کوئی مانے یا نہ مانے ،آج مانے یا بیس سال کی چخ چخ اور ٹینشن کے بعد مانے مگر حقیقت یہی ھے کہ گھر میں امن و سکون زن مریدی سے ھی حاصل ھوتا ھے ! اپنے اختیارات اپنی خوشی اور دل و جان کی گہرائیوں کے ساتھ کسی کو سونپ دینا،، محبت اسی کا نام ھے اس کے بعد ھر جھگڑا ختم ھو جاتا ھے - اسی کو انڈر اسٹینڈنگ کہتے ھیں،، جو لوگوں میں چھ سات بچے پیدا کر کے بھی نہیں ھوتی ! البتہ اپنی گاڑی سے دو ماہ میں انڈر اسٹینڈنگ ھو جاتی ھے،وہ پیٹرول کتنا کھاتی ھے،کہاں پر سوئی ھو تو کتنے کلومیٹر نکال لیتی ھے،آئل کب تبدیل کرنا ھے ،وغیرہ وغیرہ مگر میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پتہ نہین چلتا کہ کس بات پہ غصہ آتا ھے،کس بات کا تذکرہ پسند نہیں کرتا - اس کی عادات و اطوار کیا ھیں سونے جاگنے کے اوقات کیا ھیں ،، بس چار چیزوں کی ریڈنگ کرنی ھوتی ھے اور اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنا ھوتا ھے،" یا اپنا کسے نوں کر لے یا آپ کسے دا ھو بیلیا "کسی ایک کو ھتھیار ڈالنے ھونگے تو جنگ بند ھو گی اور گھر امن و امان کا گہوارہ بنے گا - اور جو محبت کرے گا ھتھیار وھی ڈالے گا ،، وہ عورت جس کا بچہ دوسری عورت نے اٹھا لیا تھا ، جب دونوں کا جھگڑا قاضی کے سامنے پہنچا تو دونوں عورتیں ثبوت فراھم کرنے میں ناکام ھو گئیں ،جس پر قاضی نے فیصلہ دیا کہ بچے کو کاٹ کر آدھا آدھا دونوں عورتوں کو تقسیم کر دیا جائے - جس پر اصلی ماں نے ھتھیار ڈال دیئے اور دعوی واپس لے کر بیٹا دوسری کو سونپ دیا کہ کم از کم زندہ تو رھے گا۔جبکہ نقلی ماں خاموش کھڑی رھی جس پر قاضی نے سچ جان لیا اور بچہ اصلی ماں کو سونپ دیا !! جس کو گھر ، اولاد اور اولاد کا مستقبل عزیز ھو گا وہ ضد چھوڑ کر حالات سے سمجھوتہ کر لے گا ! اس کا نام ھے انڈر اسٹینڈنگ - مرد کو ھینڈل کرنا اصل میں یہ سیٹ ھی عورت کی ھے،،عورت ھی اس کو پیدا کرتی ھے ،زنانہ وارڈ میں اس کا نزول ھوتا ھے،عورتیں ھی اس کو خوش آمدید کہتی ھیں،، عورت ھی اسے پالتی اور اس کی تربیت کرتی ھیں اچھی ھو یا بری، پھر ھار سنگھار کر کے اسے دوسری عورت کو سونپ دیتی ھے،، لہذا ھر ماں یہ دیکھ لیا کرے کہ وہ اپنا لعل کس کو سونپ رھی ھے ! اس کی میت بھی عورتوں میں ھی پڑی ھوتی ھے،مرد صرف غسل دینے کے لیئے اٹھانے آتے ھیں ! عورت کے بگاڑے کو عورت ھی سدھار سکتی ھے، ماں کے بگاڑے ھوئے کو بیوی ھی سدھار سکتی ھے ،، اور ماں کے سدھارے کو بیوی ھی بگاڑ سکتی ھے،، اس کا پاس ورڈ ازل سے عورت کے پاس ھے،، اور یہ ھمیشہ ماں یا بہنوں یا بیوی کے درمیان فٹ بال بنا رھتا ھے جو اپنی اپنی مرضی کی گیم اس پر کھیلتی اور اس کی سیٹنگز تبدیل کرتی رھتی ھے،، ماں کی سیٹنگز بیوی رات کو تبدیل کر دیتی صبح اماں ایک پھونک سے وہ ھٹا کر دوبارہ فیکٹری سیٹنگز ریسٹور کر لیتی ھے،، بس اتنی ساری مرد کہانی ھے ! عموماً اماں جی اپنی سلطنت میں اضافے کے لئے بیٹے کو بطورِ چارہ استعمال فرماتی ھیں تا کہ کسی غیر کی پالی پوسی پڑھی پڑھائی بیٹی ھاتھ آ جائے اور یوں وہ اپنے اختیارات کو دو گھروں تک وسیع کر لیں ! اس کے لئے شادی سے پہلے ھنگامی دورے ھوتے ھیں، لنچ کہیں اور ھوتا ھے تو برنچ کہیں اور ڈنر کہیں اور ھوتا ھے تو ونر کوئی اور ،، اس بھاگ دوڑ کے بعد آخر ایک گھر منتخب کر لیا جاتا ھے اور یوں مچھلی پکڑ کر گھر لائی جاتی ھے،، شادی کے بعد ٹیسٹ کیس کے طور پر اماں جی اپنی بیٹیوں اور بہو کا تقابل کرتی ھیں،، کوشش کرتی ھیں کہ بہو اور بیٹا جہاں جائیں ایک آدھ بہن ساتھ جائے جو ان کی سرگرمیوں میں نظر رکھے - اگر بہن کو بھی ساتھ لے کر جانا ھے تو پھر بہتر ھے ھنی مون پہ نہ ھی جایا جائے ،، کیونکہ اس میں دو نقصانات ھوتے ھیں،، پہلا تو یہ کہ جس محبت کے ماحول کے لئے انسان جاتا ھے وہ کبھی حاصل نہیں ھوتا،،یہ ایسا ھی سماں ھوتا ھے جیسے افطاری سے پہلے پکوڑے سموسے اور روح افزاء سامنے رکھ کر بیٹھنے والوں کا ھوتا ھے،، بہن بھی کوشش کرتی ھے کہ وہ نہ صرف بھابھی اور بھائی کو خلوت میسر نہ آنے دے بلکہ وہ بس میں بھی کوشش کر کے میاں بیوی کے درمیان دیوارِ برلن بن کر بیٹھتی ھے،دوسرا بہن واپس آکر جو غلط رپورٹنگ کرتی ھے وہ فساد کی پہلی چنگاری ھو تی ھے،، یوں ماں کو بیٹا ھاتھ سے جاتا نظر آتا ھے اور اسے احساس ھوتا ھے کہ کشمیر لیتے لیتے مشرقی پاکستان بھی ھاتھ سے گیا ! دوسرا ٹیسٹ یہ ھوتا ھے کہ بیٹا جو چیز اپنی بیوی کے لئے خریدے وھی چیز بہن کے لئے بھی خریدے ،، چاھے وہ سونا ھو یا کپڑا ! سوال یہ ھے کہ بیٹے نے دو شادیاں نہیں کیں کہ وہ دونوں میں انصاف کرے،، زیادہ جنتی جوان سوچتے ھیں کہ بہن کے لئے پیسے نہیں تو بیوی کے لئے بھی تحفہ نہیں خریدنا،، یوں بھاوج اور نند کا تنازعہ شروع ھوتا ھے،، تنازعات میں مرد کی اھمیت بڑھ جاتی ھے،، زیادہ تر مرد مارکیٹنگ کے اس دور میں اپنی مارکیٹ ڈاؤن نہیں ھونے دیتے، وہ ماں کو بھی گولی دیتے ھیں اور بیوی کو کیپسول،، جو ایک طرف کا ھو جائے وہ چلا ھوا کیپسول گنا جاتا ھے - مگر مرد ری فِل قسم کا کارتوس ھے،ذرا سا بیوی کی طرف سے شکوہ پیدا ھوا تو اسے اپنا ریٹ گرتا ھوا محسوس ھوتا ھے،، اب یہ اس بہن کے گھر جا گھسے گا جو بیوی کی سب سے زیادہ مخالف ھے، کھانا وھاں سے کھا کر آئے گا،، اور منہ سوجا سوجا سا بنا لے گا چاھے اس بہن نے کچھ بھی نہ کہا ھو، بیوی کھانے کو پوچھے گی تو بتائے گا،، بہن کے یہاں کھا آیا ھوں،، بیوی کا تراہ نکل جائے گا، اب وہ اس رویئے کا ذمہ دار نند کو سمجھے گی،،یوں پھر قبضے کی جنگ شروع ھو جائے گی اور مرد کی مارکیٹ چڑھ جائے گی ،، یہ بیوی کی کچھ باتیں ماں سے شیئر کرتا رھتا ھے یوں ماں کی گڈ بُکس میں رھتا ھے،اور جنت کی ریزرویشن پکی رکھتا ھے اور فی الآخرۃِ حسنۃ کا پتہ ھاتھ میں رکھتا ھے ،ادھر ماں کی دو چار باتیں بیوی کو بتا کر فی الدنیا حسنۃ بھی کیش میں لیتا ھے،، بس تھوڑی سی ذلالت اس دن ھو جاتی ھے جس دن وہ لڑائی میں ایک دوسرے کو بتا دیتی ھیں کہ اگر میری تمہارے ساتھ کی ھے تو تمہاری بھی مجھے بتاتا ھے، ! یہ ایک فساد ٹائپ گھر کا ماحول ھے مگر بدقسمتی یہ ھے کہ یہ اکثریت کا فسانہ ھے ! اس قسم کے ماحول میں پیدا ھونے والے بچے ھر وقت جنگ کے ماحول میں پلتے بڑھتے ھیں - دادی ،اور پھوپھو کو اپنی والدہ کا دشمن سمجھتے ھیں، والد کو بھی بے انصاف سمجھتے ھیں، مجبوراً والد کے ساتھ جڑے رھتے ھیں مگر اندر سے اس کے مخالف ھوتے ھیں،،حالانکہ مرد اگر اپنی بیوی اور ماں سے مخلص نہ بھی ھو تو بھی اولاد کے ساتھ 100٪ مخلص ھوتا ھے،،لیکن یہی وہ جگہ ھے جہاں انسان نہ آگے کا رھتا ھے اور نہ پیچھے گا،، آپ گرم دیگچے کو کرتے ھیں مگر گرم سالن ھوتا ھے،،اور آپ ٹھنڈا برتن کو کرتے ھیں مگر ٹھنڈا سالن ھوتا ھے،، جس عورت کی گود میں آپ نے اپنا مستقبل اور دل کا ٹکڑا رکھا ھے اسے تتے توے پر بٹھا کر آپ کیسے گمان کر لیتے ھیں کہ اولاد ٹھنڈی رھے گی ؟ اب اولاد نہ تو پھوپھو کے گھر سے شادی کرتی ھے اور نہ چچا کے گھر سے،، یہی وجہ ھے کہ خاندان میں رشتوں کی بجائے باھر کا رجحان ھے،ایک تو یہ ڈر ھوتا ھے کہ جو ھم نے کیا ھوا ھے اس کے نتیجے میں کہیں ھماری بیٹی کے ساتھ بدلہ نہ چکایا جائے،، دوسرا طرف عورت کو یہ ھوتا ھے کہ جنہوں نے زندگی بھر میرے شوھر کے کان بھرے ھیں وہ میرے بیٹے کو کب بخشیں گے، اس طرح دونوں فریق اپنے کیئے سے ڈرتے ھوئے رشتوں کے لئے باھر دھکے کھا رھے ھوتے ھیں !اگر آپ چاھتے ھیں کہ آپکی اولاد آپ سے پیار کرے آپ سے مخلص رھے، اور اچھی تعلیم و تربیت پائے تو بیوی کے ساتھ تعلقات کو کبھی خراب مت ھونے دیں،، شریعت نے والدین کے حقوق مقرر کر دیئے ھیں اور ان کی ادائیگی بغیر کسی کا حق مارے بھی ھو سکتی ھے،،نماز میں سب سے اھم رکن سجدہ ھے جب سب کچھ کر کے انسان اپنا سر رب کے قدموں میں رکھ دیتا ھے،،مگر نماز صرف رکوع میں سر رکھے رھنے کا نام نہیں ھے،اس میں قیام بھی ھے،رکوع بھی ھے، قومہ و جلسہ و قعدہ بھی ھے،،یہ سجدے سے کم اھم ھو سکتے ھیں،،مگر نماز کے ھونے میں ان کا وجود بھی ضروری ھے،،ماں اگر سجدے کا مقام بھی رکھتی ھے تو بیوی قیام اور اولاد رکوع والی جگہ پہ رکھ لیں مگر دین اور دنیا ان سب کے ساتھ مکمل ھوتے ھیں،، نا اںصافی اللہ پاک کو سخت ناپسند ھے اور وہ اسے ظلم سے تعبیر کرتا ھے، اور ظالموں سے نفرت بھی کرتا ھے اور ان پر لعنت بھی کرتا ھے،،ماں سے محبت اپنی مٹھاس رکھتی ھے ،بیوی سے محبت اپنی مٹھاس رکھتی ھے اولاد کا پیار اپنا مزہ دیتا ھے،،ان سب مزوں کا نام زندگی ھے،، عیسی علیہ السلام کو پھانسنے کے لئے یہود نے ایک مسئلہ پیش کیا کہ حکومت کو ٹیکس دینا چاھئے یا نہیں ؟ عیسی علیہ السلام نے فرمایا اس درھم کو پلٹو ! اس پر قیصر کی تصویر بنی تھی،، آپ نے فرمایا جو قیصر کا ھے وہ قیصر کو دو -جو اللہ کا ھے وہ اللہ کو دو،،یعنی درھم پر قیصر کی مہر ھے اور تم پر اللہ کی مہر ھے ! ماں بیوی والے حصے پر شب خون نہ مارے،، اور بیوی ماں کے حصے کو ھڑپ نہ کرے،، ! جو ماں کا ھے وہ ماں کو دو اور جو بیوی کا ھے وہ بیوی کو دو !
