Saturday, March 1, 2014

الف اللہ چنبے دی بُوٹی


الف اللہ چنبے دی بُوٹی !!

ویگن اسٹاپ پر آدھی رات کے وقت ایک اک تارے والا گا رھا تھا "

ایمان سلامت ھر کوئی منگے ، عشق سلامت کوئی ھـُو !
ایمان منــگن شـــرماون عشقوں ، دل نوں غیرت ھوئی ھـُو !

جس منزل نوں عشق پہنچاوے،ایمانوں خبر نہ کوئی ھـُو !
میرا عشـــق سلامت رکھیں ،، ایمانـوں دیا دھــروئی ھـُو !

ایک صاحب نے پوچھا بابا عشق کیا ھوتا ھے ؟

اک تارے والے نے انہیں غور سے دیکھا ! اور دھیمے لہجے میں پوچھا !
بابو جی ! بھوک کیا ھوتی ھے ؟

بابو جی لاجواب ھو کر اس کا منہ دیکھنے لگے !!

بابا بولا ، بابو جی جسے کبھی بھوک لگی ھی نہ ھو ،اسے کوئی کیسے سمجھا سکتا ھے کہ بھوک کیا ھے ؟ اور جسے لگتی ھے اسے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ھی نہیں رھتی کہ بھوک کیا ھے ! اس کا تو اندر بھوک بھوک کا ورد کرتا ھے ! اتنا کہہ کر اک تارے والا گہری سوچ میں ڈوب گیا ! 
پھر آئستہ سے بولا ! بابو جی بھوک نہ ھو تو کھانا بھی بوجھ بن جاتا ھے !
عشق نہ ھو تو ایمان بھی بوجھ بن جاتا ھے اور انسان پہلی فرصت میں اس سے جان چھڑا لیتا ھے !
واضح رھے یہ پوچھنے والا سابقہ جج اور فلسفوں کو کنگھال مارنے والا پڑھا لکھا شخص تھا مگر بقول اس کے اس ٹھٹھرتی رات میں اس اکتارے والے کے سامنے اس کے سارے فلسفے ٹھٹھر کر رہ گئے تھے !
اللہ اور اس کے حبیبﷺ سے محبت نہ ھو تو فرائض اور سنتیں ایک بوجھ بن جاتے ھیں ،، جن سے آگ کے ڈر کی وجہ سے ھی انسان عہدہ برآ ھوتا ھے !
وہ مسجد آ کر عزت نہیں پاتا بلکہ بستہ بے کے مجرموں کی طرح حاضری لگوانے آتا ھے ! اور تیرا دل تو ھے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں " کا مصداق ھوتا ھے !!

نہ تو توکل توکل لکھنے سے کوئی متوکل ھو جاتا ھے اور نہ ھی سکون سکون کا ورد کرنے سے کسی کو سکون قلب ملتا ھے،، جب کسی سے محبت ھو تو پھر اس کا نام سن کر جو راحت دل میں پیدا ھوتی ھے اس کا نام سکون قلب ھے،، الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کا یہ مطلب ھے ،، اور لوگ اللہ اللہ اللہ کا ورد کر کے اس میں سے سکون نکالنا چاھتے ھیں،، وہ اللہ کہنا عاشق کا اللہ کہنا ھے،، نہ کہ کسی ھائپر ٹینشن کے مریض کا ! کیا مجازی محبت میں محبوب کے تذکرے سے آپ کو سکون نہیں ملتا ؟ وہ کہاں سے آتا ھے ؟ اسی کنوئیں سے اللہ والا سکون بھی ملتا ھے مگر شرط پیار کی ھے ! اور جب پیار ھو جائے اور وہ اصلی والا ھو تو محبوب کے رستے کی تکلیفیں بھی سکون دیتی ھیں ،، گِلے پیدا نہیں کرتیں !

عامر عثمانی کی طویل غزل کا شعر ھے !

عشق کے مراحل میں وہ بھی مقام آتا ھے !
آفـتیں برستــی ھیں، دل سکـــــون پاتا ھے !

مشکلیں اے دل! سخت ھی سہـــی لیـکن !
یہ نصیب کیا کم ھے کہ " کوئی " آزماتا ھے ! 

میں غالباً چار سال کا تھا ! سپارہ پڑھ کر مسجد سے نکلا تو ایک لڑکے نے لڑکی کا رستہ روکا ھوا تھا، دونوں ماموں اور پھوپھی سے کزن تھے ! لڑکی کے ھاتھ میں کپڑے ماپنے والا لوھے کا گز تھا ،جو وہ غالباً کسی کے گھر سے مانگ کر لے جا رھی تھی، اس نے لڑکے کو کہا کہ میرا دل چاھتا ھے کہ میں یہ گز تمہارے سر پہ دے ماروں ! اس پہ اس لڑکے نے اسے قسم دی اگر وہ اس کو نہ مارے ! لڑکی نے مسکراتے ھوئے ٹھاہ کر کے گز اس کے سر پہ دے مارا ! لڑکے نے سر پہ ھاتھ رکھ لیا،جب ھاتھ ھٹایا تو اس کا ھاتھ خون سے لتھڑا ھوا تھا ! اس نے خون کو چوما اور رستہ چھوڑ دیا،، رشتہ ھو گیا دونوں کی شادی ھو گئ ،اولاد ابھی تک نہیں ھوئی اور ظاھر ھے اب ھونے کے امکانات بھی نہیں رھے،، والدین کے اصرار کے باوجود اس لڑکے نے زندگی بھر شادی نہیں کی، مجھے اس سے محبت ھے اولاد سے نہیں،، جو اولاد اسے دکھ دے کر ملے وہ مجھے نہیں چاھئے ،،یہ عشقِ مجازی کی وارداتیں ھیں،، عشقِ حقیقی کی تو عین میں ھی جہان ڈوب جاتا ھے !

جو لوگ صحابہؓ کی دعاؤں پہ عقلی استدلال کرتے ھیں ،وہ بھی ابھی بغدادی قاعدہ پڑھتے ھیں،،میں ان سے درخواست کرتا ھوں کہ وہ عقلی طور پر ثابت کر دیں کہ انسان کی تخیلق ھی عقلاً ضروری تھی ! اللہ کی وہ کونسی ضرورت تھی یا مجبوری تھی جو انسان کی تخلیق کی محرک بنی ھے ! اور اگر انسان نہ ھوتا تو اللہ کی عظمت میں کیا فرق پڑ جانا تھا ؟

انسان عقل کی تخلیق نہیں عشق کی تخلیق ھے ! اللہ کو صاحب عشق مخلوق درکار تھی،، عشق ضرورت نہیں دیکھتا ، اس کے اپنے قواعد ھیں،، جنت والے بھی ھیں اور جہنم والے بھی ھیں،، دائیں والے بھی ھیں اور بائیں والے بھی ھیں ،،مگر آگے نکل جانے والے بھی ھیں،، و کنتم ازواجاً ثلاثہ،، اور تم تین گروھوں میں بٹ جاؤ گے،، اصحاب الیمین ،، و اصحاب الشمال ،،، والسابقون السابقون ،، یہ آگے نکل جانے والے ھی عشق والے ھیں،، جنت والوں کو نبی اپنی معیت میں جنت میں لے جائیں گے،، اور عشق والوں کو اللہ اپنے ساتھ لے کر جائے گا،، اللہ فرمائے گا،،جنہوں نے جنت کے لئے کیئے وہ جنت میں چلے گئے،، جنہوں نے جہنم والے کیئے وہ جہنم میں چلے گئے،، میرے لئے کرنے والو آؤ چلیں ،،یہ رب کی معیت میں چلیں گے،، 
یہ وہ مقام ھے جہاں کہنے والے کہتے ھیں کہ جہنم کے ڈر سے کرتی ھوں تو جہنم واجب کر دے ،، جنت کی لالچ میں کرتی ھوں تو جنت حرام کر دے،، ائے اللہ میں تو تجھے اس لئے سجدے کرتی ھوں کہ تو ھے ھی سجدوں کے قابل !
یا "جنت میں جو میرا حصہ ھے اے اللہ وہ اپنے دوستوں کو دے دے،،دنیا میں جو میرا حصہ ھے اے اللہ وہ اپنے دشمنوں کو دے دے،، میرے لئے تو تـُو اور تیری محبت ھے کافی ھے ! 

