیں مارتا ھے ،مگر جونہی ان سے بچھڑتا ھے تو اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک جاتی ھے اور چہرے پر ھوائیاں اڑنے لگتی ھیں ! میرا بھی یہی حال ھوتا ھے،،مجھے اپنی پشت خالی لگتی ھے،میں اپنے کو لاوارث سمجھتا ھوں، اپنی گاڑی سے بھی ڈر لگتا ھے،، گاڑی کے ٹائر سے بھی ڈر لگتا ھے کہ یہ اچانک پھٹ سکتا ھے،، ھر چیز مجھے ڈراتی ھے جیسے انہیں پتہ چل جاتا ھے کہ میں لاوارث ھو گیا ھوں ! میں اللہ سے بچھڑ کر ھر چیز سے ڈرتا ھوں ،، میں رو رو کر اپنے رب کو منانے کی کوشش کرتا ھوں،، جنت کے لئے نہیں ! اور نہ آگ کے ڈر کی وجہ سے ! بس مجھے اللہ کی ناراضی میں دنیا ھی جہنم لگنے لگتی ھے،، وہ جو رو رو کر چاھتے تھے کہ ان کو سنگسار کیا جائے وہ رب کو ناراض کر بیٹھے ھیں ،، ان سے پوچھئے انہیں کیا ھو جاتا ھے انہیں یہ زندگی عزیز کیوں نہیں رھتی ؟؟ نہ وہ جنت جانے کے لئے سنگسار ھونے آئے تھے اور نہ جہنم سے بچنے کے لئے !! محب کے لئے محبوب کی ناراضی سب سے بڑی سزا ھے ! اور محبوب کی خوشی سب سے بڑا انعام ھے،، اس لئے جنت کی ساری نعمتوں کا ذکر فرما کر آخر میں فرمایا کہ،، و رضوان من اللہ اکبر ! اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ھے ! نبیﷺ نے ان کو سزا نہین دی تھی،، سزا سے نجات دی تھی،، ان پر مہربانی کی تھی ! اللہ سے ان کا راضی نامہ کرا دیا تھا،، نبی پاکﷺ کی یہ سنت رھی ھے کہ جس نے اپنے لئے جو سزا تجویز کر لی پھر آپﷺ نے اسے اس کے پیار کے حوالے کر دیا،، جس نے اپنے کو ستون سے باندھ لیا ،،فرمایا اب اسے رب ھی کھولے گا کیونکہ یہ محب اور محبوب کی بات آگئ ھے،، اسی طرح ان سگنسار والوں نے بار بار کے منع کرنے اور موقع دیئے جانے کے باوجود اپنے محبوب کو راضی کرنے کا ایک طریقہ پسند کر لیا تو نبیﷺ نے حسبِ دستور پھر مداخلت نہیں کی !
بات کا رخ تبدیل ھو گیا ھے،،تو عرض یہ ھے کہ مجھے میرے گناہ ڈراتے ھیں،، اور ڈر اللہ کی ناراضی کا ھوتا ھے کہ میرا خالق ،میرا مالک، میرا مصور،، میرا محسن،میرے دکھوں کا ساتھی ،میرے سکھوں اور خوشیوں کا منبع میرا پیارا رب ناراض نہ ھو جائے،، اس ڈر کے سوا مجھے کبھی اور کوئی ڈر نہیں لگا،،
یقین کریں میں اپنے آپ کو اپنے اللہ سے ڈرا نہیں پایا !! اس کا پیار مجھے ڈرنے نہیں دیتا،،اس نے میرے ساتھ ڈرنے ڈرانے والا کوئی معاملہ کیا ھی نہیں ! پھر جھوٹا ڈر بھی تو ایک قسم کا جھوٹ ھی ھوتا ھے اور مجھ سے یہ جھوٹ بولا نہیں جاتا !! اب لگا لیجئے جو فتوے لگانے ھیں !!
Saturday, March 1, 2014
الف اللہ چنبے دی بُوٹی
الف اللہ چنبے دی بُوٹی !!
ویگن اسٹاپ پر آدھی رات کے وقت ایک اک تارے والا گا رھا تھا "
ایمان سلامت ھر کوئی منگے ، عشق سلامت کوئی ھـُو !
ایمان منــگن شـــرماون عشقوں ، دل نوں غیرت ھوئی ھـُو !