Tuesday, April 22, 2014
خواتین کی خدمت
خواتین کی خدمت میں " شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !
سوال !
دنیا کا کوئی میک اپ نہ تو عورت کو خوش کر سکتا ھے اور نہ اس کے ھونٹوں پہ مسکراھٹ لا سکتا ھے !
جواب !
1-یہ صرف آپ کا مسئلہ نہیں تقریباً ھر عورت کا یہی خیال ھے کہ یہ میک ان کے ھونٹوں پہ مسکراھٹ نہیں لا سکتا ،،مگر حکم یہ ھی ھے کہ عورت جب اپنی عصمت کی حفاظت کرے،، نماز روزے کی پابندی کرے اور شوھر جب اس کی طرف دیکھے تو خوش ھو جائے ،،، اس حال میں مر جائے تو جنت کے جس دروازے سے چاھے جنت میں چلی جائے ! شاید جنت بھی آپ کے ھونٹوں پہ مسکراھٹ نہ لا سکے ! گھریلو معاملات میں گلے شکوے اپنی جگہ اور ھر جگہ ھوتے ھیں ، مگر انسان ان کی وجہ سے کسی دوسرے کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا ! اب آپ کہیں گی کہ مرد بھی عورت کے حقوق کا اسی طرح خیال رکھے،، تو گزارش ھے کہ مرد تو چکی کے دو پاٹوں میں پس رھا ھوتا ھے ! وہ اگر یہ تسلیم کر لے کہ اس کے والدین یا بھائی اور بھابھیاں یا اس کی بہنیں اس کی بیوی کے ساتھ زیادتی کر رھی ھیں تو یہ حاتم طائی کی قبر پر لات ھے، عورت کو چاھئے کہ وہ اس بات کو appreciate کرے ، اور بات کو ختم کردے ،، مرد نہ تو ماں کو مار سکتا ھے، نہ طلاق دے سکتا ھے اور نہ اس کا خرچہ بند کر سکتا ھے،، اب آپ یا کوئی اور خاتون یہ تجویز کر دے کہ مرد کو اپنی ماں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاھئے بیوی کی ایف آئ آر کے بعد ؟ تا کہ ھم بھی اس پر عمل کر سکیں اور زوجہ کو خوش کر سکیں،، جواب دے کر ثوابِ دارین حاصل کریں !
2- اگر مرد اپ کے لشکارے پر ھر کسی کے گلے پڑے گا اور گھر کو مارشل لاء کورٹ بنا کر رکھے گا تو بھی بدنامی آپ کی ھو گی کہ شوھر کو ھر وقت چابی دے کر رکھتی ھے اور لگائی بجھائی کرتی ھے ! آگے چل کر یہ صورتحال آپکی اولاد کے لئے مصائب کھڑے کر دے گی،، لوگ ایسی ماں کی بیٹی کو بیاھتے ھوئے سو بار سوچتے ھیں جس کی ماں شوھر کو چابی دیتی رھتی ھے،، نیز اس کے بیٹوں کو بھی رشتے سوچ سمجھ کر دیئے جاتے ھیں کہ جو شوھر کو مسلم لیگ نون کا شیر بنا کر رکھتی تھی بیٹوں کو تو بھیڑیا بنا کر رکھے گی،، بندہ بندے کا دارو ھوتا ھے،، صبر کا پھل میٹھا ھوتا ھے،حکمت سے چلنا پڑتا ھے ! شوھر کو یہ تو بتایا جا سکتا ھے کہ یہ کام کرنا ھے،،مگر کس طرح کرنا ھے اس کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیں وہ حکمت سے مناسب موقعے پر کر دے گا،، یہ اصرار کرنا کہ ابھی کرو ،، اسی طرح ھے جیسے ڈرائیور کو کمانڈ دینا کہ سلو ٹریک سے یو ٹرن کرو ! ،، وہ پہلے اپنے مطلوبہ ٹریک میں پہنچے گا ،، پھر یو ٹرن کا فیصلہ کرے گا ! یاد رکھیں وہ چاروں طرف دیکھ رھا ھے، دائیں بائیں سامنے اور بیک میرر ،، اور آپ صرف ایک سائڈ پہ نظریں جمائے ھوئے ھیں،، وہ جو دیکھ رھا ھے آپ نہیں دیکھ رھیں !
آسمانی جوڑا
عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو وھاں سے بے روزگار ھونے والے واپس اپنے اپنے وطن میں پہنچے جہاں لوگوں نے انہیں دنیا کے دونوں رخ مرنے سے پہلے ھی دکھا دیئے ورنہ یہ رخ مرنے کے بعد ھی سامنے آتے ھیں !
مــرنے والا قـبر میں کیا چین پائے بعـدِ دفن !
موت نے دنیا کے دونوں رخ دکھائے بعدِ دفن !
مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے بعدِ دفن !
زندگـــی بھــر کی محبت کا صــلہ دینے لگے !
لوگوں نے منگنیاں توڑ دیں،رشتے ناتے ختم کر دیئے ،،وہ جو دعوتوں پہ دعوتیں کیا کرتے تھے انہوں نے مانگے کا کمبل بھی ادھار نہ دیا ! پانچ سات سال کے بعد وہ مہاجرینِ کویت واپس کویت تو آگئے مگر اپنے ساتھ تجربوں کی دنیا اور کہانیوں کے انبار بھی سمیٹ لائے !
ان میں وقاص صاحب کی فیملی بھی تھی،جس میں ان کی بیوی فرح دیبا اور اکلوتا بیٹا فرحان بھی تھا ! فرحان سے پہلے ان کے تین بچے مس کیریج ھو چکے تھے اور اس کے بچنے کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے مزید اولاد کی امید پر پانی پھیر دیا تھا،یوں گھوم پھر کر فرحان ھی ان کی دنیا تھا ! پاکستان جاتے ھی انہوں نے اسے اپنے گھر کے سامنے چکلالہ اسکیم نمبر 3 میں ایک اکیڈیمی میں آٹھویں کلاس میں ڈال دیا ! وہ فرحان کا کلاس میں پہلا دن تھا جب مس طیبہ کلاس میں داخل ھوئی ! تمام بچوں کے ساتھ فرحان بھی ان کے استقبال کے لئے کھڑا ھوا،، پھر سارے بچے بیٹھ گئے مگر فرحان کھڑے کا کھڑا رہ گیا، وہ ٹرانس میں چلا گیا تھا ! مس طیبہ جو صرف ایف اے کر کے اکیڈیمی جوائن کرنے پر مجبور ھو گئ تھی کیونکہ اس کے والد جو سی ڈی اے میں ملازم تھے اپنی موٹر سائیکل پہ ڈیوٹی پہ جا رھے تھے کہ ایک ویگن کی ٹکر نے ان کی دنیا اندھیر کر دی ،، ان کی کہولے کی ھڈی کچھ اس طرح ٹوٹی تھی کہ اسے دوبارہ ٹھیک طرح سے جوڑنے کے لئے ڈھائی تین لاکھ کا خرچہ آتا تھا جو ان جیسے دیانتدار شخص کے لئے ناممکن تھا،، ان کے دو چھوٹے بیٹے اور ایک بڑی بیٹی تھی جو سیکنڈ ایئر میں تھی،، حادثے کے بعد انہیں کام سے فارغ کر دیا گیا یوں ان کی روزی روٹی کا ذریعہ جاتا رھا ! کسی دوست نے مہربانی کر کے ان کی سیکنڈ ایئر کرنے والی بیٹی کو کام دلوا دیا یوں ، کم ازکم فوری ضرورتوں کا سامان ھو گیا ! مس طیبہ فرحان سے عمر میں کچھ زیادہ بڑی نہیں تھی، فرحان کے لئے مسئلہ ان کی معصوم اور بھولی بھالی صورت تھی جس کے بیک گراؤنڈ میں انجانے درد کی کسک نے ان کی صورت میں مزید کشش پیدا کر دی تھی،، اور سب سے بڑی قیامت ان کے دونوں گالوں پہ بننے والے ھلکے ھلکے گڑھے تھے! جنہیں ڈمپل کہا جاتا ھے ! بس یہیں فرحان ٹریپ ھو گیا تھا یا انہی گڑھوں میں ڈوب مرا تھا،، اسے مارنے کے لئے ایک ھی گڑھا کافی تھا،،مگر دوسرے گڑھے کی موجودگی نے اس کے نکلنے کے تمام امکانات ختم کر دیئے تھے ! کہتے ھیں اللہ کچھ لوگوں کو تو دھن کی دولت دیتا ھے تو کچھ کو تن کی دولت دیتا ھے اور کچھ کو من کی ! مس طیبہ کو اللہ پاک نے تن کی دولت کے ساتھ من کی دولت سے بھی نوازا تھا ،وہ نہایت پاک فطرت لڑکی تھی، جسے صرف اپنے والد اور بہن بھائیوں کی فکر تھی ، اس سے آگے کی فکر اس نے کبھی سوچی بھی نہیں تھی !
فرحان جونہی کلاس روم کے دروازے پہ پہنچتا اور کہتا " مِـس " اور مس طیبہ اس کی طرف دیکھتی تو وہ " مے آئی کم ان " کہنا ھمیشہ بھول جاتا اور بس ان کے "یـس " کہہ دینے پر اندر داخل ھو جاتا،، وہ کوشش کرتا کہ مس طیبہ کو خوش رکھے اور ان کی ھر ضرورت پوری کرے ! وہ خود گھر سے دوڑ کر نیل کٹر لے آتا ،، امی کے ھیئر بینڈ جو ابھی پیک پڑے تھے اٹھا لاتا اور اچھا کھانا پکا ھوتا تو لنچ بریک کے دوران مس طیبہ کو لا کر دے دیتا،، مگر وہ یہ سب کچھ امی کے نام سے کرتا ،مس امی نے یہ کھانا بھیجا ھے،،مس امی نے یہ ھیئر بینڈ دیئے ھیں وغیرہ وغیرہ ،جبکہ مس طیبہ کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ کیا ھو رھا ھے ! جب کبھی مس طیبہ کسی دوسرے بچے کو توجہ دیتی تو فرحان کو ھمیشہ برا لگتا ،وہ جیلس ھو جاتا ،،بعض دفعہ مس کی توجہ حاصل کرنے کے لئے وہ کوئی ایسی غلطی کر جاتا ،جس پر وہ اسے خوب ڈانٹتی تو وہ سر جھکا کر نہایت اطمینان سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ سنتا ،صرف اس احساس کے ساتھ کہ وہ اس وقت اپنی پوری ھستی پورے دل و جان سے اس کی طرف متوجہ ھیں !
عـــــــشق کے مراحــــل میں وہ بھی مقام آتا ھے !