بس مجھے سمجھ نہیں لگتی میں اپنا دل کہاں کہاں رکھوں !

Wednesday, February 26, 2014

طویل زندگی کے تجربات آپ کی نظر



امریکہ کا 90سال بوڑھا،سٹیفن فلیمنگ گرم و سرد چشیدہ انسان ہے۔طویل زندگی میں اسے جو تجربات ملے،وہ ان کا خلاصہ کچھ یوں بیان کرتا ہے:
1۔زندگی انصاف پسند نہیں، پھر بھی ہنسی خوشی گزاری جا سکتی ہے۔ 2۔جب شک میں گرفتار ہوں، تو بس یہ کیجیے کہ اگلا قدم اٹھا لیجئے۔ 3۔جب بھی آپ بیمار ہوئے ،تو کام آپ کی تیمار داری نہیں کرے گا،اہل خانہ اوردوست دیکھ بھال کریں گے۔ 4۔ایسی اشیاء مت خریدیے جن کی ضرورت نہ ہو۔ 5۔آپ ہر بحث جیتنے کی کوشش نہ کیجیے،بس نیک نیت رہیے۔ 6۔رونا ہو،توکسی کے ساتھ مل کر رویئے۔تنہا رونے کی نسبت یوں زیادہ آرام ملتا ہے۔ 7۔بدلے وقت میں کام آنے کے لیے کچھ سرمایہ ضرور محفوظ رکھیے۔ 8۔جب پانی سر سے اونچا ہو جائے،تو پھر مزاحمت بے معنی ہے۔ 9۔اپنے ماضی سے دوستی رکھیے تاکہ وہ آپ کے حال کو تباہ نہ کر سکے۔ 10اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے نہ کیجیے، آپ نہیں جانتے کہ ان کی زندگیاں کیونکر گزررہی ہیں۔ 11۔ایسا کوئی رشتہ قائم نہ کیجیے جسے خفیہ رکھنا مقصود ہو۔ 12اگر بچے آپ کو روتا ہوا دیکھ لیں،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 13۔پلک جھپکنے میں سب کچھ بدل سکتا ہے…مگر پریشان مت ہوں،خدا تعالیٰ پلک نہیں جھپکتے۔ 14۔گہرا سانس لیجیے…یہ دماغ پُرسکون کرتا ہے۔ 15۔ہر بے مقصد شے سے نجات پائیے…بیکار کا بوجھ خود پر سوار نہ رکھیے۔ 16۔جو چیز نقصان دہ نہیں،وہ آپ کو مضبوط بناتی ہے۔ 17خوش رہنے میں کوئی دیر نہیں لگتی…مگر صرف اور صرف آپ ہی خوشی پا سکتے ہیں۔ 18۔صاف کپڑے پہنئیے ،گھر کی صفائی کیجیے،عمدہ کھانا پکائیے، یہ امور کسی خاص موقع کے لیے نہ چھوڑیے…آج کا دن ہی خاص ہے۔ 19اگر آپ تیاری نہیں کر سکے،تو خود کو بہائو کے رخ چھوڑ دیجیے۔ 20۔جب بھی کوئی آفت یا پریشانی حملہ کرے،تو ان الفاظ سے اس کا مقابلہ کیجیے…پانچ برس بعد تمھاری کیا حیثیت ہو گی؟ 21۔ہمیشہ زندگی کا انتخاب کیجیے۔ 22۔مادی قوت کے بجائے روحانیت پر بھروسہ رکھیں۔ 23۔لوگ آپ کے متعلق کیا سوچتے ہیں،اس کی بالکل پروا نہ کیجیے۔ 24۔وقت ہر زخم مندمل کر دیتا ہے… وقت کو وقت دیجیے ۔ 25۔حالات کتنے ہی اچھے یا برے ہوں،بدل جاتے ہیں۔ 26۔کرشموں پر ایمان رکھیے۔ 27۔زندگی کا حساب کتاب نہ رکھیے، بلکہ وہ جیسی بھی ہے،گزاریے۔ 28۔بڑھاپاجوانی میں موت آ جانے سے بہتر ہے۔ 29۔یاد رکھیے ،آپ کے بچوں کو صرف ایک بار ہی بچپن ملے گا۔ 30۔آخر میں صرف محبت ہی کام آتی ہے۔ 31۔روزانہ باہر کا چکر ضرور لگائیے… ہر سو کرشمے آپ کے منتظر ہیں۔ 32۔اگر دنیا کے سبھی انسان اپنے اپنے مسائل پاتال میں پھینک دیں اور آپ ان کا معائنہ کریں، تو اپنے اٹھانے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے۔ 33۔حسد کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔آپ کو جو حاصل ہے،اس پر قانع رہیے اوراپنی تمنائوں کو لگام دیجیے۔ 34۔ہمیشہ سوچئیے…بہترین وقت آنے والا ہے۔ 35۔آپ کا موڈ کیسا بھی ہو،اُٹھیے،تیار ہوئیے اور اپنا آپ دکھائیے۔ 36۔سرتسلیم خم کیجیے۔ 37۔زندگی تیر سے بندھی کمان ہے،پھر بھی اِسے عظیم تحفہ سمجھیے۔

Tuesday, February 25, 2014

ناشکرے انسان سے رب کا مکالمہ

ناشکرے انسان سے رب کا مکالمہ !

نحنُ خلقناکم فلو لا تصدقون ؟

ھم نے تمہیں بنایا اور تم ھی ھماری بات پر اعتبار نہیں کرتے،نہ ھماری بات کو سچ سمجھتے ھو اور نہ اس کی تصدیق کرتے ھو ! ویسے کمال کرتے ھو !
تم جیسا جھگڑالوُ تو پوری مخلوق میں نہیں ھے،، اور ناشکرا تو تــُــو کمال کا ھے ! ھم نے تمہیں صدیوں امانت کے طور پہ سنبھالے رکھا،جہاں بھی تمہیں شفٹ کیا وھیں تیرا خاص خیال رکھا جیسے ھمیں تیرے سوا کسی سے دلچسپی ھیں نہیں ! زیادہ دور نہ جا ،، ھاں صدیوں پیچھے نہ جا صرف تیرے پردادا سے تمہیں شروع کرتے ھیں،، ھم نے تیرے پردادا کو اس وقت تک مرنے نہیں دیا جب تک تمہیں اس سے نکال کر آگے منتقل نہیں کر دیا ! تیرے پردادا کو تو بیماری سے مار دیا مگر تمہیں اس بیماری سے بچا لیا ،پھر تیرے دادا کو ھم سنبھالے سنبھالے پھرتے تھے کہ اس میں میری ایک امانت ھے ،، اسےھر حادثے سے بچائے رھے تا آنکہ تجھے اس میں سے بچا نکالا اور آگے منتقل کر دیا ! اور تیرے باپ میں بھی ھم تجھ پر نظر رکھے رھے کہ کہیں تو کھو نہ جائے ،تجھے کچھ ھو نہ جائے !

تــــــُــو پیدا ھو گیا !

