Monday, May 12, 2014

مجھے ٹیلی ویژن بنادے

ایک پرائمری اسکول ٹیچر نے کلاس کے بچوں کو کلاس ورک دیا کہ وہ ایک مضمون لکھیں کہ وہ (بچے) کیا چاہتے ہیں کہ ان کا خدا ان کے لیے کرے۔

سب بچوں نے مضمون لکھا وہ تمام بچوں کے مضامین اپنے گھر پر چیک کرنے لگی اس دوران ایک مضمون نے اس کو آبدیدہ کردیا اور بے اختیاری میں اس کے آنسو نکل آئے

اس کا شوہر اس کے قریب ہی بیٹھا تھا اس کے آنسو دیکھ کر پوچھنے لگا کہ کیا ہوا؟
...
ٹیچر بولی یہ مضمون پڑھیے یہ ایک بچے نے مضمون لکھا ہے

شوہر نے مضمون لیکر پڑھنا شروع کیا اس میں لکھا تھا “اے خدا آج میں آپ سے بہت خاص مانگتا ہوں اور وہ یہ کہ مجھے ٹیلی ویژن بنادے میں ٹی وی کی جگہ لینا چاہتا ہوں، ایسے ہی جینا چاہتا ہوں کہ جیسے میرے گھر میں موجود ٹی وی جی رہا ہے میں ٹی وی کی جگہ لیکر بہت خاص بن جاؤں گا میرے ماں باپ، میرے بہن بھائی سب میرے ہی گرد بیٹھے رہیں گے۔ جب میں ٹی وی کی طرح بول رہا ہونگا تو سب میری باتیں بڑی توجہ سے سن رہے ہونگے۔ میں تمام گھر والوں کی توجہ کا مرکز بنا رہوں گا اور بغیر رکے سب مجھے ہی دیکھتے سنتے رہیں گے کوئی مجھ سے سوال جواب نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی مجھے ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ کرے گا۔ میں ایسی ہی خاص احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاؤں گا جیسے ٹی وی کو استعمال کرتے ہوئے احتیاط کی جاتی ہے جیسے جب ٹی وی خراب ہوجائے اس کا جتنا خیال کیا جاتا ہے اتنا ہی میرا خیال رکھا جائے گا میری زرا سی خرابی سب کو پریشان کردے گی۔

میں اپنے ابو کی توجہ کا بھی ایسے ہی مرکز بن جاؤں گا جیسے میرے ابو ٹی وی کو دیتے ہیں کہ آفس سے آتے ہی ٹی وی کی طرف متوجہ رہتے ہیں چاہے ابو کتنے ہی تھکے ہوئے ہوں اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ میری امی بھی میری طرف ایسے ہی متوجہ رہیں جیسے وہ ٹی وی کی طرف متوجہ رہتی ہیں چاہے وہ کتنی ہی پریشان اور غصے میں ہوں۔ چنانچہ بجائے مجھے نظر انداز کرنے کے وہ میری طرف متوجہ رہیں گی۔

اور میرے بھائی بہن بھی جو مجھ سے لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں میرے ٹی وی بن جانے کے بعد میرے اردگرد پھریں گے میرے لیے امی ابو کی منتیں کریں گے اس طرح سب کے سب میری طرف متوجہ رہیں گے اور آخر میں سب سے بڑھ کر یہ کہ سب میری وجہ سے پریشان رہتے ہیں اور غصہ کرتے ہیں تو میرے ٹی وی بن جانے کے بعد میں ان سب کو ایسے ہی خوش و خرم رکھ سکوں گا جس طرح ٹی وی رکھتا ہے۔

اے خدا میں نے تجھ سے زیادہ نہیں مانگا بس یہ مانگا ہے کہ مجھے ٹی وی بنادے مجھے اس کی جگہ دے دے۔

ٹیچر کے شوہر نے افسوسناک انداز سے بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا “ اے خدایا کتنا مایوس بچہ ہے۔ بے چارے کے ساتھ کتنا برا ہوتا ہے اس کے گھر میں اس کے والدین اور بہن بھائیوں کی طرف سے۔

ٹیچر نے نظریں اٹھا کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ مضمون “ہمارے اپنے بچے“ کا لکھا ہوا ہے.

