Saturday, November 16, 2013

قبرستان میں کرائے کی قرآن خوانی


میرا عام طور پر قبرستان جانے کا معمول ہے کیونکہ قبرستان جانا سنت رسول ﷺ ہے۔ اہل قبور کو پڑھ کر ہدیہ کرنا ‘ ایصال ثواب کرنا اورخصوصاً قبرستان میں جانے سے موت کی یاددہانی ہوتی ہے اور انسان کے باطن کی اصلاح ہوتی ہے۔ یہ تجربہ مجھے بارہا ہوا ہے کہ قبرستان میں ایسے بندے عمومی طور پر چل پھر رہے ہوتے ہیں جو ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتے ہیں بعض اوقات ان کے ہاتھ میں پانی کی بالٹی ہوتی ہے‘ ایک تھیلے میں گندم اور باجرے کا دانہ۔۔۔ ورنہ وہ خالی ہاتھ ہر آنے جانے والے سے پوچھتے ہیں:’’ قبر پر پڑھوانا ہے؟‘‘ کیونکہ انہیں پتہ ہے مرحوم والدین یا کسی عزیز کے پاس آنے والے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو قبر والے کو کچھ دے نہیں سکتے کیونکہ پہلے دن سے بچے کو والدین نے یہ بات بہت شدت سے یاد کرادی ہوتی ہے کہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے‘ انجینئر بننا ہے‘ فوجی بننا ہے‘ پائلٹ بننا ہے‘ ماسوائے اس کے اسے کوئی اور بات یاد ہی نہیں ہوتی۔ میں نہیں کہتا یہ نہ بنیں‘ یہ بننا بھی ضروری ہے‘ آخر یہ بھی ہماری زندگی کے شعبے ہیں‘ یہ سب کچھ بن گئے اور اپنی موت‘ آخرت‘ قرآن اور اللہ کو یاد نہ کیا تو۔۔۔۔ایسی صورتحال میںجہاں میرے پاس والدین کی بے عزتی اور بے قدری کے کیس آتے ہیں وہاں پھر قبرستان میں ایسے واقعات بھی مجھے نظرآتے ہیں کہ کرائے کی قرآن خوانی کروائی جارہی ہے۔ ظاہر ہے جس کی نظر جیب پر ہو۔۔۔ اس کے اندر قرآن پڑھنے کا خلوص کتنا ہوگا؟ آپ کے عزیز کیلئے اس کے دل میں مغفرت اور خیرخواہی کے کتنے جذبات ہوں گے ؟یہ آپ خود محسوس کرلیں۔۔۔ مجھے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ قارئین! اپنی نسلوں کو کچھ ایسا سکھا کر جائیں کہ مرنے کے بعد آپ کی نسلیں آپ کو یاد کریں تو کچھ پڑھ کر آپ کو گفٹ بھی کریں اگر کبھی کبھار بھولے سے ہماری قبروں پر آبھی جائیں تو ان کے منہ سے کچھ کلام الٰہی اور ذکرواذکار نکلے۔ ہاں! اگر وہ اس قابل ہوں گے تونکلے گا اور اس قابل اس وقت ہوں گے جب ہم انہیں بچپن سے ہی اس چیز کی تربیت دیں گے۔ زندگی مختصر ہے ہر طرف بربادی کا ماحول ہے‘ ایسے وقت میں ذرا محنت زیادہ کرنی پڑے گی‘ آپ کہیں تھوڑی محنت سے یہ چیز آجائے یہ ممکن نہیں‘ محنت و کوشش زیادہ کریں۔ انشاء اللہ آپ کے مسائل مرنے کے بعد بھی حل ہوں گےوہ ایسے کہ مرنے کے بعد ہر میت کو اس چیز کی ضرورت ہے کہ اسے کوئی پڑھ کر ہدیہ کرے۔
Qur'aan in Rent  the grave yard 
I usually go to the cemetery to cemetery normal because the Messenger is Sunni . Eligible to offering graves reading " to repose in the cemetery for their death is a reminder that the human spirit is reformed . , The experience Iparents would 've missed it so strongly that you have to be a doctor , engineer, is to be ' military to be ' is to become a pilot , but remember that it is not no thing . 's not that I do not say 'This it is also important to be ' end are also areas of our life , and his death, it became the ' Hereafter ' he did not remember the situation mynjhan so .... I disregard and disrespect for parents case, there are also cases in the cemetery appears to me that the rent is being made ​​Qur'aan . displayed on the pocket watch ... what's good to read the Quran in ? Forgiveness in her heart for your love and goodwill so many emotions will make you realize ... I have to say . Readers! Something to teach our generations to generations after your death if you remember reading something even if you occasionally forget our Gift on the graves , then the things divine and zkruazkar out of their mouths . Yes! Tunkly if they 'll be able to and it will be worth the time when we will train them from childhood thing . Lives short by the destruction of the environment , the more time I have to work hard , you say it comes with a little effort it can not be too hard to try . Insha Allah to solve your problems gyuh after death after death that every body needs it, it will present a reading 