قتل الانسانُ مآ أکفــــــرہ ! من ای شئً خلقہ ؟ من نطفہ !

مارا جائے یہ انسان ،،'گولہ لگے اسے" یہ کتنا ناشکرا ھے !

کس چیز سے اسے بنا کھڑا کیا؟ نطفے سے !

چلـــــــو تمہیں اس کی یاد نہ ھو گی مگر جو تجھ سے نکلتا ھے اسے دیکھا ھے ؟

اَفَرایتم ما تمنون ؟ جو تم ٹپکاتے ھو ،اسے تم دیکھتے ھو ناں ؟
پھر اس میں سے جو ھم بنا کھڑا کرتے ھیں وہ بھی دیکھتے ھو ناں ؟
یہ کون بناتا ھے تم یا میں ؟؟ تم تو اسے ھاتھ لگانا پسند نہیں کرتے !
تم تو اس سے کراھت کرتے ھو ! اسے بے وقعت گندگی اور فضول چیز سمجھتے ھو ! اس بے وقعت کو قیمتی کون بناتا ھے ،،میں کہ توُ ؟ اس مکروہ کو پسندیدہ کون بناتا ھے،،میں یا تُو؟؟ جس سے تو نفرت کرتا تھا اس میں سے محبوب بنا کر کون کھڑا کرتا ھے ؟ جسے تو چھونا پسند نہیں کرتا تھا ،اس میں سے چومنے چاٹنے والا کون پیدا کرتا ھے،،؟؟
پھر بھی تو ھمارا اعتبار نہیں کرتا،،ھمارے وجود کی گواھی نہیں دیتا ،تو گلی گلی چوک چوک ھمارے تذکرے نہیں کرتا ،وہ گواھی جو تو نے عہدِ الست میں دی تھی وہ تیرے پاس ھماری امانت تھی اس امانت کی خاطر ھم نے تجھے بھی امانت سمجھ کر تجھے صدیوں سنبھال سنبھال کر رکھا اور جب گواھی دینے کا وقت آیا تو ،تو نے صاف کہہ دیا کہ ،، ان ھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا وما نحن بمبعوثین،،یہ دنیا کہ زندگی خود بخود ھے ھم خود ھی جیتے ھیں اور خود ھی مر جاتے ھیں اور ھمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا !( المومنون 37 ) 
قتل الانسان مآ اکفرہ ! مارا جائے یہ انسان یہ کتنا ناشکرا ھے !
جو پانی تم پیتے ھو کبھی اسے سوچ کی نظر سے بھی دیکھا ھے ؟
اسے بادلوں سے ھم برساتے ھیں یا تم ؟ اگر ھم چاھئیں تو اسے کھارا بنا دیں ،پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے ؟ اب اسے کہاں سے اٹھاتے ھیں کیسے بہاتے ھیں باقی کو پہاڑوں پہ برسا کر محفوظ کرتے ھیں پھر اسے تیرے پیچھے پیچھے بھیجتے ھیں ، دریا پاس نہ ھو تو ھم اسے زمین کی رگوں میں دوڑا کر تیرے گھر کے پاس لاتے ھیں کہ تو اسے کنوئیں سے کھینچ لے !

جو تم مٹی میں دبا کر گھر لوٹ آتے ھو ،اسے کون اگاتا ھے اور تیرے پیچھے بوریاں بھر کر بھیجتا ھے ،، ؟ اگر ھم چاھتے تو اگنے سے پہلے اسے مار دیتے اور تو دُھائیاں دیتا پھرتا کہ میں برباد ھو گیا میری تو اصل بھی ضائع ھو گئ مجھے تو چَـٹی پڑ گئ !

تم اپنے آپ کو تو نہیں بھولے، اپنے خالق اور پالنے والے کو کیسے بھول گئے؟ ما غرک بربک الکریم ؟ اپنے رب کریم کو کیسے بھولے؟ کس نے بھلا دیا ؟ تجھے اپنی ذات یاد ھے پھر اس ذات کو بنانے والا کیونکر بھول گیا؟ تجھے عارضی پتہ یاد ھے تو مستقل پتہ کیسے بھول گیا؟ ھم نے تجھے تین اندھیروں میں سب سے چھپا کر بنایا اور صلاحیتوں سے اس طرح بھر دیا جس طرح شہد کا چھتہ شہد سے بھرا ھوتا ھے،، ھم ھی تیرا باعزت حوالہ ھیں،، تو دوسری نسبتوں سے اپنے کو باعزت ثابت کرنا چاھتا ھے ! ھم نے تجھے بھیجا، اپنے کام سے بھیجا کہ ھماری ھستی کی دھوم مچا دو دنیا میں اور پھر تمہیں ھمارے پاس آ کر جوابدھی کرنی ھے کہ ھمارے وجود کی گواھی دے کر آئے ھو یا تم بھی جا کر مخالف پارٹی سے مل گئے تھے اور ھمارے ھی خلاف گواھی دے آ ئے ھو ،،؟ !

دکھ اور سکھ کی حکمت


دکھ اور سکھ کی حکمت !

دکھ اور شکست دونوں کا کوئی وارث نہیں ھوتا ! 

جبکہ کائنات کے خالق نے دونوں میں بہت حکمت رکھی ھے !

جب آپ ایک دوا مسلسل لیتے رھتے ھیں تو پھر بدن اس کے خلاف مزاحمت کرنے پر قادر ھو جاتا ھے، اب وہ دوا اس کے لئے چاکلیٹ بن جاتی ھے، ڈاکٹر اسے فوراً تبدیل کر دیتا ھے !

جس لمحے آپ کو کوئی خوشی نصیب ھوتی ھے تو ٹھیک اگلے لمحے سے اس کا زوال شروع ھو جاتا ھے اور ھر آنے والا لمحہ ایک سوراخ کی مانند ھوتا ھے جس میں سے وہ خوشی قطرہ قطرہ ٹپک کر ختم ھو جاتی ھے،، نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ اب آپ کو خوش ھونے کے لئے خوشی کی مزید ھائی پوٹینسی ڈوز چاھئے،، اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ھے یہانتک کہ جب بندے کے پاس دنیا کی ھر چیز موجود ھوتی ھے مگر خوشی نہیں ھوتی ! اب اسے صرف ایک ھی دوا نظر آتی ھے جو اسے تھرل دے سکتی ھے،کچھ نیا کر سکتی ھے اور وہ موت ھے ! یورپ میں خود کشی کا تناسب امیر گھرانوں میں زیادہ ھے !
غریب کی خوشی بھی چھوٹی سی ھوتی ھے،، وہ شروع میں ھی نس میں لگنے والے ٹیکے کی طرح خوشی کا انجیکشن نہیں لیتا ، بلکہ خوشیوں کی بہت ھلکی سی ڈوز لیتا ھے،، اس پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ھے اجر بھی لیتا ھے اور اگلی خوشی کا مزہ بھی !

دکھ پہلی خوشی کو نیوٹرلائز کر دیتا ھے، اس خوشی کے مضر اثرات کو زیرو کر کے انسان کو پھر نئ خوشی کے لئے تیار کر دیتا ھے،جس طرح کسان فصل لینے کے بعد اس زمین کے بخیئے ادھیڑ دیتا ھے، اس میں دو پھالی راجہ ھل چلا کر نیچے کا حصہ اوپر اور اوپر کا نیچے کر دیتا ھے،، اسے کھاد دیتا ھے اور سہاگہ چلاتا ھے،یوں اسے نئ فصل کے لئے تیار کر دیتا ھے،، اگر انسان امیری میں غریبوں کے درد کو اپنے اوپر وارد کرتا رھے ، اس درد کو محسوس کرتا رھے اور اس کا مداوہ کرتا رھے تو اب اسے اپنے دکھ کی ضرورت نہیں رھتی،، اور اللہ پاک اسے ذاتی دکھوں سے دوچار نہیں کرتا ! نیز غریبوں کی دعائیں اس کے مصائب کے خلاف ڈھال کا کام کرتی ھیں ! 