Monday, May 5, 2014

کھلا پلا کر اپنا دشمن بنانا کوئی والدین سے سیکھے


اولاد کو برباد کرنا!
انہیں پل پل زخم دینا!
ان کی شخصیت کو کچل کچل کر مسخ کرنا !
کھلا پلا کر اپنا دشمن بنانا کوئی والدین سے سیکھے

ان میں کبھی بھی اعتماد کو پنپنے نہ دینا،بلکہ دوسرے اگر اعتماد کا اظہار کریں تو تعجب کا اظہار کرنا اور اپنی اولاد کے

لطیفے بنا بنا کر انہیں سنانا، ان کی ھر قسم کی صلاحیتوں پر شک کا اظہار کرنا، اگر وہ اچھے نمبر لے آئیں تو حلف لے

کر اس بات کا یقین کرنا کہ انہوں نے نقل نہیں کی،، غلطی کسی کی بھی ھو مار اور گالیاں اپنی اولاد کو دینا،، سودا

سلف لائیں تو بار بار شک کا اظہار کرنا کہ پیسے مار تو نہیں لیئے ؟ اور دکاندار سے فون کر کے ایک ایک چیز کا ریٹ

پوچھنا،، دکان پر بھیجنا تو پیسے پورے گن کر دینا،چار آنے زیادہ نہ چلے جائیں،، سکول جائے تو بس کے کرائے کے

پورے پیسے دینا،، یہ گنجائش نہ رکھنا کہ شاید ٹیکسی پہ آنا پڑ جائے،، جو بھی کاپی یا کتاب لینا ،،بچے کی خوب

کلاس لے کر اور اگلا ھفتہ اسی ورد میں گزارنا کہ ھم تیرے اوپر کتنا خرچ کر رھے ھیں، ھمارے والدین یہ کچھ ھم کو

نہیں لے کر دیتے تھے،،بچہ کچھ کھانے کو مانگے تو اسے یاد کرانا کہ اسلامک اسٹڈی کی بک 90 درھم کی لائے

ھیں،،وہ کوئی اچھی ڈش پکانے کا بولے تو پورے سال کی فیس کا بل اس کے آگے رکھ دینا،، وہ کہیں آؤٹنگ میں جانے

کی فرمائش کرے تو اس کی مارکس شیٹ اس کے سامنے رکھ کر اسے پڑھائی پر لیکچر دینا تا کہ آئندہ وہ اس قسم کے

شوق سے توبہ کر لے،عین جس وقت وہ کارٹون دیکھنے کو ریموٹ پکڑے یا کھیل کے لئے بیٹ اٹھائے تو اس سے سوال

کرنا کہ کیا قرآن پڑھا تھا؟ وہ وضو کرے تو اس کے ھاتھ پاؤں کو بار بار ھاتھ لگا کر چیک کرنا،، گیلے ثابت ھو جائیں تو پھر

بھی کہنا کہ کمال ھے ابھی ابھی تو تم غسل خانے میں گئے تھے،ھمارے زمانے مین اتنا جلدی وضو تو نہیں ھوتا

تھا،،اس کے برعکس جب غسل کے لئے جائے تو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دروازہ بجا کر پوچھتے رھنا کہ کیا کر رھے ھو؟

نہانے میں اتنی دیر تو نہیں لگتی؟ اور جب نماز پڑھ کے آئے تو یقین نہ کرنا اور اس سے پوچھنا مولوی صاحب نے

کونسی سورت پہلی رکعت میں پڑھی تھی،،پھر اس کے دوست کو فون کر کے تصدیق کرنا یا پوچھنا کہ تیرے دائیں طرف

کون تھا اور بائین طرف کون تھا،،پھر اس کے باپ سے تصدیق کرنا،، پیرینٹس ٹیچرز میٹنگ پہ جانا ھی اس نیت سے کہ

بچے کی برائیاں کر کے اسے ٹیچر کی نگاھوں سے بھی گرانا ھے ، مولوی صاحب کو ختم شریف پہ بلانا تو سارا وقت