آفـــتیں برســـــــتی ھـیں، دل سکــــــون پاتا ھے !
سال پلک جھپکتے گزر گیا اور فرحان کو ھائی اسکول میں داخل کرا دیا گیا ! فرحان تو اکیڈیمی سے نکل گیا مگر مس طیبہ فرحان کے اندر سے نہ نکل سکیں ! وہ آتے جاتے جان بوجھ کر اس وقت اکیڈیمی کے پاس سے گزرتا جب مس طیبہ اکیڈیمی کی وین میں بیٹھ رھی ھوتیں یا اتر رھی ھوتیں وہ پیپلز کالونی ٹینچ بھاٹہ سے آتی تھیں جہاں ان کا دو کمرے کا مکان تھا اور فرحان وھاں جا چکا تھا، وہ ابو کے ساتھ مس طیبہ کے معذور والد کے لئے الیکٹرک وھئیل چیئر لے کر گیا تھا جس کے لیور کے ذریعے وہ خود ھی چیئر کو آگے پیچھے چلا لیتے تھے !
فرحان نے جب بی - اے کر لیا تو کویت کے حالات بھی نارمل ھو گئے تھے جہاں اس کے والد آئل ریفائنری میں کیمیکل انجیئنر تھے ! وزارتِ پیٹرولیم نے اس کے والد کو دوبارہ کال کر لیا تھا یوں فرحان واپس کویت آ گیا اور پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ میں انجیئرنگ میں داخلہ لے لیا،مگر اس نے ھمیشہ کسی نہ کسی طرح مس طیبہ سے رابطہ برقرار رکھا اور والد یا والدہ کے نام پر انہیں تحفے تحائف بھی بھیجتا رھا ،،مگر یہ بات طے تھی کہ طیبہ کو فرحان کے ارادوں کی کوئی خبر نہ تھی !
فرحان خاندانی لڑکا تھا کوئی لچر یا لوفر لفنگا نہیں تھا ! مس طیبہ کے متعلق وہ بےبسی کا شکار تھا ! پتہ نہیں اس کے دل کو کیا ھو گیا تھا ،وہ سوتے میں بھی مس طیبہ کے ڈِمپلز پر ارتکاز کر کے سوتا تھا،، نمازی تو وہ شروع سے تھا جب کے-جی ٹو میں پڑھتا تھا تو بھی نماز گھر کے باھر والی مسجد میں بستہ رکھ کر وضو کر کے پڑھ کر گھر آتا تھا ،، اب تو اسے اللہ سے خاص کام پڑ گیا تھا لہذا اس کی نماز میں گداز پیدا ھو گیا تھا ! وہ اللہ سے رو رو کر عرض کرتا کہ جب تک وہ پاؤں پہ کھڑا نہ ھو جائے ،مس طیبہ کا کوئی پروپوزل نہ آئے اور اگر آئے تو اللہ اس کے دل کو پھیر دے تا کہ وہ اسے ریجیکٹ کر دے ! بس اللہ ھی اس کی پہلی اور آخری امید تھا، انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد انسٹیٹیوٹ نے اسے جاب یا پھر برطانیہ میں اسپیشلایئزیشن کرانے کی پیشکش کی ! والدین کا اصرار تھا کہ وہ برطانیہ جائے مگر فرحان اب اس سے زیادہ دور جانا نہیں چاھتا تھا اس نے فی الحال جاب کو ترجیح دی ، اسپیشلایزیشن زندگی میں کبھی بھی کیا جا سکتا تھا،جبکہ اس کے لئے مس طیبہ کو مزید لمبا کھینچا مناسب نہیں تھا ،، وہ ڈمپلز تک جلد از جلد رسائی چاھتا تھا ! جاب جوائن کر لینے کے بعد والدین اس کی شادی کے پروگرامز بنا رھے تھے کیونکہ اس کے سوا کوئی اور ان کا تھا نہیں ایسے بچے کی نسل چلانے کی والدین کو بہت فکر ھوتی ھے ! والد صاحب اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی کے گھر کرنا چاھتے تھے تو والدہ اپنوں کے لئے اسے رام کرنے کے چکر میں تھیں !
آخر والدہ نے ھی پریشر ککر سے ڈھکن اٹھایا اور وہ بھی اسٹیم نکالے بغیر !
دیکھو بیٹا ھم پاکستان تمہاری شادی کرنے جارھے ھیں ! تم اتنے سال وھاں رہ کر آئے ھو اور دوست دشمن سے آگاہ ھو، تم ان کو بھی جانتے ھو جو مخلص ھیں اور ان کو بھی جو پیسے کے ھیں ! اس لئے اب تم ننہیال میں سے چنو یا ددھیال میں سے مگر مخلص گھرانے پہ ھاتھ رکھنا ! مما اگر آپ لوگوں نے معاملہ میرے اوپر چھوڑا ھے تو پھر یہ برادری کی شرط بھول جائیں ! اگر شادی خوشی کو کہتے ھیں تو پھر شادی کو شادی ھونا چاھئے ! نہ کہ برادری کو ٹانکے لگانی والی کاپر کی تار ! مما میں نے لڑکی چن لی ھے اور بہت عرصہ پہلے چن لی تھی ،، میں اسی سے شادی کرنے جا رھا ھوں ! اچھا وہ لڑکی ھے کون ؟ مس طیبہ !! فرحان نے دھماکہ کیا ،، دیبا فرح کے ھاتھ سے وہ کنگھی گر گئ،، مس طیبہ وہ لڑکی جو تجھے اکیڈیمی مین پڑھاتی تھی؟ ماں نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ھوئے کہا ! جی وھی ،، فرحان نے اطمینان سے جواب دیا ! مگر ،،مگر بیٹا وہ تو تم سے پانچ سات سال بڑی ھے اور پھر ،،،،،
مما یہ زندگی انسان سے کتنی بڑی ھے ! ھزاروں لاکھوں سال ناں ؟ مگر کسی نے آج تک اس زندگی کو اس لئے اپنانے سے انکار نہیں کیا کہ وہ اس سے بڑی ھے ! زندگی تو زندگی ھے بڑی ھو یا چھوٹی ،،مما مس طیبہ میری زندگی ھے، میں ایک ایسی چلتی پھرتی لاش ھوں جس میں زندگی کی رمق بھی نہیں ،،میں اپنی روح پاکستان چھوڑ آیا ھوں ،، ماما آپ ایک کہانی سنایا کرتی تھیں ناں کہ دیو کی جان طوطے میں ھوتی ھے اور اس طوطے کی گردن مروڑ دو تو دیو مر جاتا تھا،، مما وہ طوطا مس طیبہ ھے،، جس دن مجھے یقین ھو گیا کہ وہ مجھے نہیں مل پائے گی یا وہ کسی اور کے لئے ڈولی میں بیٹھ جائے گی،، اس دن آپ کو یقین آ جائے گا کہ فرحان میں روح نہیں تھی وہ ایک بےروح لاش تھا !
دیبا دھشت زدہ ھو کر یہ سب کچھ سن رھی تھی ! وہ تو سمجھتی تھی کہ اس کا یہ نمازی پرھیزگار بچہ جو کسی عورت کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ،، یہ بھی نہیں جانتا ھو گا کہ عورت کیا ھوتی ھے اور کس چیز کے ساتھ کھائی جاتی ھے !! وہ بچہ اس کے سامنے کھڑا فلسفہ بیان کر رھا تھا،، مگر خاندانی عورت تھی اور عقلمند بھی تھی،، اس نے بیٹے کو گلے سے لگا لیا،،بیٹا تم ھی تو ھماری دنیا ھو،، بھلا ھمیں تمہاری خوشی کے سوا اور کیا چاھئے،،میں جاؤں گی ان لوگوں کے گھر تیرے رشتے کے لئے اور تیرے پاپا کو بھی میں راضی کروں گی ،، بس تم اب ٹینشن مت لینا !
جس دن فرحان کی امی رشتہ مانگنے طیبہ کے گھر گئ ،، فرحان کے پاپا بھی اس کے ساتھ تھے جنہوں نے طیبہ کے والد سے ان کے حالاتِ زندگی معلوم کیئے تو انہیں افسوس ھوا کہ اتنی ضرورتمند فیملی کیوں ان کی نظروں سے اوجھل رھی،، اگرچہ یہ لوگ غریب تھے،مگر بات چیت سے سادہ دل اور مخلص لگتے تھے ! طیبہ کے چند رشتے آئے تھے جو طیبہ ھی کے اصرار پر رد کر دیئے گئے تھے کیونکہ وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں متفکر تھی کہ ان کی کفالت کون کرے گا !
طیبہ فرحان کی امی کو ماں کے پاس چھوڑ کر کچن میں چائے بنا رھی تھی جب دیبا نے فرحان کے رشتے کی بات چلائی کہ وہ فرحان کے لئے طیبہ کا رشتہ مانگنے آئے ھیں،، وہ چمچ جس سے طیبہ چائے میں پتی ڈالنے جا رھی تھی اس کے لئے شہتیر بن گئ جسے سنبھالنا اس کے لئے مشکل ھو گیا،، اس نے بمشکل چولہا بند کیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئ !
اس نے نہ تو کبھی فرحان کو اس نظر سے دیکھا تھا اور نہ وہ امید کرتی تھی کہ وہ ایک دن اس کے لئے پروپوزل لیئے آ پہنچے گا ! وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی اور دو باتوں کو بخوبی جانتی تھی،،پہلی بات سوشل اور فائنانشیل اسٹیٹس ،، دوسری بات لڑکے کی عمر ، وہ چائے چھوڑ کر اندر چلی آئی اور اس نے کہا کہ آنٹی میں اس سلسلے میں فرحان سے بات کرنا چاھتی ھوں،، یقیناً اس نے آپ کو مجبور کیا ھو گا ورنہ کوئی ماں اپنے بیٹے کے لیئے اس کی عمر سے بڑی عمر کی لڑکی پسند نہیں کرتی خاص طور پر جب کہ وہ ایک غریب اور لاچار گھرانے سے تعلق رکھتی ھو ! آپ یقین کریں میں نے فرحان کو سوائے ایک اسٹوڈنٹ کے اور کچھ نہیں سمجھا اور نہ میں اس قسم کی ڈورے ڈالنے والی لڑکی ھوں ! آپ مجھے اس سے بات کرنے دیں،، میں اسے اس رشتے سے انکار پر راضی کر لونگی !