جس منزل نوں عشق پہنچاوے،ایمانوں خبر نہ کوئی ھـُو !
میرا عشـــق سلامت رکھیں ،، ایمانـوں دیا دھــروئی ھـُو !
ایک صاحب نے پوچھا بابا عشق کیا ھوتا ھے ؟
اک تارے والے نے انہیں غور سے دیکھا ! اور دھیمے لہجے میں پوچھا !
بابو جی ! بھوک کیا ھوتی ھے ؟
بابو جی لاجواب ھو کر اس کا منہ دیکھنے لگے !!
بابا بولا ، بابو جی جسے کبھی بھوک لگی ھی نہ ھو ،اسے کوئی کیسے سمجھا سکتا ھے کہ بھوک کیا ھے ؟ اور جسے لگتی ھے اسے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ھی نہیں رھتی کہ بھوک کیا ھے ! اس کا تو اندر بھوک بھوک کا ورد کرتا ھے ! اتنا کہہ کر اک تارے والا گہری سوچ میں ڈوب گیا !
پھر آئستہ سے بولا ! بابو جی بھوک نہ ھو تو کھانا بھی بوجھ بن جاتا ھے !
عشق نہ ھو تو ایمان بھی بوجھ بن جاتا ھے اور انسان پہلی فرصت میں اس سے جان چھڑا لیتا ھے !
واضح رھے یہ پوچھنے والا سابقہ جج اور فلسفوں کو کنگھال مارنے والا پڑھا لکھا شخص تھا مگر بقول اس کے اس ٹھٹھرتی رات میں اس اکتارے والے کے سامنے اس کے سارے فلسفے ٹھٹھر کر رہ گئے تھے !
اللہ اور اس کے حبیبﷺ سے محبت نہ ھو تو فرائض اور سنتیں ایک بوجھ بن جاتے ھیں ،، جن سے آگ کے ڈر کی وجہ سے ھی انسان عہدہ برآ ھوتا ھے !
وہ مسجد آ کر عزت نہیں پاتا بلکہ بستہ بے کے مجرموں کی طرح حاضری لگوانے آتا ھے ! اور تیرا دل تو ھے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں " کا مصداق ھوتا ھے !!
نہ تو توکل توکل لکھنے سے کوئی متوکل ھو جاتا ھے اور نہ ھی سکون سکون کا ورد کرنے سے کسی کو سکون قلب ملتا ھے،، جب کسی سے محبت ھو تو پھر اس کا نام سن کر جو راحت دل میں پیدا ھوتی ھے اس کا نام سکون قلب ھے،، الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کا یہ مطلب ھے ،، اور لوگ اللہ اللہ اللہ کا ورد کر کے اس میں سے سکون نکالنا چاھتے ھیں،، وہ اللہ کہنا عاشق کا اللہ کہنا ھے،، نہ کہ کسی ھائپر ٹینشن کے مریض کا ! کیا مجازی محبت میں محبوب کے تذکرے سے آپ کو سکون نہیں ملتا ؟ وہ کہاں سے آتا ھے ؟ اسی کنوئیں سے اللہ والا سکون بھی ملتا ھے مگر شرط پیار کی ھے ! اور جب پیار ھو جائے اور وہ اصلی والا ھو تو محبوب کے رستے کی تکلیفیں بھی سکون دیتی ھیں ،، گِلے پیدا نہیں کرتیں !
عامر عثمانی کی طویل غزل کا شعر ھے !
عشق کے مراحل میں وہ بھی مقام آتا ھے !
آفـتیں برستــی ھیں، دل سکـــــون پاتا ھے !
مشکلیں اے دل! سخت ھی سہـــی لیـکن !
یہ نصیب کیا کم ھے کہ " کوئی " آزماتا ھے !