اولاد کی برائیاں بیان کرتے رھنا اور کہنا کہ یہ نماز پڑھنے جائے تو اس پر خصوصی نظر رکھا کریں یا کوئی تعویز دیں جو

اس کو انسان کا بچہ بنا دے یوں بچے کو امام مسجد کی نظروں سے بھی گرا دینا،،اس کے سامنے دوسروں کے بچوں

کی ھر وقت تعریف کرنا اور ان کی ماؤں کی بیان کردہ خوبیاں اپنے بچوں کے سامنے بیان کر کے انہیں لعن طعن کرنا

حالانکہ وہ بچے اچھی طرح جانتے ھیں کہ ممدوح بچے کیا گُل کھلاتے پھرتے ھیں،، شوھر کو ھر وقت ٹوکتے رھنا کہ تم

بچے پر سختی نہیں کرتے ھو، اسے تھپکی دے کر اولاد پر پھینکنا کہ مرد بنو مرد،، باپ بن کے دکھاؤ،،بچہ فیس بک پر

بیٹھے تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد سلام پھیرنے کے انداز مین نظر ڈال لینا، کہیں شادی کا کہہ دے تو تمسخر اڑانا اور دنبی

میں دانا پڑنے کی بشارت سنانا ،، سہیلیوں کو فون کر کے بتانا کہ اس کا بیٹا" وہٹی "مانگتا ھے- جاب کی تلاش مین

دھکے کھا کر آئے تو اسے دیکھتے ھی کہنا" کھا آئے او" مجھے پہلے ھی پتہ تھا،، یا کہنا دوستوں کے ساتھ ھوٹلوں

میں بیٹھ کر گپیں لگا کر آ جاتے ھو ،تم کام ڈھونڈتے کب ھو،، کڑیاں پچھے پھر کے آ جاتے ھو،، شادی مین کوشش کرنا

کہ لڑکا اپنی پسند کی لڑکی سے شادی نہ کرنے پائے بلکہ کسی ایسے رشتہ دار کی بیٹی سے شادی کرے جس نے

زندگی مین آپ پر احسان کیا تھا، تاکہ اسے بَلی کا بکرا بنایا جا سکے،، شادی کے بعد پہلی صبح کو دلہن کے کمرے

کے بعد اپنی برادری کی عورتوں کو لے کر گِــــــــدھــــــــــــوں کی طرح جھرمٹ لگا کر بیٹھ جانا تا کہ لڑکی کی عصمت کا

حساب کتاب ان خرانٹ عورتوں پر مشتمل جیـــــــــــــــــــــــــوری میں پیش کر کے نشانِ حیدر لیا جائے،، دو چار ماہ اولاد

کا سلسلہ نہ چلے تو ،،بار بار بچے کو اکیلے میں امان جی کا مشکوک انداز میں پوچھنا" منڈیا تو ٹھیک تو ھے ناں ؟
،
اور پھر تعویز دھاگے اور پیر بابے کے چکر،، پھر ھم بریکنگ نیوز سنتے ھیں،، پنڈی چھاونی میں حاضر سروس کیپٹن بیٹے

نے اپنے ریٹائرڈ برگیڈیئر والد ،والدہ اور تین بہنوں سمیت پورے خاندان کو رشتے کے تنازعے میں قتل کر دیا،، کل ماں اور

باپ کو قتل کرنے والا بیٹا اورنگی ٹاؤن مین گرفتار ! لوگ والدین کو کیوں مارتے ھیں ؟ اس لئے کہ وہ خود چلتی پھرتی