وہ ھیسٹیریا کے مریض کی طرح بولے چلے جا رھی تھی یہ دیکھے بغیر کہ اس کے اس بولنے کا اثر فرحان کی امی پر کیا پڑ رھا ھے ! انہوں نے اسے پکڑ کر کھینچا اور سینے سے لگا کر بھینچ لیا ،، وہ بھی مسلسل روئے چلے جا رھی تھیں ! تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے اس الگ گیا،، طیبہ نیم مدھوشی کی کیفیت میں تھی،، دیکھو طیبہ امیری غریبی تو اللہ کے ھاتھ میں ھے، چند سال کے لئے اس نے ھمیں امیروں میں سے نکال کر غریبی کی کیفیت میں اسی لئے مبتلا کیا تھا کہ ھم جان سکیں کہ غریبی نہ کوئی ذات ھوتی ھے اور نہ کوئی جرم،،یہ صرف امتحان ھوتا ھے،، بیٹا آپ نے امتحان پاس کر لیا ھے ،،میرے بیٹے کو بھی امتحان میں کامیاب ھونے دو آخر کو وہ بھی تمہارا اسٹوڈنٹ ھے،،میں اس سے تجھے ضرور ملاؤں گی مگر یہ بات نوٹ کر لو کہ جو اور جس طرح تم نے میرے سامنے بات کی ھے،ویسے اور ویسی بات میرے فرحان سے مت کرنا وہ میرا اکلوتا بیٹا ھے اور میں اسے کھونا نہیں چاھتی،، وہ تمہیں اپنی جان کہتا اور سمجھتا ھے اور اپنے اپ کو تمہارے بغیر بے روح کا لاشہ سمجھتا ھے،، اس سے بات کرنے سے پہلے اس کی بات سن لینا ،، شاید پھر تمہیں بات کرنے کی ضرورت بھی نہ رھے،میں کل تم لوگوں کی دعوت کر رھی ھوں ، وھاں تم اس کے ساتھ تسلی سے بات کر لین گھر واپس آ کر دیبا نے فرحان کو مناسب انداز میں طیبہ کے ردعمل سے آگاہ کر دیا ،، تا کہ جب طیبہ اس سے بات کرے تو وہ ذھنی طور پر تیار ھو اور کوئی شدید رد عمل ظاھر نہ کرے ! مگر ان کا یہ خدشہ عبث تھا کیونکہ فرحان مس طیبہ کے سامنے شدید یا خفیف کوئی رد عمل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا ! وہ کسی اور غیر شعوری کیفیت کا شکار تھا ! جس میں شاید اذیت بھی لذت دیتی ھے،ھم نے کئ نشہ بازوں کو اپنے آپ کو بلیڈ مارتے بھی دیکھا ھے ! اگلے دن طیبہ کی پوری فیملی فرحان کے گھر آئی سب باھر بیٹھ کر گپیں لگا رھے تھے جبکہ فرحان اندر اپنے کمرے میں لیٹا ھوا ٹی وی دیکھ رھا تھا ! دیبا نے طیبہ کو آنکھ سے فرحان کے کمرے کی طرف اشارہ کیا اور دیبا اپنے آپ کو سنبھالتی ھوئی فرحان کے کمرے کی طرف چل دی ! دیبا بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی مگر وہ کمرے میں جانے کی بجائے باھر کھڑکی کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گئ ! طیبہ نے دروازے کو ھلکا سا کھٹکا دیا ، کم اِن ،، اندر سے فرحان کی آواز آئی ،شاید وہ نوکر کے چائے لانے کا منتظر تھا مگر طیبہ کو دروازے سے داخل ھوتے دیکھ کر گویا اسے بجلی کا جھٹکا لگا ،، وہ بالکل 10 سال کے بچے کی طرح اچھل کر اپنے بیڈ پہ اس طرح کمبل لپیٹ کر بیٹھا جس طرح مرغی انڈے سمیٹ کر بیٹھتی ھے ،، طیبہ اس کے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھی تو فرحان نے غیر محسوس انداز میں اپنے آپ کو ٹوئیسٹ کیا کہ اس کی نظر طیبہ کے چہرے پہ نہ پڑے،، آپ کب تشریف لائیں ؟ اس نے طیبہ سے سوال کیا ! جب سے آپ کو ھماری آوازیں آ رھی تھیں، طیبہ نے ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ جواب دیا ،، وہ تو ٹھیک ھے ،مگر میرا مطلب ھے میرے کمرے میں ،،،، وہ امی جان ،، کیا وہ باھر نہیں ھیں ؟ جی امی جان تو باھر ھیں مگر میں آپ سے کچھ عرض کرنے آئی تھی اگر آپ سننے کی زحمت کریں گوارہ کریں تو ؟ جی مس آپ ضرور بات کریں مگر پلیز مجھے آپ مت کہیں ،فرحان نے گڑگڑا کر کہا ،، فرحان میری طرف دیکھیں میں بہت سیریس ھوں آپ میری بات کو توجہ سے سنیں ،،جی مس جب آپ بولتی ھیں تو پھر میرے کان اس کائنات میں کسی اور آواز کو قبول ھی نہیں کرتے ،، رہ گئ بات آپ کی طرف دیکھنے کی تو اگر آپ چاھتی ھیں کہ میں آپکی بات کا جواب بھی دوں تو پلیز مجھے اپنی طرف دیکھنے پر مجبور مت کریں ،،آپ کو دیکھتے ھیں میرا اسپیچ سنٹر ڈس ایبل ھو جاتا ھے،،میں کچھ بھی نہیں بول پاتا ،،شاید آپ کو اس کا کوئی اندازہ بھی ھو گا ! دیکھو فرحان تم اب میرے شاگرد نہیں ھو اور نہ میں تمہاری ٹیچر ھوں ،تم ایک جوان مرد ھو اور تعلیم کے لحاظ سے بھی تم مجھ سے بہت آگے ھو ! میں تو ایک مجبور لڑکی تھی جسے ضرورت وقت سے پہلے اکیڈیمی لے گئ تھی ! میری آپ سے یہ گزارش ھے کہ آپ حقیقت کا سامنا کریں اور وہ انتخاب کریں جو کل کلاں آپ کے لئے اور آپ کے والدین کے لئے خفت کا باعث نہ ھو ! کمال ھے ایک انجینئر مڈل کلاس کے ایک لڑکے کے ھاتھوں مجبور ھو گیا ھے اور اسے سمجھانے سے عاجز ھے کہ آج کل کے سماجی رویئے کیا ھیں ؟ یہ عشق اور محبت کا بھوت بہت جلد اتر جاتا ھے، کل کلاں لوگ آپ کو شرم دلائیں گے کہ اپنے سے بڑی لڑکی سے شادی رچا بیٹھے ! اور آپ گھر آ کر مجھ پہ غصہ اتاریں گے یا مجھے کوسیں گے یا اپنے آپ کو کوسیں گے !! طیبہ پریشر بڑھاتی جا رھی تھی اور باھر بیٹھی دیبا کا دل بیٹھا جا رھا تھا،، وہ ماں تھی ، اس کا جی چاھتا تھا وہ جھٹ سے اندر جا کر اپنے بیٹے کے تاثرات کو چیک کرے ،، وہ کہیں سکتے میں مبتلا نہ ھو جائے،کیونکہ وہ ابھی تک صرف سن رھا تھا پلٹ کر کچھ کہہہ نہیں رھا تھا ! طیبہ نے بات ختم کی اور ایک لمبی سانس لے کر فرحان کی طرف دیکھا جو ٹکٹکی باندھ کر سامنے کی دیوار کو دیکھے چلے جا رھا تھا ! چند منٹ خاموشی میں گزر گئے تو دیبا نے اندر جانے کا من بنا لیا جونہی وہ اٹھی اسے فرحان کی آواز آئی اور وہ پھر بیٹھ گئ ! مس طیبہ ،، آپ نے کبھی یہ جملہ سنا ھے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ھیں اور دنیا میں ملتے ھیں ! میں نے جب آپ کو پہلی دفعہ دیکھا تھا تو بخدا میری اندر کی سانس اندر اور باھر کی باھر رہ گئ تھی،،یہ میرا سوچا سمجھا ردعمل نہیں تھا اور نہ میں نے ایک عاشق کی نظر سے آپ کو دیکھا تھا اور نہ وہ میری عمر عشق کمانے کی تھی ! بس وہ کوئی عجیب چیز تھی ،اگر آپ اس دن مجھے سٹ ڈاؤن کی کمانڈ دے کر حرکت پر مجبور نہ کرتیں تو شاید میں اسی دن مر گیا ھوتا ،، آپ نے کبھی بلیو ٹوتھ ڈیوائس پیئر کی ھو گی ! وہ آپ سے ایک سوال کرتا ھے کہ کیا آپ اس کو اپنی ڈیفالٹ ڈیوائس بنانا چاھتے ھیں،، ؟ آپ کے یس کرنے کے بعد وہ آپکی ڈیفالٹ ڈیوائس بن جاتی ھے،پھر آن ھوتے ھی خود بخود اپنے جوڑے کو تلاشنا شروع کرتی ھے اور ملنے پر خود ھی کنکٹ ھو جاتی ھے،، مس طیبہ آپ کو میری ڈیفالٹ پارٹنر بنا کر بھیجا گیا تھا،، اس دن کلاس میں جوڑے نے اپنے جوڑے کو تلاش لیا تھا،، قصور نہ آپ کا تھا اور نہ میرا ،،، یہ سیٹنگز ،، شاید فیکٹری سیٹنگز تھیں ،، امی بتا رھی تھیں کہ آپ نے بہت اچھے دو رشتے ری جیکٹ کر دیئے تھے،، آخر اس کی وجہ کیا تھی ؟ شاید آپکی فیکٹری سیٹنگز نے انہیں قبول نہیں کیا تھا ! میں خود غرض نہیں ھوں ، اگر آپ اپنے آپ کو میرے ساتھ ایزی فِیل نہیں کرتیں تو میں قطعاً اصرار نہیں کرونگا کہ آپ میری پروپوزل کو قبول کریں،، مگر یہ بات طے ھے کہ میں کسی اور عورت کے ساتھ ظلم نہیں کرونگا کہ میرا دل تو کہیں اور ھو اور میں اسے اپنی مادہ کے طور پر اپنے کھونٹے سے باندھ لوں،، نیور ،،، رہ گئ بات آپ کے عمر میں کچھ بڑا ھونے کی تو بحیثیت مسلمان ھمیں اس بات کو کبھی ڈسکس ھی نہیں کرنا چاھئے ،کیونکہ یہ تو ھمارے نبی پاک ﷺ کا اسوہ ھے ! اپنی بات ختم کرکے فرحان نے ایک گہری سانس لی گویا کوئی بوجھ اس کے سر سے اتر گیا ھو ! طیبہ نے اب ایک عورت کی نظر سے فرحان کو دیکھا ،، وہ ایک خوبصورت اور باوقار نوجوان تھا جس کے چہرے پہ ھلکی ھلکی داڑھی کے پس منظر میں معصوم مگر اداس چہرہ بہت پرکشش نظر آرھا تھا،، تو آپ باز آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ؟ طیبہ نے ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ کہا،، تو آواز کی ٹون اور لہجے کی تبدیلی نے مایوس بیٹھے ھوئے فرحان کو چونکا دیا ! اس نے بے ساختہ طیبہ کی طرف دیکھا اور پھر وھی ھوا جو پہلے دن کلاس روم میں ھوا تھا،، وہ بس دیکھتا رہ گیا اور طیبہ مسکراتی ھوئی دھیرے دھیرے باھر کی طرف چل دی ! باھر بیٹھی دیبا کا دوپٹہ بھیگ چکا تھا اور وہ دونوں ھاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ، اللہ کا شکر ادا کر رھی تھی ! طیبہ نے انہیں پکڑ کر اٹھایا اور گلے سے لگا لیا ! ھفتے کے اندر اندر شادی ھو گئ ! باراتیوں کا رش کم ھوا تو دیبا ، فرحان کو ساتھ لے کر عجلہ عروسی کے دروازے تک آئی اور اسے وھاں چھوڑ کر اس کا ماتھا چوم کر چلتی بنی ! فرحان تھوڑی دیر اپنے حواس درست کرتا رھا ،پھر اس نے دروازے کو ھلکا سا دھکا دیا تو وہ کھلتا چلا گیا ! مـِـس ! فرحان نے آئستہ سے کہا ! شاید سنا نہیں گیا تھا یا سننے والی کو یقین نہیں آرھا تھا ،، مِس ! دوسری دفعہ کہا گیا اور گونگھٹ کے پیچھے سے اک شرمیلی سی آواز نے کہا " yes " فرحان اندر داخل ھوا اور دروازہ آئستہ سے لاک کر دیا،، زندگی بند درازوں کے پیچھے ھی جنم لیتی ھے !! اگلے ھفتے طیبہ کے والد صاحب کا آپریشن کرایا گیا جو کامیاب رھا ،، ایک ماہ کے اندر اندر وہ چلنا پھرنا شروع ھو گئے تھے !ایک واقف کی سفارش سے وہ نوکری پر بھی بحال ھو گئے تھے ! فرحان نے کویت آ کر تین ماہ کے اندر طیبہ کو بھی بلوا لیا تھا،، آج کل فرحان اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ ابوظہبی مقیم ھیں جہاں وہ ابوظہبی کی پٹرولیم کمپنی اڈناک میں چیف انجینئر ھیں ،، بچے بہترین اداروں میں آخری سالوں میں ھیں ،، مگر سب سے عجیب بات یہ ھے کہ فرحان آج بھی طیبہ کو مس ھی کہتا ھے،،
Sunday, March 23, 2014
شیطان سے بات چیت
شیطان سے مکالمہ !
جناب میں ایک صحافی ھوں ! صحافی اور اداکار کا اپنا کوئی نام نہیں ھوتا !