میں غالباً چار سال کا تھا ! سپارہ پڑھ کر مسجد سے نکلا تو ایک لڑکے نے لڑکی کا رستہ روکا ھوا تھا، دونوں ماموں اور پھوپھی سے کزن تھے ! لڑکی کے ھاتھ میں کپڑے ماپنے والا لوھے کا گز تھا ،جو وہ غالباً کسی کے گھر سے مانگ کر لے جا رھی تھی، اس نے لڑکے کو کہا کہ میرا دل چاھتا ھے کہ میں یہ گز تمہارے سر پہ دے ماروں ! اس پہ اس لڑکے نے اسے قسم دی اگر وہ اس کو نہ مارے ! لڑکی نے مسکراتے ھوئے ٹھاہ کر کے گز اس کے سر پہ دے مارا ! لڑکے نے سر پہ ھاتھ رکھ لیا،جب ھاتھ ھٹایا تو اس کا ھاتھ خون سے لتھڑا ھوا تھا ! اس نے خون کو چوما اور رستہ چھوڑ دیا،، رشتہ ھو گیا دونوں کی شادی ھو گئ ،اولاد ابھی تک نہیں ھوئی اور ظاھر ھے اب ھونے کے امکانات بھی نہیں رھے،، والدین کے اصرار کے باوجود اس لڑکے نے زندگی بھر شادی نہیں کی، مجھے اس سے محبت ھے اولاد سے نہیں،، جو اولاد اسے دکھ دے کر ملے وہ مجھے نہیں چاھئے ،،یہ عشقِ مجازی کی وارداتیں ھیں،، عشقِ حقیقی کی تو عین میں ھی جہان ڈوب جاتا ھے !
جو لوگ صحابہؓ کی دعاؤں پہ عقلی استدلال کرتے ھیں ،وہ بھی ابھی بغدادی قاعدہ پڑھتے ھیں،،میں ان سے درخواست کرتا ھوں کہ وہ عقلی طور پر ثابت کر دیں کہ انسان کی تخیلق ھی عقلاً ضروری تھی ! اللہ کی وہ کونسی ضرورت تھی یا مجبوری تھی جو انسان کی تخلیق کی محرک بنی ھے ! اور اگر انسان نہ ھوتا تو اللہ کی عظمت میں کیا فرق پڑ جانا تھا ؟
انسان عقل کی تخلیق نہیں عشق کی تخلیق ھے ! اللہ کو صاحب عشق مخلوق درکار تھی،، عشق ضرورت نہیں دیکھتا ، اس کے اپنے قواعد ھیں،، جنت والے بھی ھیں اور جہنم والے بھی ھیں،، دائیں والے بھی ھیں اور بائیں والے بھی ھیں ،،مگر آگے نکل جانے والے بھی ھیں،، و کنتم ازواجاً ثلاثہ،، اور تم تین گروھوں میں بٹ جاؤ گے،، اصحاب الیمین ،، و اصحاب الشمال ،،، والسابقون السابقون ،، یہ آگے نکل جانے والے ھی عشق والے ھیں،، جنت والوں کو نبی اپنی معیت میں جنت میں لے جائیں گے،، اور عشق والوں کو اللہ اپنے ساتھ لے کر جائے گا،، اللہ فرمائے گا،،جنہوں نے جنت کے لئے کیئے وہ جنت میں چلے گئے،، جنہوں نے جہنم والے کیئے وہ جہنم میں چلے گئے،، میرے لئے کرنے والو آؤ چلیں ،،یہ رب کی معیت میں چلیں گے،،
یہ وہ مقام ھے جہاں کہنے والے کہتے ھیں کہ جہنم کے ڈر سے کرتی ھوں تو جہنم واجب کر دے ،، جنت کی لالچ میں کرتی ھوں تو جنت حرام کر دے،، ائے اللہ میں تو تجھے اس لئے سجدے کرتی ھوں کہ تو ھے ھی سجدوں کے قابل !
یا "جنت میں جو میرا حصہ ھے اے اللہ وہ اپنے دوستوں کو دے دے،،دنیا میں جو میرا حصہ ھے اے اللہ وہ اپنے دشمنوں کو دے دے،، میرے لئے تو تـُو اور تیری محبت ھے کافی ھے !
بس مجھے سمجھ نہیں لگتی میں اپنا دل کہاں کہاں رکھوں !