میاں بیوی کا تعلق دوستی اور برابری کا نہیں



ہمارے معاشرے میں نوجوان شادی شدہ جوڑوں میں طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے۔ جہاں اس کے اور کئی اسباب ہیں وہیں اس کا سبب اس بات کو نہ جاننا ہے کہ میاں بیوی کا تعلق دوستی اور برابری کا نہیں بلکہ محبت اور موافقت کا تعلق ہوتا ہے۔

میاں بیوی کے تعلق اور دوستی کے تعلق میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے دوست اپنے ذوق کے مطابق بناتا ہے۔ کسی بھی دو افراد کا ذوق سو فیصد ایک سا نہیں ہوسکتا۔ لیکن دوستی کے رشتے میں یہ حقیقت اس لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی کہ انسان اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی مرضی اور موڈ کے مطابق وقت گزارتا ہے اور جب دل چاہے اپنے گھر کی راہ لے سکتا ہے۔ 

جبکہ میاں بیوی ایک ہی گھر میں ہمہ وقت ساتھ رہتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ان کے ذوق، عادات، رویے اور سوچ کے تمام فرق کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ ایسے میں نبھا کی ایک ہی شکل ممکن ہے کہ دونوں فریق کچھ نہ کچھ ایڈجسٹ کریں۔ یہ ایڈجسٹمنٹ عین عدل و انصاف کی بنیاد پر ففٹی ففٹی کے تناسب سے نہیں ہوسکتی۔ حقیقت پسند لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ زیادہ تر حالات میں شادی کے ابتدائی پانچ سات برسوں میں کم یا زیادہ بیوی ایڈجسٹ کرتی ہے جبکہ باقی ساری زندگی کم یا زیادہ مردایڈجسٹ کرتا رہتا ہے۔

یہ ایڈجسٹمنٹ یا موافقت برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ محبت کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ جبکہ دوستی ہر حال میں برابری کا تقاضہ کرتی ہے۔ یہ برابری اگر ممکن نہیں تو دوستی ختم ہوجاتی ہے۔ مگر دوستی ختم ہونے سے زیادہ فرق اس لیے نہیں پڑتا کہ انسان کو اور دوست مل جاتے ہیں۔ جبکہ میاں بیوی کی علیحدگی ایک گھر کے ٹوٹنے اور بچوں کے برباد ہوجانے کا نام ہے۔ اسی لیے میاں بیوی کو برابری اور دوستی کے بجائے محبت اور موافقت کے اصول پر زندگی گزارنی چاہیے۔
                Friendship and equality of husband and wife belong not                          
Husband-wife relationship and friendship relationship is the fundamental difference is that man builds his friend according to your tastes . Tastes of any two people the same can not be hundred percent . Friendship relationship , but for the fact that, no problem

adjust . these adjustments based on exact justice may not be in proportion to Fifty Fifty . fact that most people know that marriage , in the first five to seven years or less adjusted while the rest of his life. mrdaydjst keeps more or less .