جب کسی مریض کو 500 روپے بھی دے دو تو جو جو اور جس قسم کی دعائیں وہ دیتا ھے سن کر انکھیں بھیگ جاتی ھیں ،،یہ 15 بیس درھم ھم یہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر جھٹ خرچ کر دیتے ھیں جبکہ کسی اور کے لئے یہی 20 درھم زندگی موت کا مسئلہ ھوتے ھیں ! کبھی اسپتال کے ڈینگی وارڈ کے باھر جا کر دیکھئے، کچھ لوگ سر پکڑے بیٹھے نظر آئیں گے ! پوچھیئے گا تو جواب ملے گا ، ڈاکٹر نے بولا ھے کہ خون کی فوری ضرورت ھے،، آپ اسے کہیئے کہ پھر بیٹھے تماشہ کیا دیکھ رھے ھو جا کر جلدی سے خون لاؤ !! وہ پلٹ کر کہے گا کیسے لاؤں کہاں سے لاؤں میرے پاس تو ٹیکسی کا کرایہ بھی نہیں ! یہ وہ جگہ ھے جہاں آپ کسی کی جان بچا کر اپنی گردن آخرت میں آزاد کر سکتے ھیں ! بات صرف 20 ھزار کی ھے،، 20 ھزار سے زیادہ خون نہیں لگتا مگر کچھ بچے اپنی ماں کی پرشفقت گود سے محروم ھونے سے بچ جاتے ھیں،، کچھ بچے یتیم ھونے سے بچ جاتے ھیں،، 

جو لوگ سود نہیں کھانا چاھتے مگر بینک میں پیسہ رکھنا بھی ان کی مجبوری ھے وہ پیسہ ان لوگوں کو جان بچانے کے لئے دے سکتے ھیں،، وہ ھمارے لیئے ناجائز ھے،، ان اضطرار والوں کے لئے جائز ھے ! لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کر کے اپنے حصے کا درد وھاں محسوس کر لیں گے تو اپنے دکھوں سے بچے رھیں گے ! کسی کے بچے کی ٹانگ ٹوٹنے پر اپ اپنے بچے والا درد محسوس کر لیں گے اور اس کے علاج کے لئے بھاگ دوڑ کریں گے تو آپ کے بچے کی ٹانگ توڑ کر آپ کو دکھ دینے کا پلان اللہ پاک منسوخ کر دیں گے کہ اس نے اپنے مقدر کا درد وصول کر لیا ھے ! یوں آپ کو اجر بھی ملے گا،، گھر سے مصیبت بھی دور رھے گی اور آپ کا بچہ بھی محفوظ رھے گا اور آپ کے قلب و نظر میں رقت و گداز بھی رھے گا اور آپ رب کے قریب بھی ھو جائیں گے

Sunday, February 9, 2014

ایسی تیسی میرے گناھوں کی



جب آپ رات تیسر پہــر نفل پڑھ رھے ھوں
 سر سجدے میں ھو تھوڑی دیر سکوت اختیار کیجئے اچھی طرح اپنی ھیئت کا جائزہ لیجئے کہ آپ کا سر ربِ قدوس کے قدموں میں دھرا ھے جس نے آپ کو بخشنے کے لئے نزول فرمایا ھے ! اس جائزے کے بعد آپ آٹو سے مینوئل پر منتقل ھو جائیں گے،اب آپ آرام کے ساتھ تسبیح پڑھئے ،اس طرح کی سبحان کے بعد ربـــــــــــــــــــــی کو لمبا کھینچیں،،اس ربی میں دو ھستیاں ھیں ایک آپ کا رب ھے اور دوسرے آپ ھیں اس ربـــــــــــــــــــــی کو کھینچ کر ان کا آپس میں رابطہ بحال کریں، اس وقت وہ ربنا نہیں ھے،،وہ صرف میرا رب ھے،میرے لئے نزول فرمایا ھے، سبحان ربــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــی،یہ " ی " آپ ھیں ،، اپنے کو لمباڈالیں اس کے قدموں میں ، اب آپ تسلی کے ساتھ اپنے رب قدوس کو اپنی مادری زبان میں مخاطب کیجئے اور اپنے گناہ بیان کرنا شروع کیجئے ! میرے مولا ،میرے آقا ،میرے پالنے والے ،مجھے پیدا کرنے والے ،مجھے شکل و صورت عطا فرمانے والے ،مجھ پر نعمتوں کی بارش کرنے والے،میری ذرا ذرا ضرورتوں کا خیال رکھنے والے مجھے سنبھال سنبھال کر رکھنے والے ،اب میرے کارنامے سن ،میرے کرتوت سن ،میری ناشکریاں بھی سن،، بسم اللہ کر کے اپنی خالص مادری زبان میں گنوانا شروع کیجئے ابھی آپ تین یا چار ھی گنوا پائیں گے کہ گناہ اس تیزی سے  پاپ اَپ کرنا شروع کریں گے جیسے موسلا دھار بارش میں بلبلے اٹھتے ھیں،، یہ اللہ کی رحمت کی بارش میں اٹھنے والے بلبلے ھیں جو اٹھتا ھے پھٹتا ھے اور مٹتا جا رھا ھے،، لگتا ھے گناھوں میں مسابقت کی دوڑ لگ گئ ھے ،ھر گناہ چاھتا ھے کہ پہلے وہ شمار کیا جائے ! یہ وھی کیفیت ھے جو نبی کریم ﷺ کے اونٹوں کی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حجۃ الوداع میں ذبح فرما رھے تھے تو ھر اونٹ دوسرے سے پہلے حضورﷺ کے پاس پہنچنا چاھتا تھا،، اسی طرح آج گناھوں کو پاک ھونے کی جلدی ھے،آپ کی زبان ان کی جلدی کا ساتھ نہیں دے سکے گی وہ گنگ ھو جائے گی،ھونٹ تھرتھراتے رہ جائیں جائیں گے، مگر آپ فکر مت کریں ، انہ علیمٓ بذات الصدور ،، وہ سینوں کے سارے بھید جانتا ھے،، آپ بس دھیان جمائے رکھئے گناھوں کے بلبلے پھٹنے دیجئے،، یہ گناہ آج ایکسچیج ھو رھے ھیں،، ُیبَدِۜلُ اللُہ سیئاتھم حسنات ! اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے تبدیل کر دے گا،، آج تبادلے ھونے ھیں،، بڑے بڑے کرنسی نوٹ پہلے گنتی کیئے جاتے ھیں،، ھر بڑا گناہ چاھتا ھے پہلے اسے پاک کیا جائے ،، اترنے والا خالی ھاتھ نہیں آیا ،، وہ رحمت کے خزانوں کے ساتھ آیا ھے،، وہ گناھوں کو نیکیوں سے تبدیل کرتا ھے، پھر نیکیوں کو دس سے ضرب دیتا ھے تو کچھ کو سات سو سے ضرب دیتا ھے،، اس کیفیت میں سجدے کو چلنے دیجئے،دس منٹ ، پندرہ منٹ، کوئی مسئلہ نہیں اسے چلنے دیں،،شاید کل ھی یہ توفیق نہ رھے،،ھمیں بیٹھ کر نماز پڑھنی پڑ جائے،،اشارے سے سجدہ کرنا پڑ جائے،، آج ماتھے کو اس کی لذت لینے دیجئے ،،، آپ اس کیفیت کے ساتھ صرف دو رکعت پڑھ لیجئے ، پھر آپ کو رب ھر جگہ اپنے ساتھ محسوس ھو گا ،، آپ لوگوں سے سوال نہیں کریں گے کہ رب کہاں ھے،، آپ ان کو بتائیں گے کہ میرا رب یہاں ھے،، کلا ان معی ربی،،میرا رب میرے ساتھ ھے،، ان اللہ معنا ،، بیشک اللہ ھمارے ساتھ ھے،،اللہ کی یہ" معـــیت " آپ کو اس کیفیت سے دو چار کر دے گی،جسے" لا خوفٓ علیھم ولا ھم یحزنون "کہتے ھیں! ایک طرف اپنی ذات کے اندر تکبر ،غرور،حسد، کینہ جیسی برائیاں آپ دیکھیں گے کہ گویا ڈس ایبل اور معطل ھو گئ ھیں تو دوسری طرف کسی کے کسی فعل کا کوئی رد عمل آپ میں پیدا نہیں ھو گا،، آپ کی شخصیت کو لیمینیٹ کر دیا جائے گا،جس طرح پلاسٹک کور کرنے کے بعد کاغذ جیسی کمزور چیز پر بھی پانی وانی کا اثر نہیں ھوتا،،اسی طرح آپ پر آفس والوں کی کسی سازش کا اب کوئی اثر نہیں ھو گا،، فلاں میرے باس کو بھڑکا دے گا،، میری ترقی رکوا دے گا، یہ ساری باتیں آپ کو اب ثانوی اور معمولی لگنا شروع ھو جائیں گی اور لگنی بھی چاھئیں کیونکہ تقدیروں کا لکھنے والا تو آپ کے ساتھ ھے،،عزت اور ذلت دینے والا آپ کے ساتھ ھے،امیر اور غریب کرنے والا،ارزاق کا بندوبست کرنے والا تو آپ کے ساتھ ھے ،اگر آپ بیوی ھیں تو شوھر کی کوئی بات آپ کو محسوس نہیں ھو گی،یوں لگے گا جیسے آپ کی ذات ھر رد عمل سے ڈس ایبل کر دی گئ ھے،، نہ کوئی خوف نہ کوئی غم،، ان اللہ معنا !!
 یہ صرف دو رکعت کی بات ھے !
 آزما کر دیکھئے اور پھر اپنا اگلا دن بھی آزما کر دیکھ لیجئے !! اللہ پاک آپ کے آنسوؤں کے صدقے میرے خشک سوتے بھی رواں کر دے !