جو نام ایڈیٹر یا ھدایت کار کو کلک کر جائے وہ رکھ لیا جاتا ھے اور پھر دنیا نہیں جانتی کہ نورجہان کا نام اللہ وسائی تھا،، اور دلیپ کمار کا یوسف خان ! مجھے عموماً مدارس کے علماء سے انٹرویو کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی جو کہ ھم بخوبی سر انجام دیتے رھے- اس کام کے لئے نام کی بڑی اھمیت ھوتی ھے لہذا ھمارا نام بھی مذھبی طور پر بھاری بھر کم رکھا گیا جابر بن احمد الباقر- نام سنتے ھیں علماء کو یقین ھو جاتا کہ صحافی کوئی دھریہ نہیں ھے بلکہ مذھبی بیک گراؤنڈ رکھتا ھے ،، علماء کو پہلے بریفنگ دی جاتی ھے کہ ان سے ھمیں کس قسم کے مضمون کی ضرورت ھے، اسی کی نسبت سے ان کے مشورے کے ساتھ سوالات طے کیئے جاتے ھیں ! اور تقریباً طے شدہ جوابات دیئے جاتے ھیں ! اگر ایڈیٹر کو کوئی جواب پسند نہ آئے تو مولانا کے مشورے سے اسے مناسب بنا لیا جاتا ھے !
پاگل صرف پاگل خانوں میں نہیں ھوتے ھمارے دائیں بائیں پاگلوں کی بھر مار ھے ! ان میں ریڑھی بان سے لے کر بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ھوئے پاگل تک سب شامل ھیں ! جن میں سے ایک ھمارے اخبار کے چیف ایڈیٹر صاحب بھی ھیں،، ایک دن ھمیں دفتر میں بلایا گیا اور چائے بسکٹ کے بعد حکم دیا گیا کہ آپ نے اتنے بڑے بڑے علماء حضرات کو انٹرویو کیا ھے ! مگر یہ ساری اسٹوری ون وے ھے ،، اگر آپ شیطان کا انٹرویو کر سکیں تو اس کا ورژن بھی سامنے آ جائے کہ وہ اپنے بارے میں اور انسان کے بارے میں کیا کہنا چاھتا ھے ؟ مثبت اور متوازن صحافت اسی کا نام ھے !
ایڈیٹر صاحب کا حکم سننے کے دوران ھمارا پارہ چڑھنا شروع ھو چکا تھا اور غالباً یہ بھی شیطان کا ھی کارنامہ تھا ! جونہی ایڈیٹر صاحب خاموش ھوئے میں نے عرض کیا کہ جناب جس کسی نے بھی آپ کو یہ اطلاع دی ھے کہ شیطان میرا سالا ھے بالکل غلط کہا ھے،میری تو اس سے سلام دعا تک نہیں ھے اور نہ کبھی وہ مجھے ملا ھے ! اس لیئے کسی ایسی ھستی سے انٹرویو کرنا جس کو نہ آپ دیکھ سکتے ھوں اور نہ کبھی دیکھا ھو ناممکن ھے،آپ میری معذرت قبول فرمائیں،، اس پہ وہ مسکرائے اور بولے یار تمہیں ایک ماہ کا وقت دیا جاتا ھے،فنڈز بھی دیئے جائیں گے شہر میں ایک سے بڑھ کر ایک شیطان دفتر کھولے بیٹھا ھے،، کالا جادو،پیلا جادو ،، تمنا کیسی ھی کیوں نہ ھو ،، سنگدل سے سنگدل محبوب قدموں میں،، فلاں بنگالی بابا ،فلاں سنیاسی بابا ،، فلاں برمی بابا ،، جاؤ یار ان کے یہاں تلاش کرو بغیر شیطان کی پارٹنرشپ کے ان کا کاروبار کیسے چل سکتا ھے ؟ ان میں سے کسی نہ کسی نے ضرور شیطان سے ملاقات کی ھو گی !!
یوں ھم نے یہ مشن اپنے ھاتھ میں لے لیا اور سارے جادوگروں کو ایک ایک کر کے چھاننا شروع کیا ،، ایک ایک سے سوال کیا ،منتیں کیں،، پیسے کا لالچ دیا کہ یار شیطان کا پتہ دے دو،، اس سے ضروری کام ھے !! مگر پتہ چلا کہ وہ خود بھی دو نمبر شیطان ھیں،، اصلی شیطان کے نظر نہ آنے کا انہوں نے فائدہ یوں اٹھایا کہ خود ھی شیطان بن بیٹھے اور اس کے فرنچائز بن کر اس کا کام کرتے ھیں ، مگر معاوضہ بھی انسان سے لیتے ھیں اور وہ بھی بھٹکانے اور ایمان ضائع کرنے کا !
مہینہ پلک جھپکتے گزر گیا اور اگلے دن رپورٹ پیش کرنی تھی ، فنڈ بھی سارا ختم ھو گیا تھا - اس دن رات کا کھانا بھی ٹھیک سے کھایا نہیں گیا اور میں جلدی بستر پہ چلا گیا ! سوچوں میں ڈوبے ھوئے پتہ نہیں کب نیند کی وادی میں چلا گیا تھا کہ اچانک دروازے سے ایک صاحب اندر داخل ھوئے ! دیکھنے میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے کوئی کھلاڑی لگتے تھے،، بڑے آرام سے آ کر میری چارپائی کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئے ! مجھے بڑی حیرت ھوئی ایک شخص بغیر کسی اجازت کے کسی کے کمرے میں گھس جائے اور معذرت بھی نہ کرے ! خطرہ تو محسوس ھوتا ھے،اس کے چہرے پر ویسے ھی لعنت نظر آ رھی تھی جیسے کوئی ٹارگٹ کلر ھو ! جب کہ صحافیوں کو دن دیہاڑے ٹارگٹ کیا جا رھا تھا !
میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ! جناب کا تعارف ؟
پہلے تو اس نے ایک انتہائی مکروہ قہہقہ لگایا پھر بولا، چندا سارا شہر تو نے میری تلاش میں چھان مارا اور اب پہچاننے سے بھی انکار ؟ میں ھوں وہ شیطان جس سے آپ کو انٹرویو کرنا تھا،،میں نے سوچا چلو انسان اپنی سوانح عمری چھپواتا ھے تو ھم بھی یہ کر کے دیکھتے ھیں ! ویسے ایک بات ھے بھائی جابر ( مجھے اس کا بھائی کہنا ذرا بھی نہ بھایا ،گویا وہ واقعی ھمارا سالا بننے کے چکر میں تھا )،، یہ انسان جب آپ بیتیاں چھپواتا ھے تو اس میں ساری نیکیاں ھی چھپواتا ھے گویا وہ فرشتہ ھے جس سے کبھی گناہ سرزد ھوا ھی نہیں ! علماء کی سوانح عمریاں چاھے ان کے معتقدین کی طرف سے چھپوائی جائیں پڑھو تو لگتا ھے یہ تو معصوم عن الخطا ھیں اور ان کی کرامات ! پیغمبروں کو بھی پیچھے چھوڑ جائیں ،، بعض علماء تو اپنی زندگی میں ھی اپنی ذات پر پی ایچ ڈی کروا رھے ھیں،،
مولانا فلاں ،، بحثیت ایک مجتہد ،، فلاں صاحب بطور خادم حدیث،، چار چار پی ایچ ڈیز ایک شیخ الاسلام پر ھو رھی ھیں !! ان حالات میں میرا سامنے آنا اور اصل حقائق سے پردہ اٹھانا بہت ضروری تھا،، اب آپ جو سوال کرنا چاھتے ھیں وہ کر لیں ،،اس وضاحت کے ساتھ کہ میں جھوٹ بولنے سے پیشگی معذرت کرتا ھوں،جو میرے دل میں ھو گا میں وھی بیان کروں گا،، میں نے اللہ سے بھی جھوٹ نہیں بولا تھا، ایک ایک بات جو میرے دل میں تھی وہ اللہ کے سامنے رکھ دی تھی،، میں کیا کروں گا،،کیسے کرونگا اور کیوں کروں گا صاف صاف بتا دیا تھا،،میں کافر ھوں منافق نہیں ھوں ،،یہی لقب مجھے آسمانی کتابوں میں دیا گیا ھے،، میں کھلا دشمن ھوں چھپا دشمن نہیں ھوں،، چھپے دشمن پیدا کرنے میں انسان اپنی مثال آپ ھے !
اب ھمارے اندر کا صحافی جاگ پڑا - ھم نے کاغذ قلم سنبھالا اور اپنے مرتب کردہ سوالات کا جائزہ لیا ! شیطان کی بے تکلفی کو دیکھتے ھوئے ھمارا ڈر کم ھو گیا تھا جس کی روشنی میں ھم نے اپنے چند سوالات کو کاٹا اور چند نئے سوال مرتب کر کے انٹرویو شروع کیا
میرا سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ سجدے سے انکار سے پہلے تمہارا اسٹیٹس آسمانوں پر کیا تھا ؟
میں نے شیطان کو واضح طور پر سنجیدہ ھوتے دیکھا،گویا کسی اذیت ناک یاد کا سایہ اس کے چہرے پر سے گزر گیا ھو ! اس نے میری طرف غور سے دیکھ کر کہا اس کے بارے میں آپ لوگوں میں بھی تو بہت ساری کہانیاں مشہور ھیں پھر مجھ سے آپ کو پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس ھوئی ؟ اور آپ کو ایک شیطان سے سچ کی توقع کیوں پیدا ھو گئ ھے ؟ پہلی بات یہ کہ میں تمہارے منہ سے سچ سننا چاھتا ھوں اور دوسری بات یہ کہ میں تمہارے اس دعوے کا امتحاں بھی چاھتا ھوں کہ تم نے اللہ کے سامنے سچ سچ بیان کر دیا تھا ! یار تمہیں بات کرتے ھوئے سمجھ نہیں لگتی ؟ ایک بات واضح طور پر تمہارے قرآن میں بار بار لکھی ھے کہ ابلیس نے یہ کہا کہ میں سجدہ نہیں کرتا،، میں اس سے بہتر ھوں،، مجھے تیری عزت کی قسم میں اسے گمراہ کرونگا، میں اس کے دائیں سے بھی آؤں گا ، بائیں سے بھی وار کروں گا،سامنے سے بھی آؤں گا اور پیچھے سے بھی وار کروں گا اور ان کی اکثریت تیری شکر گزار نہیں ھو گی،، میں دنیا کی چیزیں ان کے سامنے مزین کرونگا ،،پھر ان میں خواھشیں پیدا کروں گا،پھر میں جو حکم دوں گا وہ یہ پورا کریں گے،، یہ تمہاری طرف بھیجی گئ کتاب میں اللہ کا بیان ھے، اگر ترجمے سے قرآن پڑھا ھوتا تو تم میری بات پر شک نہ کرتے،،!! شیطان کو غصے میں دیکھ کر ھمیں اپنا انٹرویو رستے میں ھی ختم ھوتا نظر آ رھا تھا،،مگر میں نے بھی صحافیانہ چاپلوسی کا جال ڈالا،اچھا یار میں تمہارے منہ سے سننا چاھتا تھا کہ آسمان والے تو تم کو ھیرو سمجھتے تھے پھر تو ولن کیونکر نکل آیا ؟
دیکھو میاں جابر پہلی بات یہ کہ آسمانوں پر لاٹری کا کوئی قانون نہیں ھے ! جنوں میں سے ھوتے ھوئے فرشتوں تک رسائی آسمانوں میں جگہ بنانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ھے،،میں اللہ پاک کا مطیع اور فرمانبردار بندہ تھا ! میں نے زمین کے چپے چپے پہ سجدے کیئے ھیں جب زمین ختم ھوئی تو مجھے آسمان پر سجدوں کی اجازت ملی جہاں فرشتے سجدے کرتے تھے ! جتنا اللہ کو میں جانتا تھا ،جس طرح میں اسے بیان کر سکتا تھا فرشتے اس فن سے با آشنا تھے،میں جب رب کی عظمت اور جلال بیان کرتا تو فرشتے نہ صرف غش کھا جاتے بلکہ کئ کئ دن بیہوش رھتے ! سرکش جنات کے لئے میں فرشتوں کا لشکر لے کر آتا اور کچھ کو قتل کرتا کچھ فرار ھو جاتے کچھ دوبارہ مطیع ھو جاتے !
پھر تمہیں کس چیز نے بغاوت پر آمادہ کیا اور تو اللہ کی نافرمانی کر بیٹھا ؟
میاں جابر ،،،، اللہ کی بادشاھی میں کوئی کام اس کی اسکیم کے خلاف ھونا کیا ممکن ھے ؟ میں ابلیس کا منہ ھی دیکھتا رہ گیا !! یہ کیسے ممکن ھے کہ ابلیس کا کوئی رول نہ ھو اور ابلیس بن جائے ،، وہ بھی اس طرح کہ اللہ کو پتہ بھی نہ ھو اور وہ مجھ سے پوچھے کہ تمہیں کیا ھو گیا ھے کہ تو سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ھوا ؟ ابلیس اپنی بات جاری رکھے ھوئے تھا !