لاش ھوتے ھیں !! فــاعتبروا یا اولو الابصار،،اھل بصیرت عبرت پکڑو

یہ وہ ساری شکایات ھیں جو والدین یا بچوں کے ذریعے مجھ تک پہنچیں اور میں نے دونوں فریقوں کو یہ سمجھایا کہ اولاد کو اس طرح رسوا نہیں کرتے اور دوسری طرف اولاد کی سمجھایا کہ اگرچہ ان کے طریقہ کار میں خامی ھو مگر ان سے بڑھ کر تمہارا ھمدرد کوئی ھے نہ ملے گا، یہ تمہارے وجود کا حصہ ھیں اور تم ان کی ایکسٹینشن ھو،، وہ تمہیں اپنا آپ سمجھ کر اس طرح کا سلوک کرتے ھیں،،وہ جس طرح خود ھونا چاھتے ھیں تمہیں ویسا بنانے کی کوشش کر رھے ھیں یہ الگ بات ھے کہ وہ عمر کے فرق کو بھول گئے ھیں، اولاد نے وقتی طور پہ اگرچہ میری نصیحت کا برا بھی منایا مگر پھر وقت آیا کہ انہیں اعتراف کرنا پڑا کہ میری بات ھی ٹھیک تھی،جبکہ ان کو بھڑکانے والے انہیں دھوکا دے رھے تھے-
خود میری تربیت الحمد للہ والد صاحب نے اس طرح کی کہ مجھے محسوس ھی نہیں ھونے دیا کہ مجھے کوئی حکم دیا جا رھا ھے،زندگی بھر انہوں نے جب کوئی کام کروانا چاھا مجھ سے مشورے کے انداز میں پوچھا اور مجھے پتہ چل گیا کہ وہ کیا چاھتے ھیں،دین میں جبر نام کی کوئی چیز میں نے ان کی طرف سے محسوس نہیں کی،انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کو اور مجھ کو حکم دینے والی ایک ھی ھستی ھے اور ھم دونوں کو اس کے حکم پر برابر چلنا ھے اور اس چلنے میں ایک دوسرے کی مدد کرنی ھے،اگر کہیں کوئی کوتاھی ھوئی ھے تو انہوں نے مجھ سے پہلے آگے بڑھ کر اسے عمر کا تقاضہ سمجھا اور بغیر معافی مانگے معاف کیا ھے اور بغیر نصیحت کیئے اپنے حسن سلوک سے نصیحت کر دی ھے،ان کے چہرے کی ایک ایک سلوٹ سے میں آگاہ تھا،ان کی ناراضی کو ان کے چہرے کی سلوٹ میں پڑ لیتا تھا اور درستگی پر اسی سلوٹ میں خوشی کا سورج طلوع ھوتے بھی دیکھتا تھا،مجھے اچھی طرح یاد ھے جب انہیں پتہ چلا کہ ھم بھائی فرضوں اور سنتوں کے بعد مسجد سے نکل جاتے ھیں اور تراویح نہیں پڑھتے بلکہ پاس کے ھوٹل کے باھر لگے ٹی وی پر ریسلنگ دیکھتے رھتے ھیں اور جب  وتر کی باری آتی ھے تو فوراً مسجد پہنچ کر شریک ھو جاتے ھیں تو بجائے ڈانٹنے کے جب انہوں نے قہقہ مار کر والدہ کو ھم بھائیوں کا یہ کارنامہ بتایا اور فرمایا کہ چھوٹے بھوت بڑے بھوتوں کو ٹھگتے رھے ھیں،،پھر فرمایا دیکھو مسجد سے نکل کر دوبارہ مسجد میں آنا بڑے کمال کی بات ھوتی ھے،اس کھیل میں بھی یہ کان اور دھیان اس بات پر رکھتے تھے کہ کب تراویح ختم ھوئی ھے