دولتیں مل گئ ھیں آھــوں کی --- ایسی تیسی میرے گناھوں کی !

سماجی زندگی جہنم


ھم صدیوں سے ایسے ایسے تصورات پالے بیٹھے ھیں جنہوں نے آج بھی ھماری سماجی زندگی جہنم بنا رکھی ھے،، جو جتنا دیندار ھے وہ اسی قدر بے سکون ھے، وہ اس بے سکونی کا علاج ٹھیک اسی بیماری سے کرتا ھے جس کی وجہ سے بے سکون ھے،نتیجہ مزید بے سکونی، جسے وہ دوا سمجھ رھا ھے وہ اصل میں داء ھے،،، میں پہلے اس موضوع پر لکھ چکا ھوں -اس کے بارے میں مرد وزن کی کوئی تخصیص نہیں اگرچہ اس سے بربادی زیادہ تر خواتین کی ھوتی ھے،،اس میں پڑھے لکھے یا جاھل ان پڑھ کی بھی کوئی تخصیص نہیں،، میرے پاس اسپیشلسٹ مرد اور لیڈی ڈاکٹرز کے کیسز بھی آتے ھیں اور کثرت سے آتے ھیں،، امیر اور غریب کی تخصیص بھی نہیں، امریکن اور یورپین ممالک سے بھی کثرت سے ایسی مثالیں سامنے آتی ھیں،مثلا صرف پچھلے سال مجھے امریکن ڈاکٹرز جوڑے جس میں میاں بیوی دونوں ھی ڈاکٹرز ھوتے ھیں ان سے واسطہ پڑا،مگر بیماری یہی دیکھی کہ اگر بیوی مذھب کی طرف راغب ھوئی ھے تو گھر گرھستی کو عیب سمجھتی ھے،،شوھر کے حقوق سے لاپرواہ ھو گئ ھے،اپنی ذات کو بھی بھول گئ ھے، نہ میک اپ نہ کپڑوں کا خیال ،نہ ھنسی مذاق ،بس ھر وقت سوچوں میں ڈوبی کہ مرنا ھے، ھائے مرنا ھے،، کدھر جاؤں گی میرا کیا بنے گا؟؟؟،،پورا گھر موت کے سناٹے میں ڈوبا ھے یا وظائف کی سرگوشیاں ھر کمرے میں ایک مصلی بچھا ھے جس پر تسبیح اور اذکار کی کتاب رکھی ھے زیادہ سے زیادہ نوافل،وظائف ،منزلیں پڑھ پڑھ کے اپنی حقیقی منزل کھو بیٹھی ھے، اور پوچھنے پھر یہی آتی ھے کہ اگر کوئی کسر رہ گئ ھے تو وہ قاری حنیف کے وظیفے سے پوری کی جائے،، میرا مشورہ ان کو یہی ھوتا ھے کہ سارے وظیفے اور منزلیں چھوڑو،، صرف نماز اور فرض روزوں کا اھتمام کرو اور اپنے شوھر کے اردگرد رھا کرو یہ مٹی کا مادھو بڑی چیز ھے،تیری جنت اس کی خوشی میں ھے،، نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ھے،جو عورت عصمت کی حفاظت کرتی ھے ،فرائض کا اھتمام کرتی ھے اور اپنے شوھر کو خوش رکھتی ھے، وہ اگر اس حال میں مر جائے کہ اس کا شوھر اس سے خوش ھو تو اسے کہا جائے گا جنت کے جس دروازے سے چاھے جنت میں چلی جائے ! مگر میرا یہ کہنا کوئی خاص فرق اس لئے نہیں ڈالتا کہ اس کا تعلق عمل کے ساتھ ھے اور عمل کا تعلق اس سافٹ وئیر کے ساتھ ھے جو ھمارے دل و دماغ میں انسٹال ھے ! وہ خطرناک سافٹ ویئر نیک بندے یا ولی اللہ کا تصور ھے،، ھم جس مذھب سے بدل کر نئے مذھب میں آئے ھیں، افسوس یہ ھے کہ یہاں بھی ایک مذھبی اور خدا ترس شخص کے بارے میں تصور سو فیصد وھی ھے ،، کسی بھی ڈرامے یا فلم میں آپ دیکھ لیں ھندو سادھو اور ھمارے فلمی ولی اللہ میں ایک منکے کا بھی فرق نہیں ھو گا،، کٹے پھٹے کپڑے،،سر اور داڑھی کے بے ھنگم بڑھے ھوئے بال، ھاتھ مین کشکول ،گلے میں مالاؤں کی لمبی قطار ھاتھ رنگ برنگے پتھروں والی انگوٹھیوں سے مزین ،، الغرض جو ھمارے اجداد نے ھندو ازم میں نیک انسان کا روپ دیکھا تھا وھی اسلام میں بھی تخلیق کر لیا،، عورت جب نیک ھوئی یا اسے نیکی کا دورہ پڑا تو اسے اپنی ازدواجی زندگی پر پچھتاوہ آیا کہ وہ کس گــند میں پڑ گئ ھے،، ھر بار ازدواجی عمل سے گزرنا اس کے احساسِ جرم میں اضافہ کر دیتا ھے،جس کا مداوہ وہ نوافل کی زیادتی اور وظائف کی کثرت سے کرتی ھے،، جس کے نتیجے میں شوھر کے دل میں مذھب کے بارے میں ایک ری ایکشن پیدا ھونا شروع ھو جاتا ھے جو اس سے اس کی بیوی چھینے لئے جا رھا ھے وہ اسے دین نہیں بلکہ جن سمجھتا ھے جو اس کی بیوی کو چڑھ گیا ھے،، بیوی کا رویہ سرد مہری میں تبدیل ھوتا جاتا ھے،، وہ ھنستی نہیں کہ اس کی ھنسی کہیں شوھر کے جنسی جذبے کو ایکٹیویٹ نہ کر دے،، وہ شوھر کو دور رکھنے کے لئے نماز لمبی کر دیتی ھے کہ شوھر سو جائے،، وہ دن کو روزہ رکھتی ھے کہ شوھر مجبور نہ کر سکے،، اور شوھر پر یہ ستم کرنے کے بعد وہ یہ توقع بھی رکھتی ھے کہ شوھر اس کے پاؤن دھو کر بھی پیئے کیونکہ وہ رابعہ بصری بن گئی ھے،جبکہ شوھر اس سے اور اسکی دینداری سے نفرت کرتا ھے، بچے بھی گھر کے افسردہ ماحول سے متأثر ھوتے ھیں،، چند سال میں وہ گھرانہ بکھر کر رہ جاتا ھے،، طلاق ھو جاتی ھے یا شوھر دوسری شادی کر لیتا ھے،،کیونکہ اسے ھنسنے کھیلنے والی بیوی چاھئے مائی طوطی نہیں چاھئے،، ایسی ضرورت سے زیادہ نیک عورت کا شوھر کسی بھی عورت کی صرف ایک مسکراھٹ کی مار ھوتا ھے،،اسے خوبصورتی سے بھی کوئی خاص تعلق نہیں ھوتا،،عموماخوبصورتی پہلی شادی میں اھم فیکٹر ھوتی ھے،،دوسری شادی میں دیگر عوامل کو اھمیت اور اولیت حاصل ھوتی ھے،،عام طور پر دوسری عورت پہلی عورت سے کم خوبصورت ھوتی ھے ،،اور ساری عورتیں تبصرے کرتی پھرتی ھیں،ھائے یہ کیا؟، اتنی خوبصورت بیوی کے ھوتے ھوئے یہ دوسری چڑیل کیوں لے آیا ھے،، جوتا جس کو چبھتا ھے اسی کو پتہ ھوتا ھے کہ خوبصورتی کہاں کاٹ رھی ھے،، پہلی بیوی بھی اب کہتی پھرتی ھے مجھ میں کیا کمی تھی،، نیک پاک خوبصورت اللہ سے ڈرنے والی چھوڑ کر دوسری کیوں لے آیا ھے،؟؟ انسان ایک وقت صرف ماں کے خون پر جیتا ھے،اس کا اپنا منہ بند ھوتا ھے،،پھر ماں کے دودھ پر،، پھر نرم غذا پر،، پھر ٹھوس غذا پر،،، اسی طرح جوں جوں انسان سماج میں بڑا ھوتا ھے،، ذمہ داریاں بھی نرم سے ٹھوس ھوتی جاتی ھیں،، عورت کا گھر گرھستی کرنا دین کا تقاضہ اور اللہ کی طرف سے ڈالی گئ ذمہ داری ھے،، کوئی بے دینی نہیں کہ جس پر پچھتایا جائے،، اور ڈیپریشن کا شکار ھوا جائے،، ازدواجی تعلق کوئی گناہ نہیں دینی فرائض میں سے اھم فریضہ ھے،، اس کا اجر نوافل سے بڑھ کر ھے،عورت نفل نماز اور نفلی روزہ شوھر کا موڈ پوچھ کر رکھ سکتی ھے،، اگر اس کا پروگرام کوئی اور ھے تو باقی سارے پروگرام منسوخ،، اس عورت پر اللہ اور اس کے رسول اور فرشتوں کی لعنت ھوتی ھے جو ضرورت کے وقت شوھر کو بلا شرعی عذر " انکار "کر  دے،،، جمعے کے دن اس بات کا خصوصی حکم دیا گیا ھے کہ جنسی طور پر دونوں میاں بیوی مطمئن ھوں،، من غسل واغتسل ،، کا اشارہ اسی طرف کیا گیا ھے،، بچوں اور شوھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے عورت کو جمعہ اور جماعت سے چھٹی دی گئ ھے،، اس کا تنور پر روٹیاں پکانا ،، اس کا جمعہ ھے، اپنی ظہر پڑھ لے،، بہت ساری صحابیات نے نبی کریم ﷺ کے خطبے کو تندور پر روٹیاں پکاتے سنا اور سورتیں یاد کیں،، اس لیئے میری اس بیٹی سے گزارش ھے جس نے سوال بھیجا ھے کہ وہ اپنے ڈیپریشن سے نکلے، گھریلو ذمہ داریوں کو خدا سے دوری نہ سمجھے اور اس کا حل وظیفوں میں نہ ڈھونڈے،، اس کا علاج اس کے اپنے بچوں میں ھے،، ان سے ترشی سے پیش نہ آئے ،، وہ اس کی ذمہ داری ھیں جن کے بارے میں اس سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا،، دل میں زنگ نہین لگا بلکہ شک کا مرض لگ گیا،، اللہ کا ذکر نماز کی صورت میں ظاھر میں موجود ھے،، اور دل میں وہ کام کاج کرتے ٹی وی چینل کے ٹِکر کی صورت وہ ھر وقت چلتا رھتا ھے،، جہاں کمی ھے اسے پورا کرو،،نوافل کی کثرت اس کمی کو پورا نہیں کر سکتی،،تمہارے یہ ھنسنے کھیلنے کے دن ھیں،،اس ھنسی سے اللہ خوش ھوتا ھے،ناراض نہیں ھوتا،،! اب آیئے مرد حضرات کی طرف،، یہ عموماً جب نیک ھوتے ھیں یا دورہ پڑتا ھے تو بستر لے کر گھر سے غائب ھو جاتے ھیں،، اس تصور سے کہ وہ دنیا مین پھنس گئے ھیں لہذا وہ گھر سے فرار کو دنیا سے فرار سمجھتے ھیں،، 3 دن اللہ کے لئے زکوۃ کے طور پر نکالتے ھیں،، باقی 27 دن احساسِ جرم مین گزارتے ھیں کہ وہ دنیا کے گند میں ملوث ھیں،،جو جتنا گھر والوں سے بھاگا رھتا ھے وہ اتنا بڑا بزرگ ھوتا ھے، اور اکابر مین گنا جاتا ھے،، ان کے گھر والے انتقاماً دین سے دور ھوتے چلے جاتے ھیں ،،اولاد برباد ھو جاتی ھے اور بیوی سرکش،، جس چیز کو ان کی ذمہ داری میں دیا گیا تھا وہ اس سے فرار اختیار کر کے نکل بھاگے ھیں،، بیوی ادھر کروٹیں بدل رھی ھے اور وہ پارا چنار کے کسی بوڑھے کے پہلو میں سوئے دین کی خدمت کر رھے ھوتے ھیں،، گھر میں بیوی شوگر کی مریض ھے،، بچہ پیدا ھونے والا ھے،، شوگر 400 سے اوپر ھے،، مگر وہ اسے چھوڑ کر چار ماہ لگانے گئے ھوئے ھیں کہ پیچھے فرشتے خیال رکھیں گے،، بچہ اٹھوایا تو انہوں نے تھا ،مگر اب ڈیلوری کے لئے فرشتے آئیں گے،، بیوی رات کو شوگر کی زیادتی کی وجہ سے کومے میں چلی گئ،، صبح بچوں کو پتہ چلا،، پڑوسیوں کو بلایا گیا،،غیروں نے حاملہ عورت کو گھسیٹ گھساٹ کے گاڑی میں ڈالا،، اسپتال پہنچایا،، بچہ ضائع ھو گیا عورت پورے دو ماہ کومے میں رھی،، اور خدا خدا کر کے ھوش آیا تو بھی بعض اعضاء سے معذور ھو گئ،،یہ میرے پڑوس کا واقعہ ھے،، اب اس کے نتیجے میں ان کی ساری اولاد قابو سے نکل گئ ھے،، اسی قسم کے ڈھیر سارے معاملات گنوائے جا سکتے ھیں،،یہاں سے نام لکھوایا ھے،،والدہ بیمار ھے گھر نہیں گئے کہ یہ وقت امانت ھے میں خیانت نہیں کر سکتا،، والدہ کو ایئر پورٹ ھی لایا گیا،،والدہ سے ملاقات کی ھے،سسکتی والدہ کی حالت بھی دیکھی ھے مگر اسے اسی حالت میں  چھوڑ آگے روانہ ھو گئے،، والدہ دوسرے دن فوت ھو گئ،، موبائل کا زمانہ نہیں تھا،، یہ صاحب اللہ کو راضی کرتے رھے !! حالانکہ رسول اللہ نے غزوہ تبوک جیسے نازک موقعے پر بھی جہاد کے لئے آنے والے جوان سے پوچھا تھا کہ کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ھے،اس نے کہا تھا کہ جی دونوں ھیں،،پھر پوچھا " ان کی رضامندی لی ھے؟ جواب دیا ان کو روتا ھوا چھوڑ آیا ھوں! آپﷺ نے فرمایا جا اب جا کر انہیں ھنسا جس طرح انہیں رلایا ھےیہ ھے حقیقی اسلام جو سب سے پہلے گھریلو ذمہ داریوں سے شروع ھوتا ھے،، مروجہ تبلیغ ایک مخصوص علاقے کے ماحول اور مسائل کو لے کر اجتہادی طور پر شروع کی گئ،،مگر یہی نبیوں کا طریقہ بن گئ حالانکہ یہ خود ھمارے نبیﷺ کا طریقہ بھی نہیں ھے،،  یہ ھے وہ مقام جہاں حقوق العباد کی خلاف ورزی خود گھر سے شروع ھوئی ھے،، یہ تصور ھی سرے سے غلط ھے کہ گھر داری کوئی گناہ اور دنیا داری ھے،،بلکہ یہ عین دینداری ھے ! جب تک ھم اپنے تصورات( کانسیپٹس) درست نہیں کریں گے یہ تباھی و بربادی چلتی رھے گی