Wednesday, February 26, 2014
طویل زندگی کے تجربات آپ کی نظر
امریکہ کا 90سال بوڑھا،سٹیفن فلیمنگ گرم و سرد چشیدہ انسان ہے۔طویل زندگی میں اسے جو تجربات ملے،وہ ان کا خلاصہ کچھ یوں بیان کرتا ہے:
1۔زندگی انصاف پسند نہیں، پھر بھی ہنسی خوشی گزاری جا سکتی ہے۔ 2۔جب شک میں گرفتار ہوں، تو بس یہ کیجیے کہ اگلا قدم اٹھا لیجئے۔ 3۔جب بھی آپ بیمار ہوئے ،تو کام آپ کی تیمار داری نہیں کرے گا،اہل خانہ اوردوست دیکھ بھال کریں گے۔ 4۔ایسی اشیاء مت خریدیے جن کی ضرورت نہ ہو۔ 5۔آپ ہر بحث جیتنے کی کوشش نہ کیجیے،بس نیک نیت رہیے۔ 6۔رونا ہو،توکسی کے ساتھ مل کر رویئے۔تنہا رونے کی نسبت یوں زیادہ آرام ملتا ہے۔ 7۔بدلے وقت میں کام آنے کے لیے کچھ سرمایہ ضرور محفوظ رکھیے۔ 8۔جب پانی سر سے اونچا ہو جائے،تو پھر مزاحمت بے معنی ہے۔ 9۔اپنے ماضی سے دوستی رکھیے تاکہ وہ آپ کے حال کو تباہ نہ کر سکے۔ 10اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے نہ کیجیے، آپ نہیں جانتے کہ ان کی زندگیاں کیونکر گزررہی ہیں۔ 11۔ایسا کوئی رشتہ قائم نہ کیجیے جسے خفیہ رکھنا مقصود ہو۔ 12اگر بچے آپ کو روتا ہوا دیکھ لیں،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 13۔پلک جھپکنے میں سب کچھ بدل سکتا ہے…مگر پریشان مت ہوں،خدا تعالیٰ پلک نہیں جھپکتے۔ 14۔گہرا سانس لیجیے…یہ دماغ پُرسکون کرتا ہے۔ 15۔ہر بے مقصد شے سے نجات پائیے…بیکار کا بوجھ خود پر سوار نہ رکھیے۔ 16۔جو چیز نقصان دہ نہیں،وہ آپ کو مضبوط بناتی ہے۔ 17خوش رہنے میں کوئی دیر نہیں لگتی…مگر صرف اور صرف آپ ہی خوشی پا سکتے ہیں۔ 18۔صاف کپڑے پہنئیے ،گھر کی صفائی کیجیے،عمدہ کھانا پکائیے، یہ امور کسی خاص موقع کے لیے نہ چھوڑیے…آج کا دن ہی خاص ہے۔ 19اگر آپ تیاری نہیں کر سکے،تو خود کو بہائو کے رخ چھوڑ دیجیے۔ 20۔جب بھی کوئی آفت یا پریشانی حملہ کرے،تو ان الفاظ سے اس کا مقابلہ کیجیے…پانچ برس بعد تمھاری کیا حیثیت ہو گی؟ 21۔ہمیشہ زندگی کا انتخاب کیجیے۔ 22۔مادی قوت کے بجائے روحانیت پر بھروسہ رکھیں۔ 23۔لوگ آپ کے متعلق کیا سوچتے ہیں،اس کی بالکل پروا نہ کیجیے۔ 24۔وقت ہر زخم مندمل کر دیتا ہے… وقت کو وقت دیجیے ۔ 25۔حالات کتنے ہی اچھے یا برے ہوں،بدل جاتے ہیں۔ 26۔کرشموں پر ایمان رکھیے۔ 27۔زندگی کا حساب کتاب نہ رکھیے، بلکہ وہ جیسی بھی ہے،گزاریے۔ 28۔بڑھاپاجوانی میں موت آ جانے سے بہتر ہے۔ 29۔یاد رکھیے ،آپ کے بچوں کو صرف ایک بار ہی بچپن ملے گا۔ 30۔آخر میں صرف محبت ہی کام آتی ہے۔ 31۔روزانہ باہر کا چکر ضرور لگائیے… ہر سو کرشمے آپ کے منتظر ہیں۔ 32۔اگر دنیا کے سبھی انسان اپنے اپنے مسائل پاتال میں پھینک دیں اور آپ ان کا معائنہ کریں، تو اپنے اٹھانے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے۔ 33۔حسد کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔آپ کو جو حاصل ہے،اس پر قانع رہیے اوراپنی تمنائوں کو لگام دیجیے۔ 34۔ہمیشہ سوچئیے…بہترین وقت آنے والا ہے۔ 35۔آپ کا موڈ کیسا بھی ہو،اُٹھیے،تیار ہوئیے اور اپنا آپ دکھائیے۔ 36۔سرتسلیم خم کیجیے۔ 37۔زندگی تیر سے بندھی کمان ہے،پھر بھی اِسے عظیم تحفہ سمجھیے۔
Tuesday, February 25, 2014
ناشکرے انسان سے رب کا مکالمہ
ناشکرے انسان سے رب کا مکالمہ !