دیکھو جس طرح آدم کی تخلیق سے بھی پہلے لکھ دیا گیا تھا کہ آدم خطا کرے گا۔۔ اسی طرح ابلیس کی تقدیر بھی اس کی تخلیق سے پہلے لکھی جا چکی تھی ! مجھے وھاں نہیں جانا چاھئے تھا مگر میرا گزر اس تختی کے پاس سے ھوا جس میں لکھا ھوا تھا کہ اللہ کا کوئی بندہ صدیوں اسکی عبادت کرے گا اور پھر ایک نافرمانی کر کے راندہ درگاہ بن جائے گا ! بس بے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ " کاش وہ میں ھوتا " جب آدم کو بنایا گیا تو سامنے نظر آرھا تھا کہ آدم کے ساتھ دوسرا دوڑنے والا چاھئے ،،جس سے جیت کر آدم پہلے نمبر پر آئے ! اکیلے دوڑ کر تو کوئی پہلے نمبر پر نہیں آتا؟ کیا کوئی کہانی بغیر ولن کے بھی ھوتی ھے؟ جتنا طاقتور ھیرو ھوتا ھے ویسا ھی شکتی مان ولن بھی چاھئے،، پھسپھسا سا ولن تو ھیرو کی انسلٹ ھوتی ھے ! خیر مجھے ساری اسکیم سمجھ لگ گئ،،فرشتوں میں سے کوئی نہ انکار کر سکتا تھا اور نہ ھی وہ اس اسکیم کو سمجھ کر قربانی دے سکتے تھے،، یہ کام مجھ جیسے ناھنجار سے ھی ھوا !
میرا جبریل سے مکالمہ اقبال نے لکھا ھے،،جس میں جبرائیل کو میں یہی سمجھا رھا ھوں کہ آدم کی کہانی بھی فرشتوں کی کہانی ھوتی ، جو تھرل اللہ چاھتا تھا کہ آدم کی کہانی میں ھو،، وہ سسپنس اور سنسنی میرے خون نے ھی پیدا کی !
گر کبھی خلوت میسر ھو تو پوچھ اللہ سے !
قصــہءِ آدم کــو رنگیں کــر گیا کــس کا لہو ؟
تم انسان سے گناہ کیوں کرواتے ھو ؟
یہ بھی ایک الزام ھے جس کی تردید کرنے کے لئے میں تمہارے پاس آیا ھوں !
دیکھو ثواب کے لئے نہیں تم صرف میری حقیقت جاننے کے لئے قرآن کو ترجمے سے پڑھ لو تو تم مسلمانوں کو احساس ھو جائے کہ تم کتنے بڑے خطرے سے دوچار ھو ! تم یہ سمجھتے ھو کہ قیامت کے دن سارا الزام مجھ پر رکھ کر تم سیدھے جنت میں چلے جاؤ گے؟ ایسا نہیں ھے قرآن میں میرا جتنا رول ھے میں بس وھی ادا کر رھا ھوں ،، جس چیز کا چیلنج دیا ھے اسی پر عمل کر رھا ھوں ،، میری کہانی اپنے رب کی زبانی سننی ھے اور اس میں انسان اور شیطان کے جرم کی نوعیت سمجھنی ھے تو سورہ ابراھیم کی ایک ھی آیت نمبر 22 کافی ھے،، میرا رول صرف دفعہ 109 کا ھے ،،کہ میں نے جرم کی دعوت دی،، جبکہ تم 302 کے مجرم ھو اور میں 302/109 کا مجرم ھوں ! اور تمہاری ھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 109 کو ثابت کرنا ناممکن ھے لہذا اس کے تحت اب سزا نہیں دی جاتی،، تمہیں میں نے بھی دعوت دی اور رسول ﷺ نے
بھی دعوت دی،، زور نہ میرا تم پر چلتا تھا نہ نبی کا چلتا ھے اگر زور چلتا تو نوح اپنے بیٹے اور بیوی پر چلا لیتے،، تم نے نبیﷺ کی دعوت رد کر دی میری دعوت قبول کر لی ،رد و قبول کا اختیار تو تمہارے پاس تھا ؟ میری یہ بات اللہ نے تسلیم کر لی ھے اس کا رد نہین کیا،، میں ظلم میں مشورے کا ملزم ھوں اور تم ظلم کرنے والوں میں سے ھو ! آئی سمجھ جناب حضرتِ انسان ،، فرشتوں کے سجدے پہ ھی خوش ھوتے رھتے ھو،،اس ترک و اختیار اور رد و قبول کی امانت کا کوئی احساس ھے تمہیں کہ تم کیا بوجھ اٹھا بیٹھے ھو ؟
وہ بدبو جو مجھے ابلیس سے آ رھی تھی اور میں انٹرویو جلدی سے ختم کرنے کے چکر میں تھا،، اس سے زیادہ طاقتور بد بو کا بھبھکا میرے گریبان سے نکلا !! بات تو ابلیس کی سچ تھی ! کوئی کہے کہ کنوئیں میں چھلانگ لگا دو تو بندہ چھلانگ لگا لیتا ھے؟ کوئی کہے کہ زہر کھا لو تو بندہ زھر کھا لیتا ھے؟؟؟؟ پھر کوئی کہے کہ گناہ کر لو تو بندہ کیسے گناہ کر لیتا ھے ؟ اور ایسا بندہ معصوم کیسے بن جاتا ھے ؟
جب ھمیں کوئی جواب نہ سوجھا تو ھم نے پینترا بدلا اور اسے اس کے انجام کی طرف متوجہ کیا !
اچھا تمہیں اپنے انجام سے ڈر نہیں لگتا؟
جابر میاں تمہارا کیا خیال ھے اللہ کسی کی فیور میں بے انصافی بھی کرتا ھے ؟ ابلیس نے پلٹ کر سوال کر دیا !
نہیں یہ ناممکن ھے،میرا اللہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور نہ بے انصافی کرتا ھے،،
تو پھر یقین رکھو وہ میرا بھی رب ھے وہ میرے ساتھ کبھی بھی بے انصافی نہیں کرے گا،، جتنا میرا جرم ھے اتنی ھی سزا دے گا ! اس نے آج تک ایک لفظ بھی میرے بارے میں کسی بھی آسمانی کتاب میں ایسا نہیں کہا جو مجھ پر میرے جرم سے زیادہ الزام لگاتا ھو ! ھر جگہ اس نے یہی فرمایا ھے کہ شیطان کے پاس تمہیں گناہ پر آمادہ کرنے کی نہ کوئی دلیل ھے اور نہ کوئی فزیکل طاقت ھے، ما کان لی علیکم من سلطانٍ الا ان دعوتکم فاستجبتم لی ،فلا تلومونی و لوموا انفسکم ،،
( ابراھیم 22 ) میری یہ میدانِ حشر کی دلیل دنیا ھی میں قبول کر لی گئ ھے ،، اللہ نے اس کا رد نہیں کیا،،مجھے جھوٹا نہیں کہا،، قرآن میرا بھی گواہ ھے ،،
دوسرا مجھ پر حشر میں مقدمہ نہیں چلے گا،، میں تو تم لوگوں کے فیصلوں کے انتظار میں اس میدان میں کھڑا ھونگا تا کہ تمہیں ساتھ لے کر جاؤں ،،
میں سرک کر ابلیس سے دور ھو گیا !!
وہ لعنت کا کیا قصہ ھے ؟ ھم نے اپنا یکہ بھی پھینک دیا اور ساتھ طنزیہ مسکرائے بھی !
جی پہلی بات یہ کہ مجھ پر تو صرف اللہ کی لعنت ھے ! وان علیک لعنتی الی یوم الدین! اور تجھ پر میری لعنت ھے بدلے کے دن تک ! یہ اللہ کی لعنت تو تمہیں بخوبی یاد رھی اور تمہارا مولوی ھر جمعے کو منبر پر اچھل اچھل کر بیان کرتا ھے کہ شیطان پر اللہ نے لعنت کر دی ،،لعنت کر دی،،ملعون شیطان ،، شیطان ملعون ! مگر تمہیں پتہ ھے کہ حق بیان نہ کرنے والے مولوی پر اور اللہ کی طرف سے حق کو واضح کر دینے کے بعد صرف اپنی روٹی کی خاطر حق کو چھپا لینے والے مولوی پر ،اللہ کی بھی لعنت اور فرشتوں کی بھی لعنت اور جتنے انسان ھیں ان سب کی لعنت اور لعنت کرنے والوں کی بھی لعنت ھے ؟ اگر تمہارا مولوی حق بیان کرے اور حق کو تسلیم کر لے تو یہ جو تم گلی گلی مسجدیں بنا کر بیٹھے ھو یہ ایک مسجد میں تبدیل ھو جائیں ! وہ کتاب اللہ کی پکڑ کر بیٹھا ھوتا ھے مگر بات میری مانتا ھے ،، وہ حق کے نام پر حق سے روکتا ھے اور رستہ بتانے کے پیسے بھی لیتا ھے اور رستہ بھی غلط بتاتا ھے،، یقین نہیں آتا تو سورہ توبہ کی آیت 34 پڑھ لینا،،مگر کہیں توبہ کر ھی نہ لینا !! دوسری بات یہ کہ یہ لعنت قیامت کے دن تک ھے، کبھی غور فرما لینا،، وہ یوم الدین کو ایکسپائر ھو جائے گی ،،
اچھا دیکھو تم نے معافی کیوں نہیں مانگی ؟
معافی اللہ کی اسکیم میں ھی نہیں تھی ورنہ وہ مجھے معافی کی توفیق بھی دے دیتا،،میں نے جو چاھا وہ مانگا ،، اور جو مانگا اس نے وہ سب دیا،،پھر کیا معافی مانگتا تو وہ معافی نہ دیتا ؟ مگر میری معافی کے بعد پھر آدم نے اکیلے دوڑنا تھا اور اکیلے دوڑنے سے آدم کی ویلیو کچھ بھی نہ رھتی ،، اکیلے دوڑتے آدمی میں مسابقت کا جذبہ نہیں ھوتا،، ریس اور جوگنگ میں فرق ھوتا ھے،، آدم مسابقت اور ریس کے لیئے پیدا کیا گیا تھا،،جوگنگ کے لئے نہیں !! تم نے کبھی اللہ کا حکم پڑھا ،سابقوا الی مغفرۃ من ربکم و جنۃٍ عرضھا کعرض السماء والارض ( الحدید 21 ) بس یہ ھے وہ مسابقت اور ریس جس میں آدم کو میرے ساتھ دوڑایا گیا ھے،، میں نے مسابقت کر کے جہنم میں جانا ھے اور آدم نے دوڑتے دوڑتے جنت میں جانا ھے،،
تم تو جہنم کو یوں بیان کر رھے ھو جیسے وہ تمہارا مقصود و مطلوب ٹھکانہ ھے ؟ میں نے طنزیہ انداز میں کہا !!
وہ ابلیس تھا تھوڑا سا مسکرا کر بولا،، دیکھو رب کی اسکیم میں میرا ٹھکانہ وھی ھے اور میں نے اسے بہت سوچ سمجھ کر قبول کر لیا ھے، اللہ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ شیطان رو رو کر معافیاں مانگے گا،،کسی آسمانی کتاب میں میرے رونے گڑگڑانے کا کوئی ذکر نہ پاؤ گے،، کبھی غور کرنا کہ اس کی وجہ کیا ھے؟ البتہ کافروں کا ضرور ذکر ھے کہ وہ کہیں گے کہ اے اللہ ھمیں ایک بار اس میں سے نکال ھم دوبارہ اگر یہ کریں تو پھر ھم بہت ظالم ھونگے ! آگ کو آگ ھی سوٹ کرتی ھے،، آگ کا جنت میں کیا کام ؟ اللہ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ سزا نہیں دے گا،، ایمان والے گنہگار جب تک جہنم میں رھیں گے جہنم سامنے رھے گی،،جب آخری ایمان والا بھی نکال لیا جائے گا تو جہنم کا منہ لیپ کر اسے ھمیشہ کے لئے سب کی نظروں سے اوجھل کر دیا جائے گا،، فرشتوں کی نظر سے بھی ،، وہ صرف اللہ کے علم میں رھے گی،، اس گمشدہ جہنم میں کافروں پر میری حکمرانی ھو گی !! جس طرح جیل میں سب سے بڑا سزا یافتہ ان کا کھڑپینچ ھوتا ھے،میں نے جہنم کی کھڑپینچی منظور کر لی ھے ! کیا خیال ھے انٹرویو کا باقی حصہ وھیں نہ مکمل کر لیں ؟ شیطان نے جونہی یہ جملہ کہا میرا تراہ نکل گیا ! اور اس کے ساتھ ھی میری آنکھ بھی کھل گئ !