عرقِ حیات کا راز اب آپ کے پاس


مرید نے مرشد کو اچھے موڈ میں دیکھا
تو با ادب ھو کر گویا ھوا ! میرے مرشد مجھے عرقِ حیات کے متعلق تو کچھ بتائیے ،کیا اسی کو آبِ حیات کہتے ھیں؟ اور اس پانی کا چشمہ پھوٹتا کہاں سے ھے ؟؟؟ مرشــد نے گہری نظر سے مرید کی طرف دیکھا اور سوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیر گزر گئ تو مرید کو یوں لگا جیسے اس نے اپنے مرشد کو ناراض کر دیا ھے،، وہ پھر ڈرتے ڈرتے بولا، حضرت جی اگر میرے سوال سے آپ کو کوفت ھوئی ھے تو میں معافی کا طلبگار ھوں ! ایک لمبی ' "ھـُـــــــوں" کے بعد مرشد نے نرمی سے بولا، نہیں میں ناراض تو نہیں ھوا مگر فکرمند ضرور ھوں ،،میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیا تھا تو ھمارے درمیان 12 سال کی طویل جدائی پر گئ تھی ،،میں سوچ یہ رھا تھا کہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کر سکوں گا بھی یا نہیں،، اس دوران اگر میری اجل آگئ تو کہیں تمہاری محنت ضائع نہ ھو جائے،، بیٹا یہ عرقِ حیات یا آبِ حیات ،، یہ الفاط میں نہیں سمجھایا جا سکتا،، سمجھاؤ تو سمجھ نہیں آتا ! اس لئے میرا مرشد تو آب حیات کے چشمے کےکنارے کھڑا کر کے ،اس میں انگلی ڈبو کر دکھایا کرتا تھا کہ یہ ھے عرقِ حیات !! میں نے یہ سوال اپنے مرشد سے ان کی جوانی میں پوچھ لیا تھا ،، تم نے بہت دیر کر دی ھے،، خیر اللہ بہتر کرے گا،، میں تمہیں ایک پودا دکھاتا ھوں ،، اس پودے کے پھول کا عرق تم نے ایک چھوٹی شیشی میں بھرنا ھے اور جب یہ شیشی بھر جائے تب میرے پاس واپس آنا ھے،، یہ عرق ھی ھماری آنکھوں میں عرقِ حیات کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے گا !!یاد رکھنا ایک پھول سے صرف ایک قطرہ رس نکلتا ھے ، اور اگر شیشی فوراً بند نہ کرو تو فوراً اڑ بھی جاتا ھے،، اور یہ پودا جنگل میں کہیں کہیں ملتا ھے ! اس کے بعد مرشد نے ایک درمیانے سائز کی شیشی اپنے مرید کو پکڑائی اور اسے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیا ! مرید بہت پرجوش تھا،، آبِ حیات کا معمہ بس حل ھونے کو تھا ، اور اسے آبِ حیات کو دیکھنے اور چھونے کا موقع ملے گا،، مگر ایک تو اس پودے کو ڈھونڈنا ایک جوکھم تھا تو ایک پودے کے ساتھ ایک پھول اور ایک پھول میں ایک قطرہ ،، الغرض اسے بارہ سال لگ گئے بوتل بھرنے میں ،، جس دن اس کی بوتل بھری وہ دن اس کے لئے ایک نئ زندگی کی نوید تھا،، ایک طرف وہ پھولے نہیں سما رھا تھا تو دوسری طرف اسے بار بار یہ خیال ستا رھا تھا کہ اگر اس دوران مرشد اللہ کو پیارے ھوگئے تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی کیونکہ آبِ حیات کو چشمہ تو صرف مرشد کو ھی پتہ تھا !! وہ خیالات میں غلطاں و پیچاں کبھی چلتا تو کبھی دوڑتا،، اپنے مرشد کے ٹھکانے کی طرف رواں دواں تھا،، مرشد کے ڈیرے پہ نظر پڑنا تھا کہ وہ بیتاب ھو کر دور سے ھی چلایا ،، میرے مرشد ،، اے میرے مرشد، دیکھ میں اپنی تپسیا میں کامیاب رھا،،میں بوتل بھر لایا ھوں ،، اس کی آواز پر مرشد اپنے کٹھیا سے بار نکلا ،، بارہ سالوں نے اس کی کمر دھری کر دی تھی مگر وہ بھی مرید کی کامیابی پر خوش نظر آتا تھا !! اپنے مرشد پر نظر پڑنا تھا کہ مرید بے اختیار دوڑ پڑا اور یہی بے احتیاطی اسے مہنگی پڑی، ٹیڑھے میڑھے رستے پر قدم کا سٹکنا تھا کہ مرید لڑکھڑایا اور عرق سے بھری شیشی اس کے ھاتھ سے چھوٹ کر ٹھاہ سے پتھر پر لگی اور چورا چورا ھو گئ،، عرق کے کچھ چھینٹے مرشد کے پاؤں پر پڑے باقی کو جھٹ زمین نگل گئ،، بے اختیار مرید کی چیخ نکل گئ ،،میرے مرشد میں لٹ گیا میں برباد ھو گیا میری محنت ضائع ھو گئ ،،میرے بارہ سال کی مشقت مٹی بن گئ،، میرے مرشد میں تباہ ھو گیا،، مرشد اپنے مرید کو چھوڑ کر اندر گیا اور ایک اور چھوٹی سی شیشی لایا جس میں اس نے روتے سسکتے مرید کے آنسو بھرنا شروع کر دیئے ،، اور وہ شیشی بھر لی !! اب مرید رو رھا تھا تو مرشد ھنس رھا تھا،، میرے مرشد میری زندگی برباد ھو گئ اور آپ مسکرا رھے ھیں ؟ مرید نے تعجب سے پوچھا !! مرشد اسے اندر لے گیا اور بکری کے دودھ کا پیالہ پینے کو دیا ،، پھر اس نے اس چھوٹی شیشی کو کھولا جس میں مرید کے آنسو بھرے ھوئے تھے، اور اپنی انگلی کو ان سے گیلا کر کے کہا کہ یہ ھے " عرقِِ حیات " یا " آبِ حیات " یا مقصدِ حیات !! اور پھر آنسوؤں میں ڈبڈباتی اس کی آنکھوں کو چھو کر کہا یہ ھیں آبِ حیات کے چشمے !! یاد رکھو ! اللہ نے انسان کو ان آنسوؤں کے لئے پیدا کیا ھے ،، ان میں ھی زندگی چھپی ھوئی ھے،، کچھ اس کی محبت میں زارو قطار روتے ھیں جیسے انبیاء ،، اور کچھ اپنے عملوں کے بھرے مٹکے جب اپنی ذرا سی غلطی سےگرتے اور ٹوتے اور اپنی محنتیں ضائع ھوتے دیکھتے ھیں تو تیری طرح بلبلاتے ھیں ،، جس طرح پانی نکلنے اور نکالنے کے مختلف طریقے ھیں اسی طرح انسانوں میں بھی ان کی طبائع کے تحت ان آنسوؤں کا سامان کیا گیا ھے،، یاد رکھو آسمان پر بھرنے والے بہت سارے ھیں مگر شیشی کسی کی نہیں ٹوتتی ،، آسمان والوں کے مٹکے ھر دم بھرے رھتے ھیں،،وھاں مٹکے ٹوٹنے کے اسباب نہیں رکھے گئے ، ان کے رونے میں تسبیح ھے،، پچھتاوہ نہیں ھے ! ھمیں اسی مقصد سے بنایا گیا ھے،پھر اس دنیا کے ٹیڑھے میڑھے رستوں پر ھاتھ میں تقوے کی بوتل دے کر دوڑایا جاتا ھے ،، اور جب ذرا سی بے احتیاطی سے تقوے کی وہ سالوں کی محنت کسی گناہ میں ڈوب جاتی ھے اور ھم پچھتاتے ھیں اور زار و قطار روتے ھیں تو اللہ فرشتوں کو اسی طرح ھمارے آنسو سمیٹنے پر لگا دیتا ھے جس طرح آج میں نے تیرے آنسو شیشی میں جمع کئے ھیں !! یہ وہ پانی ھے جس سے جہنم کی آگ بھی ڈرتی ھے،، اللہ کے رسول ﷺ نے حشر کا نقشہ کھینچا ھے کہ جہنم کی آگ فرشتوں کے قابو میں نہیں آ رھی ھوگی،، اور میدانِ حشر میں باغیوں کی طرف پھنکاریں مارتی ھوئی لپکے گی،، فرشتے اپنی بے بسی کا اظہار کریں گے تو اللہ پاک جبرائیل سے فرمائیں گے کہ وہ پانی لاؤ ،، اور پھر جبرائیل اس پانی کے چھنٹے مارتے جائیں گے اور آگ پیچھے سمٹتی جائے گی یہاں تک کہ اپنی حد میں چلی جائے گی،، صحابہ نے پوچھا کہ ائے اللہ کے رسولﷺ وہ کونسا پانی ھو گا؟ آپ نے فرمایا اللہ کے شوق میں اللہ کے خوف سے رونے والوں کے آنسو ھوں گے جو اللہ نے آگ پر حرام کر رکھے ھیں!! یہی وہ رونا ھے جو امیر خسرو روتے ھیں کہ
!!
بہــــت ھـــــــی کٹھــــــن ڈگـــــــر پنگھـٹ کی !
کیسے بھــــر لاؤں میـں جھـــٹ پٹ مٹــــــــکی ؟