نحنُ خلقناکم فلو لا تصدقون ؟
ھم نے تمہیں بنایا اور تم ھی ھماری بات پر اعتبار نہیں کرتے،نہ ھماری بات کو سچ سمجھتے ھو اور نہ اس کی تصدیق کرتے ھو ! ویسے کمال کرتے ھو !
تم جیسا جھگڑالوُ تو پوری مخلوق میں نہیں ھے،، اور ناشکرا تو تــُــو کمال کا ھے ! ھم نے تمہیں صدیوں امانت کے طور پہ سنبھالے رکھا،جہاں بھی تمہیں شفٹ کیا وھیں تیرا خاص خیال رکھا جیسے ھمیں تیرے سوا کسی سے دلچسپی ھیں نہیں ! زیادہ دور نہ جا ،، ھاں صدیوں پیچھے نہ جا صرف تیرے پردادا سے تمہیں شروع کرتے ھیں،، ھم نے تیرے پردادا کو اس وقت تک مرنے نہیں دیا جب تک تمہیں اس سے نکال کر آگے منتقل نہیں کر دیا ! تیرے پردادا کو تو بیماری سے مار دیا مگر تمہیں اس بیماری سے بچا لیا ،پھر تیرے دادا کو ھم سنبھالے سنبھالے پھرتے تھے کہ اس میں میری ایک امانت ھے ،، اسےھر حادثے سے بچائے رھے تا آنکہ تجھے اس میں سے بچا نکالا اور آگے منتقل کر دیا ! اور تیرے باپ میں بھی ھم تجھ پر نظر رکھے رھے کہ کہیں تو کھو نہ جائے ،تجھے کچھ ھو نہ جائے !
تــــــُــو پیدا ھو گیا !
قتل الانسانُ مآ أکفــــــرہ ! من ای شئً خلقہ ؟ من نطفہ !
مارا جائے یہ انسان ،،'گولہ لگے اسے" یہ کتنا ناشکرا ھے !
کس چیز سے اسے بنا کھڑا کیا؟ نطفے سے !
چلـــــــو تمہیں اس کی یاد نہ ھو گی مگر جو تجھ سے نکلتا ھے اسے دیکھا ھے ؟
اَفَرایتم ما تمنون ؟ جو تم ٹپکاتے ھو ،اسے تم دیکھتے ھو ناں ؟
پھر اس میں سے جو ھم بنا کھڑا کرتے ھیں وہ بھی دیکھتے ھو ناں ؟
یہ کون بناتا ھے تم یا میں ؟؟ تم تو اسے ھاتھ لگانا پسند نہیں کرتے !
تم تو اس سے کراھت کرتے ھو ! اسے بے وقعت گندگی اور فضول چیز سمجھتے ھو ! اس بے وقعت کو قیمتی کون بناتا ھے ،،میں کہ توُ ؟ اس مکروہ کو پسندیدہ کون بناتا ھے،،میں یا تُو؟؟ جس سے تو نفرت کرتا تھا اس میں سے محبوب بنا کر کون کھڑا کرتا ھے ؟ جسے تو چھونا پسند نہیں کرتا تھا ،اس میں سے چومنے چاٹنے والا کون پیدا کرتا ھے،،؟؟
پھر بھی تو ھمارا اعتبار نہیں کرتا،،ھمارے وجود کی گواھی نہیں دیتا ،تو گلی گلی چوک چوک ھمارے تذکرے نہیں کرتا ،وہ گواھی جو تو نے عہدِ الست میں دی تھی وہ تیرے پاس ھماری امانت تھی اس امانت کی خاطر ھم نے تجھے بھی امانت سمجھ کر تجھے صدیوں سنبھال سنبھال کر رکھا اور جب گواھی دینے کا وقت آیا تو ،تو نے صاف کہہ دیا کہ ،، ان ھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا وما نحن بمبعوثین،،یہ دنیا کہ زندگی خود بخود ھے ھم خود ھی جیتے ھیں اور خود ھی مر جاتے ھیں اور ھمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا !( المومنون 37 )
قتل الانسان مآ اکفرہ ! مارا جائے یہ انسان یہ کتنا ناشکرا ھے !