Wednesday, March 5, 2014
اسلامی نظام کے قیام کا آسان اور کم خرچ
اسلامی نظام کے قیام کا آسان اور کم خرچ مگر قابلِ عمل نسخہ ! بھائیو جو بات میں کہنے لگا ھوں، اجمالاً ایک جملے میں بیان کی جا سکتی ھے،، مگر تفصیلاً پوری کتاب یا تھیسس لکھا جا سکتا ھے ! وہ اجمالی جملہ یہ ھے کہ " جتنا زور ھم نے علماء کو کُرسی تک پہنچانے پر صرف کیا ھے،، اس کا صرف 05۔0 ٪ بھی کرسی والے کو فیصل مسجد کے مبنر پر لانے میں خرچ کرتے تو آج پاکستان میں اسلام کا بول بالا ھوتا "،،صرف ایک گھنٹے کی میٹنگ میں نواز شریف کو فیصل مسجد میں خطبہ دینے پر قائل کیا جا سکتا ھے ! اگلے دو ھفتے میں آئینی ترمیم کے ساتھ انہیں امیر المومنین قرار دیا جا سکتا ھے ! لو جی خلافت قائم ھو گئ ! اللہ پاک نے سورہ الحج کی آیت 41 میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صاحب اقتدار پر فرض کیا ھے اور یہ" منبر و محراب" اصلاً خلیفہ کا فرضِ منصبی ھے ! مساجد اس فریضے کی ادائیگی کے ٹولز ھیں ! اور ھمیشہ اسی طرح رھا ھے کہ دارالخلافے میں خلیفہ اور صوبوں میں گورنر خطبہ دیا کرتے تھے جہاں وہ نئے احکامات کا اعلان کیا کرتے تھے،، جن کو تبدیل کرنا ھوتا تھا وہ بھی جمعے میں بیان ھوتے تھے اور جن باتوں سے روکنا مقصود ھوتا تھا اس کی انفارمیشن میں خطابِ جمعہ میں دی جاتی تھی ! یوں اسلام کتابوں میں اور فتوؤں میں نہیں ملتا تھا،، احکامات کی صورت سوسائٹی کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا پھرتا تھا ! یہی وجہ ھے کہ خلفاء سے احادیث کی روایت بہت کم ھے کیونکہ روایت وہ بیان کرتا ھے جو صرف پریس کانفرنس کر کے مطالبہ کر سکتا ھے،جس کے ھاتھ میں طاقت ھوتی ھے وہ روایت بیان نہیں کرتا روایت پر عمل کرتا ھے کیونکہ یہ اس کا فرض منصبی ھوتا تھا، اسی وجہ سے خلفاء کے آثار فقہاء کے نزدیک سنت کا درجہ رکھتے ھیں ! مساجد یونین کونسل ،تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کی طرح کا سرکاری ادارہ ھے،جسے سرکار ھی قائم کرتی،اور چلاتی تھی،، 100 سال تک کسی پرائیویٹ مسجد کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،،کہ جس کے پاس پیسہ ھوا ایک محلے میں تین تین مساجد بنا کر بیٹھ گئے ! آپ کبھی نہیں سنیں گے ،کہیں نہیں پڑھیں گے کہ امام ابوحنیفہؒ نے فلاں مسجد میں جمعے کا خطبہ دیا،،، البتہ یہ ضرور پڑھیں گے کہ حجاج بن یوسف نے جمعے کا خطبہ دیا ،،زیاد اور ابن زیاد نے جمعے کا خطبہ دیا اور لوگوں نے کنکریاں ماریں،، ابو موسی الاشعریؓ نے بحیثیت گورنر جمعے کا خطبہ دیا،،یہاں تک کہ عبداللہ ابن مسعودؓ جلیل القدر فقیہہ صحابی چونکہ گورنر نہیں بلکہ معلم اور مدرس بنا کر بھیجے گئے تھے ،انہوں نے کبھی جمعے کا خطبہ مرکزی مسجد میں نہیں دیا،،خطیب گورنر کی طرف سے مقرر ھوتے تھے اور اسی کے حکم سے معزول کیئے جاتے تھے،،نبی کریمﷺ کے زمانے سے لوگ خطیب نہیں چنا کرتے تھے بلکہ آپ ﷺ سرکاری حیثیت سے ان کا تعین فرمایا کرتے تھے،ان کا ٹیسٹ لیا جاتا تھا،،ایک دفعہ آپ ﷺ نے خطباء کے تعـین کے لئے کچھ لوگوں کو بلایا اور ان کا امتحان لینا شروع کیا،، ایک خطیب نے کہا ،، من یطع اللہ ورسولہ فقد ھدی و من یعصِھما فقد غوی ،، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ھی ضمیر میں اللہ اور رسول کو جمع کرنے پر اس سے سخت ناراض ھوئے اور اسے فرمایا بئس الخطیب انت ! تو برا خطیب ھے،بیٹھ جا ! اسی سنت کو خلفاء نے زندہ رکھا !علماء کا کردار ھمیشہ سے مشاورتی رھا ھے ! چاروں ائمہ اور ان کے شاگردوں نے کبھی نہ حکومت طلب کی، نہ لوگوں نے انہیں حاکم اور خلیفہ بنانے کی کوئی تحریک شروع کی ! ائمہ نے بھی اپنے مشاورتی کرادر پر ھی توجہ دی اور اسے دیانت کے ساتھ نبھایا،حالانکہ وہ کوئی آئیڈیل حکمران نہیں تھے،، کہ جن پر کوئی اعتراض وارد نہ کیا جا سکتا ھو، وہ قتل سمیت ھر جرم میں ماخوذ کیئے جا سکتے تھے، اس کے باوجود لوگوں نے ان کو ھٹا کر کبھی بھی ،،امام مالک ،امام ابوحںیفہ ،امام شافعی اور امام احمد کو حکمران بنانے کی کوئی تحریک یا مہم نہیں چلائی ! جب سے ھمارے علماء نے اپنی نگاھیں اقتدار پر جمائی ھیں اس دن سے مشاورتی کردار کو بھی متنازعہ اور مشکوک بنا لیا ھے،، خدا ھی ملا نہ وصالِ صنم ،،والی مثال اگر سو فیصد کسی پر لاگو ھوتی ھے تو وہ ھمارے مذھبی طبقے پر لاگو ھوتی ھے جونہی حکمرانوں نے مساجد کو ایزی لیا انہیں انڑ اسٹیمیٹ کیا اور ان کی اھمیت کا ادراک نہ کیا ،اسے دوسروں کو سونپ دیا اور خود الگ ھو کر بیٹھ گئے اسی دن سے اسلام اقتدار سے محروم ھو کر دین نہ رھا بلکہ مذاھب میں تبدیل ھو گیا !صرف فتوؤں کا مذھب رہ گیا اور فتوی چونکہ نافذ نہیں ھوتا،، نافذ کرنے والوں نے اسے علماء کو گفٹ کر دیا،، بس تب سے دین فتوؤں میں ملتا ھے اور دال جوتیوں مین بٹتی ھے ! مساجد کی بھرمار ھے اور مساجد ایک بیمار کے بدن میں پیدا ھونے والی گلٹیوں کی شکل اختیار کر گئ ھیں جو دین کی وحدت کی نہیں بلکہ مذاھب اور مسالک کے مورچے بن گئے جہاں اپنے اپنے مسالک کے سپاھی پیدا کیئے جاتے ھیں ! حاکم تو ایک ھے،دین بھی ایک ھے، وہ ایک ھی بات کرے گا جو کہے گا اس پر عمل کا اختیار بھی رکھتا ھے یوں دین اپنے اصل منبعے کی طرف پلٹے گا! الذین ان مکناھم فی الارض،، وہ جن کو ھم زمین پر تمکن عطا فرمائیں تو ظاھر ھے یہ تمکن نواز شریف کو بخشا گیا ھے،، اقامو الصلوۃ ، وہ نماز قائم کریں،، مرکزی مسجد کا امام نواز شریف ھے،، و اٰتوالزکوۃ ،، زکوۃ کی وصولی اور عوام تک اسے پہنچانے کا ذمہ دار بھی وھی ھے ،، و امروا بالمعروف،، منبر سے معروف کی تلقین اور اس کے لئے ضروری عملی اقدامات کا ذمہ دار وھی ھے، و نہوا عن المنکر ،، اور برائی سے خبردار کر کے اس کی راہ روکنے کے عملی اقدامات اٹھانا بھی اس کا مذھبی فریضہ ھے،، کیوںکہ تمکن اس کو ملا ھے،، مفتی حضرات صرف تقریر کر سکتے ھیں اور کرتے چلے آ رھے ھیں ! کیونکہ سورہ یوسف میں جو بار بار حضرت یوسف کو تمکن فی الارض کا احسان جتایا جا رھا ھے تو ساتھ یہ بھی بتایا جا رھا ھے کہ تمکن کا حقیقی مفہوم صاحب اختیار ھونا اور اس اختیار کو پھر خیر کے لئے استعمال کرنا ھے،،یوں امر بالمعروف حاکم کا فریضہ ھے،عوام بطور آلہ استعمال ھوتے ھیں،، ان پر اپنے اپنے دائرہ کار میں یہ کام فرضِ کفایہ ھے،، اصل ذمہ داری حاکم کی ھے،، جب اسے معلوم ھو گا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نمائندگی کر رھا ھے تو یقیناً اسے اس عہدے کے ساتھ ایک تقدس کا تعلق اور رشتہ محسوس ھو گا، وہ اس کی اھمیت کو سمجھے گا ،، نتیجے میں اس کے ذاتی کردار میں بھی بلندی پیدا ھو گی اور وہ ایک سیاست دان کے بازاری مقام سے اٹھ کر خلافت کے مقدس مقام پر فائز ھو جائے گا،، یوں ھِــز ھائی نیس اور ھــز ھولی نیس کا ایک ھی ھستی اور ایک ھی عہدے میں ادغام ھو جائے گی،، اور جس پرزے کی خرابی سے اسلام کی شکست وریخت شروع ھوئی تھی وہ پرزہ ٹھیک کام کرنا شروع کر دے گا ،، اور اسلام دوبارہ وحدت کی طرف گامزن ھو گا،، خلفاء کی مساجد اور منابر سے گرفت کمزور ھونے کے زمانے سے ھی مختلف مذاھب کی مارا ماری شروع ھوئی ھے ! اب علماء کو چاھئے کہ وہ اپنی یہ ضد چھوڑ دیں کہ اسلام وھی ھو گا جو ان کے دستِ مبارک سے نافذ ھو گا،، بلکہ جسے اللہ نے اقتدار بخشا ھے اسے تسلیم کریں اور منبر جس کی امانت ھے اسے واپس کریں اور نیچے بیٹھ کر اس کا خطاب سنیں ،،
بدنام اللہ کو کر دیا کہ اللہ سے ڈر لگتا ھے
میں اللہ سے کیوں ڈروں ؟
1- کیا وہ ظالم ھے ؟
2- کیا وہ میری نیکیاں کسی اور کو دے دے گا ؟
3- کیا وہ کسی کے گناہ مجھ پر لاد دے گا ؟
4- کیا وہ کسی ایسے آدمی کی وجہ سے جو میری نسبت نفل زیادہ پڑھتا ھے اور میرے ساتھ اس کی ان بن ھو گئ ھے تو اللہ اس ادمی کی حمایت میں میری فائلوں میں وہ گناہ ڈال دے گا جو نہیں کیئے یا ان گناھوں کا ریٹ اور ویٹ بڑھا دے گا ؟
5- کیا وہ جج کی طرح کسی کے نفلوں کے آگے بِک جائے گا ؟
6- کیا وہ کسی کرپٹ وکیل کی طرح مخالف پارٹی سے مل جائے گا؟
7- کیا وہ پولیس کی طرح چرس کی پڑیا میرے نامہ اعمال میں گھسا کر حدود کا پرچہ بنا دے گا ؟
8- کیا وہ پٹواری کی طرح میری جنت کسی اور کے نام کر دے گا ؟
9- جس طرح ماں اپنی بیٹیوں کی خاطر بیٹوں سے اور بیٹوں کی خاطر بیٹیوں سے ناجائز ناراض ھو جاتی ھے ، اللہ بھی کسی سے ناجائز ناراض ھو جاتا ھے ؟
10- جس طرح ایک چاپلوس اور نکمہ بیٹا والدین کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کر کے اور مسکہ پالش کر کے ایک مخلص اور خدمتگار بیٹے کے بارے میں بدظن کر نے میں کامیاب ھو جاتا ھے، اسی طرح کوئی میرے بارے میں میرے رب کو بھی ورغلا دے گا ؟؟
تلک عشرۃٓ کاملہ !! مجھے کوئی ایک وجہ بتائی جائے کہ میں کیوں اپنے اللہ سے ڈروں ؟
یہ سارا کیا دھرا ھماری زبان کا ھے !