اور وتر کھڑے ھوئے ھیں،، بس ان کا یہ فرمانا ھی ھماری اصلاح تھی، پھر زندگی میں کبھی ھم سے ایسی خطا نہیں ھوئی، آج جو اعتماد آپ کو مجھ میں نظر آتا ھے یہ اللہ کا فضل اور میرے والد کا مجھ پر احسان ھے کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کی حد کر دی ،ان کے نزدیک حنیف سب علماء سے زیادہ جانتا تھا اور حنیف کا کہا اخری ھوتا تھا، اسی اعتماد پر میں نے اپنی اولاد کی تربیت کی ھے،، میں نے کل جب وہ یونیورسٹی چلے جائیں گے تو بھی ان کے کہے پر اعتبار کرنا تھا،اس اعتبار کی ابتدا میں نے گھر سے کر دی تھی، یہ اعتبار کی مار بھی بڑی کارآمد ھوتی ھے،میں دسویں کلاس میں تھا،ظہر کی نماز کے بعد میں ھیڈ ماسٹر صاحب کے پاس گیا چھٹی لینے کے لئے جو صحن میں ھمارے اردو کے استاد ماسٹر نواز صاحب آف آدڑہ کے ساتھ ٹہل رھے تھے،میں نے کہا کہ  سر مجھے بخار ھے گھر جانا ھے،ماسٹر نواز صاحب نے ھیڈ ماسٹر سے کہا کہ یہ لڑکا ماشاء اللہ بہت لائق اور نمازی پرھیز گار ھے،بہانہ نہیں کرتا،ان کی اس بات پر ھیڈ ماسٹر صاحب نے چھٹی دے دی،مگر اس چھٹی کی خوشی ختم ھو کر رہ گئی ،ایک آدمی مجھے کتنا نیک سمجھتا ھے اور میں نے بہانہ کر کے اس کے اعتماد کو دھوکا دیا ھے،، اس کے بعد مین نے کبھی یہ حرکت نہیں کی اور زندگی بھر ان کے اعتماد و اعتبارکو یاد رکھا،بعد مین میں نے انہیں یہ بات بتائی جب میں ابوظہبی سے واپس چھٹی گیا تو انہوں نے ھنس کر کہا کہ یہ اعتراف بھی آپ کی نیک شرست کی نشانی ھے، آپ اولاد پر اعتماد کرتے ھیں تو وہ کوشش کرتے ھیں کہ اس اعتماد کو ٹھیس نہ لگنے دیں،، آپ ان کی تعریف کرتے ھیں تو وہ کوشش کرتے ھیں کہ آپ تعریف کر کے شرمندہ نہ ھوں،،آپ ان کے پاس نہیں ھوتے مگر آپ کا اعتماد ان کے ساتھ ھوتا ھے ،اسی اعتماد کی رشتے میں آپ بندھے ھوتے ھیں،، شک ھمیشہ تباھی مچاتا ھے ،جس کے دل میں پیدا ھوتا ھے اس میں بھی اور جس کے بارے میں پیدا ھوتا ھے اس میں بھی ،اس سے کبھی بھی خیر برآمد نہیں ھوتا، میں نے بالکل اسی اعتماد پر اولاد کو پالا ھے، انہیں اجازت ھے کہ وہ جس موضوع پر چاھئیں مجھ سے ڈسکس کریں،میرا بیٹا قاسم جو حافظِ قران بھی ھے ،عربی مادری زبان کی طرح بولتا ،لکھتا اور پڑھتا ھے، اس نے بہت سارے معاملات میں میری رائے کو تبدیل کیا ھے،  میں اگر پھر بھی پیدا ھوں تو اسی حیثیت مین پیدا ھونا چاھوں گا ،انہی والدین کے گھر ،اسی اولاد کے والد کی حیثیت سے،، یہ میرےاطمینان کی حد ھے،،