جو پانی تم پیتے ھو کبھی اسے سوچ کی نظر سے بھی دیکھا ھے ؟
اسے بادلوں سے ھم برساتے ھیں یا تم ؟ اگر ھم چاھئیں تو اسے کھارا بنا دیں ،پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟ اب اسے کہاں سے اٹھاتے ھیں کیسے بہاتے ھیں باقی کو پہاڑوں پہ برسا کر محفوظ کرتے ھیں پھر اسے تیرے پیچھے پیچھے بھیجتے ھیں ، دریا پاس نہ ھو تو ھم اسے زمین کی رگوں میں دوڑا کر تیرے گھر کے پاس لاتے ھیں کہ تو اسے کنوئیں سے کھینچ لے !
جو تم مٹی میں دبا کر گھر لوٹ آتے ھو ،اسے کون اگاتا ھے اور تیرے پیچھے بوریاں بھر کر بھیجتا ھے ،، ؟ اگر ھم چاھتے تو اگنے سے پہلے اسے مار دیتے اور تو دُھائیاں دیتا پھرتا کہ میں برباد ھو گیا میری تو اصل بھی ضائع ھو گئ مجھے تو چَـٹی پڑ گئ !
تم اپنے آپ کو تو نہیں بھولے، اپنے خالق اور پالنے والے کو کیسے بھول گئے؟ ما غرک بربک الکریم ؟ اپنے رب کریم کو کیسے بھولے؟ کس نے بھلا دیا ؟ تجھے اپنی ذات یاد ھے پھر اس ذات کو بنانے والا کیونکر بھول گیا؟ تجھے عارضی پتہ یاد ھے تو مستقل پتہ کیسے بھول گیا؟ ھم نے تجھے تین اندھیروں میں سب سے چھپا کر بنایا اور صلاحیتوں سے اس طرح بھر دیا جس طرح شہد کا چھتہ شہد سے بھرا ھوتا ھے،، ھم ھی تیرا باعزت حوالہ ھیں،، تو دوسری نسبتوں سے اپنے کو باعزت ثابت کرنا چاھتا ھے ! ھم نے تجھے بھیجا، اپنے کام سے بھیجا کہ ھماری ھستی کی دھوم مچا دو دنیا میں اور پھر تمہیں ھمارے پاس آ کر جوابدھی کرنی ھے کہ ھمارے وجود کی گواھی دے کر آئے ھو یا تم بھی جا کر مخالف پارٹی سے مل گئے تھے اور ھمارے ھی خلاف گواھی دے آ ئے ھو ،،؟ !
دکھ اور سکھ کی حکمت
دکھ اور سکھ کی حکمت !
دکھ اور شکست دونوں کا کوئی وارث نہیں ھوتا !
جبکہ کائنات کے خالق نے دونوں میں بہت حکمت رکھی ھے !
جب آپ ایک دوا مسلسل لیتے رھتے ھیں تو پھر بدن اس کے خلاف مزاحمت کرنے پر قادر ھو جاتا ھے، اب وہ دوا اس کے لئے چاکلیٹ بن جاتی ھے، ڈاکٹر اسے فوراً تبدیل کر دیتا ھے !
جس لمحے آپ کو کوئی خوشی نصیب ھوتی ھے تو ٹھیک اگلے لمحے سے اس کا زوال شروع ھو جاتا ھے اور ھر آنے والا لمحہ ایک سوراخ کی مانند ھوتا ھے جس میں سے وہ خوشی قطرہ قطرہ ٹپک کر ختم ھو جاتی ھے،، نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ اب آپ کو خوش ھونے کے لئے خوشی کی مزید ھائی پوٹینسی ڈوز چاھئے،، اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ھے یہانتک کہ جب بندے کے پاس دنیا کی ھر چیز موجود ھوتی ھے مگر خوشی نہیں ھوتی ! اب اسے صرف ایک ھی دوا نظر آتی ھے جو اسے تھرل دے سکتی ھے،کچھ نیا کر سکتی ھے اور وہ موت ھے ! یورپ میں خود کشی کا تناسب امیر گھرانوں میں زیادہ ھے !