This is equivalent basis adjustment or adaptation is not because of love . While friendship requires equality in every way . , It is equally possible , if not friendship . , But not so much difference in the end friendship the man and his friend go to . while the separation of spouses and children ruined after the collapse of a house name . 's why the couple agreed to the principle of equality and friendship instead of love and life should lead .

Saturday, April 20, 2013

بیرون ملک کمانے کے راز


جو میں نے دیکھا‘ سنا اور سوچا

کل کی بات ہے۔۔۔ ایک صاحب جسمانی بیماریوں‘ دکھوں اور دردوں کا مجموعہ‘ کراہتے ہوئے میرے پاس آئے۔۔۔ نیچے نہیں بیٹھ سکتے تھے‘ کرسی پر بیٹھنے کو عرض کیا۔ آتے ہی کہنے لگے چھبیس سال سعودی عرب میں رہا ہوں۔ اب گردے فیل ہوگئے ہیں‘ دل کا مریض ہوں‘ چند قدم اٹھا نہیں سکتا‘ دماغ کام کرنا چھوڑ گیا ہے‘ طبیعت میں ہروقت توڑپھوڑ رہتی ہے‘ پورا جسم پانی سے بھرگیا ہے۔۔۔ زندگی سے لاچارہوں‘ چند لقمے نہیںکھا سکتا‘ ڈائیلائسز کرارہا ہوں‘ کیا آپ کے پاس میرا علاج ہے؟؟؟ میں پریشان ان کا منہ تک رہا تھا۔۔۔۔ اس طرح کی بے شماردیکھی گئیں درد بھری کہانیاں میرے سامنے اورمیرے دل و دماغ میں گردش کرنے لگیں۔۔۔ تیل والے ملک یعنی خلیج کے ممالک میں جتنے بھی لوگ۔۔۔ کوئی چار سال‘کوئی چوبیس سال‘ کوئی چونتیس سال۔۔۔ مجھے آج تک کوئی ایسا واپس آتا ہوا نہیں ملا جس کو یہ پانچ روگ نہ ہوں۔۔۔ پہلا :لاکھوں کمایا لیکن اسی کی زندگی میں ختم ہوگیا یا اس کے مرنے کے فوراً بعد۔۔۔ دوسرا: اولاد نافرمان‘ باغی اور تعلیمی اعتبار سے نامکمل رہ گئی۔۔۔ تیسرا: بیوی کے ناجائز تعلقات یا پھر وہ بیماریوں میں مبتلا‘ اس کے مزاج میں چڑچڑاپن اور انواع و اقسام کے عوارض و امراض میں وہ زندگی کے دن گن رہی تھی۔ چوتھا: خود شوگر‘ ہائی بلڈپریشر‘ ٹینشن‘ دل کے امراض‘ معدے کے امراض۔۔۔ الغرض طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوا۔ پانچواں: کسی کو کما کما کےسرمایہ دیا تھا یا تو اس نے پیسے ضائع کردئیے یا کھا کے بھاگ گیا‘ غبن ہوگیا‘ دھوکہ فریب فراڈ ہوگیا یا پھر خود اولاد نے ہی برباد کردیا۔یہ پانچ مسائل مجھے ان سب لوگوںمیں نظر آتے ہیں۔ کسی میں پانچ نہیں تو دو ہیں‘ کسی میں دو نہیں تو چار ہیں۔ ان مسائل کے مارے ہوئے لوگ جب میرے سامنے آتے ہیں دل دکھی ہوجاتا ہے۔ ایک دیہاتی آدمی سے میں اس کے احوال پوچھ رہا تھاکہنے لگا میں سترہ سال سے خلیج میں ہوں۔ اس نے بھی اپنے یہی مسائل بتائے۔ میں نے اس سے پوچھا :آپ کا کیا خیال ہے ایساکیوں ہوتا ہے؟ کہنے لگے :اس کی وجہ صرف ایک چیز مجھے سمجھ آتی ہے۔ جو حرم کے ایک بہت بڑے مفتی سے میں نے سنی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا جو اپنی بیویوں کو سسکتا ہوا چھوڑ کر مال و دولت کی خاطر دوسرے ملکوں میں سالہا سال رہتے ہیں جہاں اپنی جانوں پر ظلم کی وجہ سے بیماریوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔۔۔ وہاں وہ جو مال کماتے ہیں وہ شرعاً خود مشکوک ہوتا ہے۔ میںچونک پڑا۔۔۔۔وہ ان پڑھ شخص کہنے لگے کہ ہم تو خون پسینہ ایک کرکے پیسے کماتے ہیں وہ مشکوک کیسے ہوسکتا ہے؟؟؟ لیکن تھوری ہی دیر میں مجھے خود ان کا جواب تقریر میںسننے کو ملا وہ یہ تھا کہ وہ اولاد اور بیویوں کے حقوق ضائع کرکے جو مال کماتے ہیں وہ مال کبھی بھی حلال نہیں ہوسکتا اور بابرکت نہیں ہوسکتا۔۔۔ میں اس ان پڑھ شخص کی بات سن کر حیران ہوا کہ حرم کے بہت بڑے مفتی کی بات آخر غیر مستند تو نہیں ہوگی مزید تحقیق علماء ہی کرسکتے ہیں لیکن اس کے پیچھے جو دلیل انہوں نے دی ہے بیوی اور بچوں کو سسکتا ہوا چھوڑ کر جانے کی۔۔۔ وہ مجھے اس لیے سمجھ آرہی ہے کہ بعض حیاء دار اور پاکباز خواتین جو اپنے منہ سے مجھے حالات نہیں بتاسکتیں وہ آکر میرے ہاتھ میں ایک رقعہ پکڑا دیتی ہیں۔۔۔ جس سے ان کی زندگی کی چاہتوں اور خواہشات کا سلگتا پن رقعہ کے ساتھ ساتھ‘ ان کی آنکھوں سے برستا ساون بھادوں جب میں دیکھتا ہوں توبے ساختہ میرا ہاتھ ٹشو کے ڈبے کی طرف چلا جاتا ہے اورپھر وہ اپنی چاہتوں کا قتل لکھنے کے بعد اولاد کی کہانیاں بیان کرتی ہیں کہ اب بیٹے اور بیٹی نے اپنی راہوں کا انتخاب کرلیا ہے اور گھر سارا کا سارا ٹوٹ گیا ہے ان کی اپنی جوانی‘ چاہتوں میں ڈوب کر بڑھاپے کی نذر ہوگئی۔ وہ ایک علیحدہ روگ ہے اور یہ اولاد کا نیا غم۔۔۔۔ پرسوںمیرے پاس میاں بیوی آئے کہ میں سترہ سال سے جاپان میں ہوں چند سالوں کے بعد آتا ہوں کچھ ہفتے اپنے بیوی بچوں کےساتھ رہتا ہوں اور چلا جاتا ہوں۔ یہ لوگ قیامت کے دن رب کو کیا جواب دیں گے؟ اور پھر ان کی وجہ سے جو بے حیائی اور خاندانی زندگی میں توڑ پھوڑ ہوتی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مجھے قارئین اس کاجواب بھی دیں اور اس طرح کی سلگتی کہانیاں لکھ کر بھی بھیجیں۔۔۔ کہیں میرا اندازہ غلط تو نہیں۔۔۔!!!
The secrets of earning abroad