Monday, April 28, 2014

بہنوں اور بیٹیوں کیلئے ایک بہت خوبصورت سبق

بہنوں اور بیٹیوں کیلئے ایک بہت خوبصورت سبق
 یہ بات اپنی بہن ، بیٹیوں کو بھی سکھائیں ، آج کے دن بدن بگڑتے معاشرے میں یہ بہت ضروری ہے
میری زندگی میں پسند کی حد تک بھی کوئی مرد کبھی داخل ہی نہیں ہو پایا ، وہ بڑے اطمینان سے کہہ گئی ۔ اس کی بھی ایک وجہ تھی ۔ امی ابو کے بعد ممانی نے مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح پالا اور ہمیشہ گھر سے نکلتے ہوئے ایک بات کہی کہ بیٹی ! زندگی میں ایک دن آتا ہے جب مرد عورت کی زندگی میں کسی طوفان کی طرح داخل ہوتا ہے یا پھر بہار کے        جھونکے کی طرح     شادی سے پہلے آنے والا مرد اکثر طوفان کی مثل آتا ہے جو اپنے پیچھے صرف اور صرف بربادی چھوڑ جاتا ہے ایسی بربادی جو اگر جسم کو پامال نہ بھی کرے تو روح پر اپنی خراشیں ضرور ڈالتی ہے ۔ جسم کے زخم بھر جاتے ہیں لیکن روح کے گھاؤکبھی ختم نہیں ہوتے اور بربادی کی یادیں عورت کو کبھی اپنے شوہر سے پوری طرح وفا دار نہیں ہونے دیتی اور شوہر عورت کی زندگی میں اس بہار کے جھونکے کی طرح آتا ہے جسے جلد یا بدیر آنا ہی ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ عورت کا جوڑا اس کے دنیا میں آنے سے پہلے آسمانوں پر بن چکا ہوتا ہے
کیونکہ جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں۔اس لئے کوشش کرنا کہ تم انتظار سے سانجھ پیدا کرو۔۔۔ میرا تم پر کوئی زور ہے نہ ہم تم پر نگاہ رکھے گے۔ہم تم پر اعتماد بھی کررہے ہے۔ اور تمہیں پوری آزادی بھی دے رہے ہیں ۔
کیونکہ تم تم ناجاہل ہو نہ غلام ۔طوفان سے آشنائی میں تمہارا بھلا ہے یا بہار کے انتظار میں ،
یہ فیصلہ اب تمہیں کرنا ہے ہم اس لئے بھی یہ اعتبار کا کھیل ۔۔کھیل رہے ہیں کہ ہمیں اپنی تربیت کا امتحان مقصود ہے

Sunday, April 27, 2014

حدیث سمجھ کر حوالہ جات نہ پوچھنا

اسے ایک اصلاحی کہانی سمجھئے گا،، حدیث سمجھ کر حوالہ جات نہ پوچھنا

 شروع کر دینا ! ایک شخص تھا جس نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی غیرعورت کی طرف نظر اٹھاکر نہیں دیکھاتھا، ایک بار کچھ یوں ہوا کہ وہ شخص بہت ہی زیادہ تنگ دست ہوگیا، نوبت یہاں تک پہنچی کہ گھر میں فاقے شروع ہوگئے.. اس شخص کی ایک جوان بیٹی بھی تھی، جب فاقے انتہا سے بڑھ گئے تو وہ لڑکی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی حالت دیکھ کر غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئی، دل میں ارادہ کرکے گھرسے نکلی کہ اپنا جسم بیچ کر کچھ کھانے کا سامان کرونگی.. وہ گھرسے نکل کر پوچھتے پوچھتے ایسے علاقے میں جا پہنچی جہاں پر جسم فروشی کی جاتی تھی، وہ لڑکی وہاں جاکر اپنی ادائیں دکھا کر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگی، لیکن کسی ایک شخص نے بھی اسکی طرف توجہ نہیں دی توجہ تو دور کسی نے اسکی طرف نظر تک اٹھا کرنہیں دیکھا، لوگ آتے اور اسکی طرف نظر اٹھائے بنا گزرجاتے.. خیر اسی طرح کھڑے کھڑے لڑکی کو شام ہوگئی، وہ کافی دلبرداشتہ ہوکر گھر کی جانب قدم بڑھانے لگ گئی.. جب گھر پہنچی تو اپنے باپ کو منتظر پایا، پریشانی میں مبتلا باپ نے پوچھا "بیٹی تو کہاں چلی گئی تھی؟؟؟ لڑکی نے باپ سے مافی مانگی اور رو رو کر سارا ماجرا بیان کیا کہ "ابو مجھ سے اپنے بھوک سے بلکتے ہوئے بہن بھائیوں کی حالت دیکھی نہیں گئی اور میں مجبور ہو کر گناہ کرنے نکل پڑی، لیکن کسی ایک بھی شخص نے بھی میری طرف نظر تک اٹھا کر نہیں دیکھا... سارا ماجرا سننے کے بعد باپ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ "بیٹا تیرے باپ نے آج تک کبھی کسی غیر عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی تیری طرف نظر اٹھا کر دیکھے" دوستو ہماری سوچ کے راستے بہت وسیع ہیں امید کرتیں ہیں یہ تحریر پڑھنے کے بعد آپ اس بارے میں ضرور سوچیں گے