غریب کی خوشی بھی چھوٹی سی ھوتی ھے،، وہ شروع میں ھی نس میں لگنے والے ٹیکے کی طرح خوشی کا انجیکشن نہیں لیتا ، بلکہ خوشیوں کی بہت ھلکی سی ڈوز لیتا ھے،، اس پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ھے اجر بھی لیتا ھے اور اگلی خوشی کا مزہ بھی !
دکھ پہلی خوشی کو نیوٹرلائز کر دیتا ھے، اس خوشی کے مضر اثرات کو زیرو کر کے انسان کو پھر نئ خوشی کے لئے تیار کر دیتا ھے،جس طرح کسان فصل لینے کے بعد اس زمین کے بخیئے ادھیڑ دیتا ھے، اس میں دو پھالی راجہ ھل چلا کر نیچے کا حصہ اوپر اور اوپر کا نیچے کر دیتا ھے،، اسے کھاد دیتا ھے اور سہاگہ چلاتا ھے،یوں اسے نئ فصل کے لئے تیار کر دیتا ھے،، اگر انسان امیری میں غریبوں کے درد کو اپنے اوپر وارد کرتا رھے ، اس درد کو محسوس کرتا رھے اور اس کا مداوہ کرتا رھے تو اب اسے اپنے دکھ کی ضرورت نہیں رھتی،، اور اللہ پاک اسے ذاتی دکھوں سے دوچار نہیں کرتا ! نیز غریبوں کی دعائیں اس کے مصائب کے خلاف ڈھال کا کام کرتی ھیں !
جب کسی مریض کو 500 روپے بھی دے دو تو جو جو اور جس قسم کی دعائیں وہ دیتا ھے سن کر انکھیں بھیگ جاتی ھیں ،،یہ 15 بیس درھم ھم یہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر جھٹ خرچ کر دیتے ھیں جبکہ کسی اور کے لئے یہی 20 درھم زندگی موت کا مسئلہ ھوتے ھیں ! کبھی اسپتال کے ڈینگی وارڈ کے باھر جا کر دیکھئے، کچھ لوگ سر پکڑے بیٹھے نظر آئیں گے ! پوچھیئے گا تو جواب ملے گا ، ڈاکٹر نے بولا ھے کہ خون کی فوری ضرورت ھے،، آپ اسے کہیئے کہ پھر بیٹھے تماشہ کیا دیکھ رھے ھو جا کر جلدی سے خون لاؤ !! وہ پلٹ کر کہے گا کیسے لاؤں کہاں سے لاؤں میرے پاس تو ٹیکسی کا کرایہ بھی نہیں ! یہ وہ جگہ ھے جہاں آپ کسی کی جان بچا کر اپنی گردن آخرت میں آزاد کر سکتے ھیں ! بات صرف 20 ھزار کی ھے،، 20 ھزار سے زیادہ خون نہیں لگتا مگر کچھ بچے اپنی ماں کی پرشفقت گود سے محروم ھونے سے بچ جاتے ھیں،، کچھ بچے یتیم ھونے سے بچ جاتے ھیں،،
جو لوگ سود نہیں کھانا چاھتے مگر بینک میں پیسہ رکھنا بھی ان کی مجبوری ھے وہ پیسہ ان لوگوں کو جان بچانے کے لئے دے سکتے ھیں،، وہ ھمارے لیئے ناجائز ھے،، ان اضطرار والوں کے لئے جائز ھے ! لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کر کے اپنے حصے کا درد وھاں محسوس کر لیں گے تو اپنے دکھوں سے بچے رھیں گے ! کسی کے بچے کی ٹانگ ٹوٹنے پر اپ اپنے بچے والا درد محسوس کر لیں گے اور اس کے علاج کے لئے بھاگ دوڑ کریں گے تو آپ کے بچے کی ٹانگ توڑ کر آپ کو دکھ دینے کا پلان اللہ پاک منسوخ کر دیں گے کہ اس نے اپنے مقدر کا درد وصول کر لیا ھے ! یوں آپ کو اجر بھی ملے گا،، گھر سے مصیبت بھی دور رھے گی اور آپ کا بچہ بھی محفوظ رھے گا اور آپ کے قلب و نظر میں رقت و گداز بھی رھے گا اور آپ رب کے قریب بھی ھو جائیں گے
Subscribe to:
Posts (Atom)