What I saw , heard and thought

One last thing ... physical diseases , the combination of sorrow and pains , groaning came to me ... could not sit down , " said the chair to sit on . Come saying I'm twenty-six years in Saudi Arabia . longer have kidney failure , heart disease, 'I can not pick up a few steps , the brain has stopped working " all the time in nature is attacked , the whole body is water hath filled life lacarhun ' can nhynkha few prompts . Skip dayylaysz shown , you have my treatment ? His face was tense .... It was kind of painful stories you smardykhy rotate in front of me my mind ... all the oil in the Gulf country, four people ...--- second: children disobedient , rebellious and in education fell incomplete ... Third : his wife of having an affair , or suffering from the disease , the irritability and mood disorders and diseases species of life on the day of Gun was . fourth : Self sugar , high blood pressure , tension , heart disease , gastrointestinal disorders ... kind of disease is short . fifth : Someone had kysrmayh earn earn money either lost or thrown it ran , was embezzlement , fraud fraud fraud were either destroyed or the children themselves . divisive figure among the five issues I see . someone else are two , five , one , two or four. these issues people come out of my heart is sad . asking a villager man had his mouth I 'm seventeen years in the Gulf . assigning the same problems too . asked him : you aysakyun what happens?where the oppressed themselves are suffering from diseases and problems ... there are those who regard themselves earn money is questionable . myncunk .... he had read them he said that we hardly How can they make money from them suspicious ?surprised to hear that the great mufti Haram invalid if it is not the end but after further research scholars may argue that they have been sobbing wife and children to leave the .. sheSawan bhadun showered his eyes when I see my hand made ​​tissue box by Tobe goes away and then kill their desires after writing children 's stories are the son and daughter now has her choice of ways the whole house has broken his youth , old age, lost drowning in desires . Rouge and a separate children 's new wife came to grief .... prsunmyry seventeen years that I 'm in Japan a few years back a few weeks later with his wife and children live and go . they will answer to God on the Day of Judgment ? And because of them , which is shameful and family life vandalized Who is responsible for it ? The answer I give readers write and send stories like this brewing ... not so much wrong ... I guess !

Thursday, April 18, 2013

غصے کا علاج



ٹائمز آف انڈیامیں شیر کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ شیر جنگل کی گھاس پر چلناپسند نہیں کرتے۔ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی کانٹا ان کے نرم پائوں میں نہ چبھ جائے۔ چنانچہ وہ ہمیشہ کھلے راستوں پر یا سڑکوں پر چلتے ہیں۔ شیر اور دوسرے تمام جانور فطرت کے مدرسہ کے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ ہمیشہ اس طریقہ پر چلتے ہیں جو ان کے خالق نے براہ راست طور پر انہیں بتایا ہے۔ اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہو گا کہ شیر کا مذکورہ طریقہ فطرت کا پسندیدہ طریقہ ہے۔ شیر کیلئے یہ احتیاطی طریقہ اس کی طینت میں رکھ دیا گیا ہے اور انسان کیلئے شریعت کی زبان میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی کہ خذواحذرکم (اپنے بچائو کا انتظام رکھو)
اللہ تعالیٰ نے جس خاص مصلحت کے تحت موجودہ دنیا کو بنایا ہے۔ اس کی بنا پر یہاں صاف ستھرے راستے بھی ہیں ، اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی۔ یہ کانٹے دار جھاڑیاں لازماً اس دنیا میں رہیں گی۔ ان کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ اب یہاں جو کچھ کرنا ہے وہ وہی ہے جو خدا کے سکھائے ہوئے طریقہ کے مطابق جنگل کا شیر کرتا ہے۔ یعنی کانٹے دار جھاڑیوں سے اپنے آپ کو بچایا جائے اور صاف اور کھلا ہواراستہ تلاش کرکے اس پر اپنا سفر جاری کیا جائے۔ شیر جنگل کی گھاس سے اعراض کرتے ہوئے چلتا ہے، ہم کو انسانوں کے فتنہ سے اعراض کرتے ہوئے اپنا سفرِ حیات طے کرنا ہے۔ ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے کسی عمل سے دوسروں کو غصہ نہ دلائیں اور اگر دوسرے لوگ ہمارے اوپر غضب ناک ہو جائیں تو صبر کے ذریعہ ان کے غضب کو ٹھنڈا کریں اور حکیمانہ تدابیر کے ذریعے اپنے آپ کو ان کے غضب کا شکار ہونے سے بچائیں۔
”جنگل کا بادشاہ“ جو کچھ کرتا ہے وہ بزدلی نہیں ہے بلکہ عین بہادری ہے۔ اسی طرح ایک انسان اپنے سماج میں یہی طریق اختیار کرے تو وہ بزدلی نہیں ہو گا بلکہ عین بہادری ہو گا۔ اعراض کا طریقہ شیر کا طریقہ ہے نہ کہ گیدڑ کا طریقہ ۔
خداوند عالم کا ایک ہی قانون ہے جو انسانوں سے بھی مطلوب ہے اور غیر انسانوں سے بھی اور وہ ہے ناخوشگوار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔
Anger treatment
Andyamyn Times printed a report about Tiger . Informed that the Lions do not clnapsnd Forest Lawn . Makes them fear that a fork stuck in their soft feet . They open paths or roads Let's go on . tigers and other animals are trained seminary nature . they always go the way that their Creator has told them directly . Based on this, it would be correct to say that the way of the tiger nature is the preferred method . Sher for this preventive measure has been put in its Hearted man in the language of the law said the same thing in these words kzuahzrkm ( Put his prevention Management )
Under the special purpose God has made the world . Based on its way here too clean , and too thorny shrubs . Thorny shrubs that will definitely stay in this world . Impossible to remove them now.moves away from the grass , while we turn away from the temptation of human life is to cover your trip . , we should not be angry with others to give us anything, and if other people get angry at us if patient source of their anger cool and wise solutions to your saved them from suffering the wrath .
the jackals .