یہی وہ آبِ حیات ھے جس کی بشارت انسان کو دی گئ ھے کہ اس کے چشمے اس کی اپنی ذات کے اندر ھیں !! تن تیـرا رب سَچے دا حـجـــــرہ ، پا اندر ول جھــاتی !! نہ کــــــر مِنـت خـــواج خضــر، تیرے اندر آبِ حیـاتی ! اسی کی طرف میاں محمد بخش صاحب اشارہ کرتے ھیں
!
سب سیاں رَل پانی چلیاں تے کوئی کوئی مُڑسی بھر کے !
جنہاں بھـریا ، بھــر سِر تے دھــریا، قدم رکھن جَـر جَـر کے !

یعنی تمام روحیں اصل میں ان سہیلیوں کی طرح ھیں جو کنوئیں سے پانی بھرنے جاتی ھیں،،مگر ان میں سے کوئی کوئی بھر کر واپس آئے گی بہت ساریوں کے گھڑے رستے میں ٹوٹ جاتے ھیں،، لیکن جو بھر کر سر پر رکھ لیتی ھیں ان کے قدم رکھنے کا انداز بتاتا ھے کہ ان کا گھڑا بھرا ھوا ھے ! وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر قدم رکھتی ھیں ! یہ مضمون اللہ پاک نے سورہ الفرقان میں اپنے بندوں کی تعریف کرتے ھوئے بیان کیا ھے،، و عباد الرحمن الذین یمشون علی الارضِ ھوناً ،،،، رحمان کے بعد بندے زمین پر بہت تھم تھم کرقدم رکھتے ھیں یعنی پروقار چال چلتے ھیں،، ان کی چال بتاتی ھے کہ گھڑا بھرا ھوا ھے ! میاں صاحب دوسری جگہ فرماتے ھیں ! لوئے لوئے بھر لے کُڑیئے جے تدھ بھانڈا بھرنا ! شام پئــی بِن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا !! یہ بھرے گھڑے تڑوانے والوں کا ذکر اللہ پاک نے قرآن حکیم بھی بار بار کیا ھے،، ائے ایمان والوں تمہارے ازواج اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ھیں،،ان سے خبردار رھو !( التغابن )
 میاں صاحب فرماتے ھیں
!
اکھیوں انَۜا تے تِلکَن رستہ کیوں کر رھے سنبھالا ؟
دھـــکے دیــون والے بُہــتے تُـــو ھتھ پکــڑن والا !
اے اللہ آنکھوں سے بھی میں اندھا ھوں،ان مادی آنکھوں سے تو نظر نہیں آتا، اور رستہ بھی پھسلن والا ھے،، دوسری جانب ھر بندہ اس پھسلن رستے پر سہارا دینے کی بجائے دھکے دینے والا ھے ،،جب کہ صرف تیری ذات ھاتھ پکڑنے والی ھے !!

ھم کو بھی وضو کر لینے دو،ھم نے بھی زیارت کرنی ھے !
کچھ لـوگ ان بہتـی آنکھـوں کو ولیـوں کا ٹھکانہ کہتے ھیں !