اتقوا اللہ کا ترجمہ اللہ سے ڈرو،،کر دیا ھے،، حالانکہ اس کا مطلب ھے اللہ کا خیال رکھو ! جو بات کرو جو کام کرو، بس اللہ کی پسند ناپسند اور رضا کا خیال رکھو،، جہاں جس ماحول میں ھو اللہ کا خیال رکھو ،، بے خدا ھو کے مت جیو،کوئی لمحہ بے خدا مت گزارو ،، روزے اس لئے فرض کیئے کہ تم کو اللہ کا خیال رکھنا آ جائے !
جو دم غافل ، سو دم کافر ،مرشد اے فرمایا ھُــو !
ڈر اپنے کرتوتوں کا ھوتا ھے،، بدنام اللہ کو کر دیا کہ اللہ سے ڈر لگتا ھے !
آپ سڑک پر جا رھے ھیں ! ٹریفک پولیس کی گاڑیاں آپ کے دائیں بائیں سے گزر رھی ھیں ،آپ کو پولیس سے ذرا ڈر نہیں لگ رھا بلکہ آپ پولیس گاڑیوں کو اور ٹیک بھی کر رھے ھیں !!
اچانک آپ نو انٹری میں داخل ھو گئے یا سرخ اشارہ جمپ کر دیا ،، اب آپ کی نظریں بیک مرر پر جم گئیں،، پولیس کی گاڑی دیکھ کر آپ کی ٹانگیں کانپنا شروع ھو گئیں،، رنگ پیلا پڑ گیا، بلڈ پریشر لو ھو گیا،، آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا ،،پسینے کی تریلیاں آنے لگیں ،، اور آپ کہہ رھے ھیں کہ یہ سب کچھ پولیس کے ڈر سے ھوا؟ کیوں اشارہ جمپ کرنے کے بعد پولیس کی گاڑی کے سینگ نکل آئے تھے،، آپ اپنے کارنامے کے نتائج سے خوفزدہ تھے نہ کہ پولیس سے،،یہی معاملہ ھم اللہ کے ساتھ کرتے ھیں !
اللہ کی قسم مجھے اللہ سے ڈر نہیں لگتا
بھائی لوگو !
معاف کـــــرنا !
میں نے تو اپنی مقدور بھر کوشش کر دیکھی ھے،، پوری کوشش کی ھے، ھر طریقہ آزما دیکھا ھے !
مگر اللہ کی قسم مجھے اللہ سے ڈر نہیں لگتا !
مجھے اللہ سے ڈرا نہیں جاتا ! اللہ کی محبت نے سیلاب کے پانی کی طرح اندر سب کچھ جل تھل کر کے رکھ دیا ھے ھر جگہ پیار کا پانی بھرا پڑا ھے،خوف اور ڈر اندر گھستے ھوئے ڈرتے ھیں،،
میں نے بہت چاھا کہ اس میں ڈراوے اور خوف کا کوئی عنصر تلاش کر لوں ! مگر ناکام رھا،، میں خوف اور ڈر نام کی کوئی چیز اپنے اندر نہیں پاتا ،میں نے اسے سراپا رحمت ھی رحمت، پیار ھی پیار پایا ھے ! معاف کرنے والا ،در گزر کرنے والا ،نہ صرف عذر قبول کرنے والا بلکہ خود عذر دماغ میں سجھانے والا،، اسی نے آدم علیہ السلام کو توبہ کا صیغہ اور طریقہ سجھایا تھا !
آپ جب کسی سے کوئی لوکیشن پوچھتے ھیں تو وہ خود جس رستے سے اس منزل تک گیا ھوتا ھے ،بالکل اسی رستے سے آپ کو سمجھاتا ھے،،وھی چوک ، وھی سگنل، وھی رائٹ سے لیفٹ اور لیفٹ کے بعد دوسرا کٹ !
اللہ کا رستہ سجھانے والے بھی قسم قسم کے لوگ ھیں،،مگر میں نے تو اسے پیار میں ھی پایا ھے،، پیار کے رستے سے ھی لوکیشن سمجھاتا ھوں ،اس میں کوئی رائٹ اور لیفٹ ھے ھی نہیں،، آپ سے اللہ تک درمیان میں کوئی ھے بھی نہیں !
میں جب بھی مصنوعی خوف طاری کرنے کی کوشش کرتا ھوں تو لگتا ھے جیسے وہ اللہ طنزیہ انداز میں دیکھتا ھے اور ایک لمبــــــــــــــــــی ھـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــوں کر کے فرماتا ھے '' تیری ساری زندگی تیرے چونچلے برداشت کرتے،، تجھے سنبھالتے، سنوارتے ،اٹھاتے بناتے گزر گئی،، اب جب ھم سے ملاقات کا وقت آیا تو جناب کو ھم سے ڈر لگنا شروع ھو گیا ؟ ذرا ھمیں بھی دکھاؤ جی وہ ڈر کدھر ھے ؟ تا کہ ھم اس کا علاج کریں ! تمہارے اندر تو کوئی نہیں ، ڈر بھی کوئی نہیں اور ڈر کی جگہ بھی کوئی نہیں ،ھمیں تو سارے سٹور پیار سے ھی بھرے ملے ھیں !
"لا خوفٓ علیھم ولا ھم یحزنون " سے ھی تو ھماری دوستی شروع ھوتی ھے ! اب یہ دوستی کی انتہا میں خوف کہاں سے آ گیا ؟ جب لوگ دوسروں سے ڈرتے ھیں تو اللہ انہیں فرماتا ھے کہ ' اگر ڈرنا ھے تو پھر میں زیادہ حقدار ھوں کہ مجھ سے ڈرو ،کیونکہ تمہارا نفع نقصان تو میں کر سکتا ھوں،،فلا تخافوھم و خافونِ " چنانچہ تم ان سے مت ڈرو ،مجھ سے ڈرو،، فلا تخشوھم واخشونِ'' ان سے سہمے سہمے مت رھا کرو ھم سے سہمے رھا کرو ! یہ تو خوف کے مریض کو دوا دی جا رھی ! خوف مرض ھے اور پیار صفت ھے،، محبت مطلوب ھے !
البتہ میں اس سے محبت کرتا ھوں ،دنیا کی ھر چیز مجھ سے محبت کرتی ھے کیونکہ وہ اللہ سے بھی محبت کرتی ھے اور اللہ سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت کرتی ھے،اللہ کی ساری کائنات مجھے اپنی اپنی لگتی ھے اور اللہ جب میرے ساتھ ھوتا ھے تو وہ سیلوٹ کرتی نظر آتی ھے، وہ مجھے رشک کی نگاہ سے دیکھتی ھے ،، جان دار اور بے جان کی کوئی تخصیص نہیں ھے! مجھے یہ احساس کہ اللہ میرے ساتھ ھے،، کسی سے ڈرنے نہیں دیتا،کسی سے دبنے نہیں دیتا ،، کسی سے مرعوب نہیں ھونے دیتا،، دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ھونے دیتا،، میرے پیارے نبی ﷺ کی دعا ھے، اللھم بک ادرأ فی نحور الاعداءِ والجبابرہ ،، ائے اللہ میں تیرے بھروسے پر دشمنوں کی گردنوں پر ھاتھ ڈال دیتا ھوں اور جابروں سے ٹکــرا جاتا ھوں ! مجھ سے جب کوئی ایسی غلطی سر زد ھو جاتی ھے جس سے مجھے احساس ھوتا ھے کہ میرا اللہ مجھ سے ناراض ھو گیا ھو گا تو میں سہم جاتا ھوں اس شوخے بچے کی طرح جو باپ کی موجودگی تو بڑی ڈھینگیں مارتا ھے ،مگر جونہی ان سے بچھڑتا ھے تو اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک جاتی ھے اور چہرے پر ھوائیاں اڑنے لگتی ھیں ! میرا بھی یہی حال ھوتا ھے،،مجھے اپنی پشت خالی لگتی ھے،میں اپنے کو لاوارث سمجھتا ھوں، اپنی گاڑی سے بھی ڈر لگتا ھے،، گاڑی کے ٹائر سے بھی ڈر لگتا ھے کہ یہ اچانک پھٹ سکتا ھے،، ھر چیز مجھے ڈراتی ھے جیسے انہیں پتہ چل جاتا ھے کہ میں لاوارث ھو گیا ھوں ! میں اللہ سے بچھڑ کر ھر چیز سے ڈرتا ھوں ،، میں رو رو کر اپنے رب کو منانے کی کوشش کرتا ھوں،، جنت کے لئے نہیں ! اور نہ آگ کے ڈر کی وجہ سے ! بس مجھے اللہ کی ناراضی میں دنیا ھی جہنم لگنے لگتی ھے،، وہ جو رو رو کر چاھتے تھے کہ ان کو سنگسار کیا جائے وہ رب کو ناراض کر بیٹھے ھیں ،، ان سے پوچھئے انہیں کیا ھو جاتا ھے انہیں یہ زندگی عزیز کیوں نہیں رھتی ؟؟ نہ وہ جنت جانے کے لئے سنگسار ھونے آئے تھے اور نہ جہنم سے بچنے کے لئے !! محب کے لئے محبوب کی ناراضی سب سے بڑی سزا ھے ! اور محبوب کی خوشی سب سے بڑا انعام ھے،، اس لئے جنت کی ساری نعمتوں کا ذکر فرما کر آخر میں فرمایا کہ،، و رضوان من اللہ اکبر ! اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ھے ! نبیﷺ نے ان کو سزا نہین دی تھی،، سزا سے نجات دی تھی،، ان پر مہربانی کی تھی ! اللہ سے ان کا راضی نامہ کرا دیا تھا،، نبی پاکﷺ کی یہ سنت رھی ھے کہ جس نے اپنے لئے جو سزا تجویز کر لی پھر آپﷺ نے اسے اس کے پیار کے حوالے کر دیا،، جس نے اپنے کو ستون سے باندھ لیا ،،فرمایا اب اسے رب ھی کھولے گا کیونکہ یہ محب اور محبوب کی بات آگئ ھے،، اسی طرح ان سگنسار والوں نے بار بار کے منع کرنے اور موقع دیئے جانے کے باوجود اپنے محبوب کو راضی کرنے کا ایک طریقہ پسند کر لیا تو نبیﷺ نے حسبِ دستور پھر مداخلت نہیں کی !
بات کا رخ تبدیل ھو گیا ھے،،تو عرض یہ ھے کہ مجھے میرے گناہ ڈراتے ھیں،، اور ڈر اللہ کی ناراضی کا ھوتا ھے کہ میرا خالق ،میرا مالک، میرا مصور،، میرا محسن،میرے دکھوں کا ساتھی ،میرے سکھوں اور خوشیوں کا منبع میرا پیارا رب ناراض نہ ھو جائے،، اس ڈر کے سوا مجھے کبھی اور کوئی ڈر نہیں لگا،،
یقین کریں میں اپنے آپ کو اپنے اللہ سے ڈرا نہیں پایا !! اس کا پیار مجھے ڈرنے نہیں دیتا،،اس نے میرے ساتھ ڈرنے ڈرانے والا کوئی معاملہ کیا ھی نہیں ! پھر جھوٹا ڈر بھی تو ایک قسم کا جھوٹ ھی ھوتا ھے اور مجھ سے یہ جھوٹ بولا نہیں جاتا !! اب لگا لیجئے جو فتوے لگانے ھیں !!
Subscribe to:
Posts (Atom)