God is the only law which is required by humans and non- humans , and that even ignoring the unpleasant things of my life to build .

بڑا اندیشہ



ڈاکٹر ڈینس بریو (Dennis Breo) نے ان طبی ماہرین سے ملاقاتیں کیں اور ان کا انٹرویو لیا جو مشہور شخصیتوں کے معالج رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام ہے غیر معمولی احتیاط۔ اس کتاب میں مصنف نے بڑے عجیب انکشافات کیے ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ مشہور شخصیتیں اکثر ناممکن مریض ثابت ہوتی ہیں مثلاً ہیلر کو ایک جلدی مرض تھا مگر اس نے اس بات کو اپنے لیے فروتر سمجھا کہ ڈاکٹر کے سامنے وہ اپنا کپڑا اتارے۔ چنانچہ صحیح طور پر اس کا علاج نہ ہو سکا۔ مشہور امریکی دولت مند ہو ورڈ ہیوز کا دانت خراب تھا مگر اس نے کبھی ڈاکٹر کے سامنے اپنا منھ نہیں کھولا۔ اس نے اس کو پسند کیا کہ وہ شراب پی کر اپنی تکلیف بھلاتا رہے۔ وغیرہ۔
شاہِ ایران کے بارے میں مصنف نے بتایا ہے کہ وہ فساد خون کے مریض تھے مگر انہوں نے ڈاکٹروں سے اس کا علاج کرانے سے انکار کر دیا کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ چیز انہیں سیاسی طورپر کمزور کر دے گی۔
شاہ ایران نے فساد خون کو اپنی حکومت کیلئے خطرہ سمجھا حالانکہ بعد کے واقعات نے بتایا کہ فساد سیاست ان کی حکومت کیلئے زیادہ بڑا خطرہ تھا۔ ان کے اقتدار کو جس چیز نے ختم کیا وہ فساد خون کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ فساد سیاست کا مسئلہ تھا۔ وہ بڑے خطرے سے غافل رہے اور اپنی ساری توجہ چھوٹے خطروں میں لگا دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عین اس وقت ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا جب کہ اپنے نزدیک وہ اس کو بچانے کا پورا اہتمام کر چکے تھے۔ چھوٹے اندیشوں کی فکر کرنااور بڑے اندیشوں سے غافل رہنا‘ یہی اکثر انسانوں کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے‘ خواہ وہ مشہور لوگ ہوںیا غیر مشہور لوگ۔
Great fear
Dr. Dennis Brave (Dennis Breo) met him and interviewed medical experts who are practitioners of famous personalities . Later he published a book called extraordinary caution. Writer in this book grow Funny disclose .
He wrote the famous personalities are often impossible to prove such Heller patient had a skin disease , but that he considered himself frutr she undressed in front of the doctor . They did not treat him properly . Hughes to become rich, famous American was bad tooth , but it did not open his mouth in front of the doctor . , he liked to drink and he had forgotten his pain . etc..


was . they are oblivious to danger and put all your focus into small risk . Consequently, precisely the time when his government collapsed to save his sight he had arranged to meet . smaller concerns diaspora remain oblivious to the concerns about ' what is often the biggest reason for the failure of human beings , whether they hunya non- famous people famous people 

بامقصد آدمی کبھی محروم نہیں ہوتا


ضلع حسن ( کرنا ٹک ) میں ایک گا ﺅں ہے جس کا نام تھپر گھٹہ ہے یہاں ایک شخص لچھ نا ٹک نامی تھا جو ایک جھونپڑے میں رہتا تھا ، اور چوکیداری کا کام کر تا تھا ۔ اس کے چار بچے تھے۔ اس نے طے کیا کہ وہ اپنی تین لڑکیوں کو دیوی چمند یشوری پر بھینٹ چڑھا دے ۔ 23 اپریل 1988ء کو وہ دیوی کی مورت لیکر آیا ۔ اس کی پو جا کی اور اس کے بعد اپنی تین لڑکیوں ( ڈیڑھ سال ، تین سال، تیرہ سال ) کو درانتی سے ذبح کیا۔ اس کے لڑکے راج کمار ( 8 سال ) نے مزاحمت کرنی چاہی تو اس پر بھی حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں اس کا دایاں ہا تھ کٹ گیا ۔ اس مجنونانہ حرکت کے بعدوہ بھاگ کر با ہر چلا گیا ۔ چا ردن بعد اس کی لا ش آم کے ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی ۔ مذکورہ خبطی کی بیوی للی تھما (35سال ) کو چیف منسٹر فنڈ سے 5 ہزار روپیہ دیا گیا ہے ۔ انڈین ریڈکراس سوسائٹی نے اس کو ایک ہزار روپیہ دیا ہے ۔ اب وہ اپنے لڑکے کے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بنا رہی ہے ۔ اس کا خیا ل ہے کہ اس کے بچے کو تعلیم حاصل کرنا چاہیے ۔ وہ اس کے لیے تیار ہے کہ بیٹے کو تعلیم کے لیے اگر اس کو ساری زندگی کام کرنا پڑے تو وہ ساری زندگی اس کے لیے کام کر ے گی ۔ اس کو بیوہ کی حیثیت سے 50 روپیہ ماہوار پینشن ملنے کی امید ہے ۔ تقریباً اتنی ہی ماہانہ رقم اس کے بیٹے کو معذوری کے وظیفہ کے طور پر ملے گی ۔ راج کمار جس کے دائیں ہا تھ کی پانچوں انگلیاں کٹ چکی ہیں ، اب اپنے بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھ رہا ہے ( ٹائم آف انڈیا 28 اپریل 1988ء) 
للی تھما کا سب کچھ لٹ چکا تھا ۔ اب بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ بھی خود کشی کر لے ۔ یا اپنے بیٹے کو لیکر رونے اور ماتم کرنے میں مشغول ہو جائے ۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا ۔ اس نے سب کچھ بھلا کر مثبت عمل کا منصوبہ بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنے معذور بیٹے کے مستقبل کی تعمیر کی صورت میں اس نے اپنے لیے ایک مقصد پا لیا ۔ 
بامقصد آدمی کبھی محروم نہیں ہو تا ، اس دنیا میں محروم وہ ہے جو مقصد سے محروم ہو جائے 
Purposeful man is never lost

District Hassan ( the tick should ) be protected in the name thpr ghth lch not a person here who was named last lived in a hut , and was able to guard . Had four children . Decided that their three girls goddess Chaminda ysury on wolves give . , 23 April 1988 Goddess statue brought . 's poo going and then my three girls ( and a half years, three years, thirteen years) with a sickle slaughtered . his son, Raj Kumar ( 8 years) I tried to resist but he also invaded the result of which his right hand was cut . fanatical movement that reappear again and went running outside . should reject the the La AM mango from a tree hangs found . these cranky wife Lily Putting (35 years), the Chief Minister's fund 5 thousand rupees has been given . , Indian Red Cross Society in the Rs have . longer theythis would work . widow as her monthly pension of 50 rupees is expected . approximately the same amount of monthly disability pension as his son would . Raaj Kumar , whose right hand of the five fingers have been cut , now is learning to write with my left hand (Time of India 28 Apr 1988)
Putting Lily had lost everything . Should now be apparent that they too have committed suicide . , Or weep and mourn over her son to be distracted . , But he did not do . So everything went well positive action plans . , because the construction of his disabled son's future if he got a goal .
Purposeful man ever to be lost , it is lost in this world who will be deprived of purpose

احساس اصلاح



ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ کتابت کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں آپ کا انداز مجھے بہت پسند ہے مگر آپ کی ایک بات مجھے کھٹکتی ہے ۔آپ اکثر مسلمانوں کی کمیوں کا ذکر کرتے ہیں، اس سے تو مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ آپ ایک کاتب ہیں۔ فرض کیجئے کہ آپ حرف ج اور ع کا دائرہ صحیح نہ بناتے ہوں اور آپ کے استاد آپ کی اس کمی کو بتائیں تو کیا آپ کہیں گے کہ استاد صاحب میرے اندر احساس کمتری پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اسی ذاتی مثال سے آپ میرے ان مضامین کو سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مضامین کا مقصد مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ احساس اصلاح پیدا کرنا ہے اور یہ ایک عا م بات ہے کہ اپنی کمیوں کی اصلاح کئے بغیر کوئی شخص یا گروہ اس دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔عربی کی ایک مثل ہے کہ جو شخص تم کو نصیحت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرے (مَن ہُوَنَا صِحُکَ خَیرلَکَ مِمَّن ہُوَ مَادِحُکَ)یہ مثل سوفی صد درست ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی کے ساتھ خیر خواہی رکھتا ہو، وہ یہی کرے گا کہ وہ اس کی کمیوں کی نشاندہی کرے گا اور اس کی کوتاہیوں پر اس کی سرزنش کرے گا یہی سچے مصلح کا طریقہ ہے۔ قرآن میں گھاٹے، (خسر) سے بچنے کے لئے جو لازمی صفات بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک ضروری صفت تَوَاصِی بِالحَقِّ اور تَوَاصِی بِالصَّبرِ ہے۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے کو حق وصبر کی نصیحت کرتے رہنا۔ وہی گروہ اس دنیا میں نقصان اور بربادی سے بچ سکتا ہے جس کے افراد میں یہ روح زندہ ہو کہ جب وہ اپنے بھائی کو حق کے راستہ سے ہٹا ہوا پائے تو فوراً اس کو ٹوکے اور جب بھی وہ اس کو بے صبری کی طرف جاتا ہوا دیکھے تو اس کو صبر کی اہمیت سے آگاہ کرے (سورة العصر)صحابہ کرام کے اندر نصیحت کرنے کا جذبہ بھی پوری طرح موجود تھا اور نصیحت سننے کا بھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک معاملہ میں ایک بار فیصلہ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس فیصلہ میں غلطی نظر آئی انہوں نے اس پر ٹوکا ۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرچہ خلیفہ اور حاکم تھے
انہوں نے فوراً اس کو مان لیا اور کہا: علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہوجاتا۔
Sense Reform