Thursday, April 24, 2014

لوگو ایک بڑی اھم بات ھے

یار لوگو ایک بڑی اھم بات ھے ،جو ھر گھر کا فسانہ ھے اور صدیوں سے جاری ھے ،مگر اس کا معمہ نہ تو مذھب حل کر سکا ھے، اور نہ فلسفی،، یہ ھر مذھب کی کہانی ھے،، ھر ملک،رنگ،نسل اور زبان میں یکساں ماجرا ھے،، اتنی یکسانیت دنیا کے کسی اور مسئلے مین نہین پائی جاتی،، مگر اس کو خواتین حل کر سکتی ھیں،اگر وہ سچ بولنے کا تہیہ کر لیں اور اندر کی بات بتا دیں،،مذھب نے تو ھاتھ کھڑے کر دیئے ھیں،، اور اجازت دے دی ھے کہ جھوٹ بول کے جان بچاؤ،، گھر کا ماحول اور اولاد کا مستقبل بچاؤ،،کوئی گناہ نہیں،، یعنی حدیث میں گھریلو ماحول درست رکھنے کے لئے جھوٹ کی اجازت دی گئی،، مسئلہ یہ ھے کہ مرد جب کوئی بھی چیز لاتا ھے تو عورت یہ کیوں پوچھتی ھے کہ کتنے کی لائے ھو؟ پھر مرد اگر قیمت سچ بتاتا ھے تو عذاب بن جاتا ھے،، اور پھر اس کو 50 کی چیز 30 کی بتانا پڑتی ھے،، اس پر بھی اعتبار نہیں کیا جاتا بلکہ کہا جاتا ھے کہ چٹ دکھاؤ ،، رسید کہاں ھے؟بائی دا وئے اگر وہ چیز مہنگی بھی لایا ھے تو اس کی اپنی کمائی ھے،، کوئی سسرال سے مانگ کے تو لایا نہین اور نہ سالوں کی کمائی ھے،، نفع نقصان اس کا اپنا ھے،، فساد کیوں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی کمپلیکس ھے؟ اگر شوھر یہی سوال عورت سے کرنا شروع کر دے تو قیامت آ جاتی ھے کہ جناب شوھر بہت سخت ھے،، بات بات پر حساب لیتا ھے،، جی رسیدیں چیک کرتا ھے،،مگر مرد کہاں جائے،،کس سے فریاد کرے؟ آپ کہہ سکتے ھیں کہ یہ مرد کی ھی خیر خواھی ھے ایسی خیر خواھی جو گھر اجاڑ دے ،، نادان دوست کی دوستی جیسی ھوتی ھے جو کہ عقلمند کی دشمنی سے بدتر ھوتی ھے ! یہی خیر خواھی جب مرد کرے اور بات بے بات پوچھے کہ یہ چیز کتنے کی لائی ھو،، رسید دکھاؤ یا قیمت کا سٹکر دیکھ کر کہے کہ ابھی جاؤ جا کر واپس کر کے آؤ ،، تو پھر یہ ظلم کیوں بن جاتا ھے؟ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے مرد کا دل عورت کی طرف سے خراب ھو جاتا ھے ، اور عورت پوچھتی پھرتی ھے کہ ان کو ھوا کیا ھے ؟پچھلے رمضان کی بات ھے شوھر مارکیٹ سے ایک الیکٹرونک چیز لے کر آیا ،، بیوی کو حسبِ معمول کم قیمت بتائی ، بیوی نے اسے کہا کہ یہ مہنگی ھے اس کے بدلے فلاں چیز لے آؤ ، شوھر نے کہا کہ میں واپس نہیں جاؤں گا ،، کیونکہ وہ قیمت کا اسٹیکر اتار چکا تھا،، شوھر یہ بات کہہ کر نماز پڑھنے چلا گیا ! بیوی زیادہ چالاک بنی اور اپنے بہنوئی کو بلا کر کہا کہ امارات جنرل مارکیٹ میں جاؤ اور انہیں کہو کہ فلاں چیز کے ساتھ تبدیل کردیں اور قیمت وھی بتائی جو شوھر نے بتائی تھی ! اس نےبالکل اسی طرح کیا جیسے باجی نے کہا تھا ،،چونکہ قیمت بہت کم بتائی گئ تھی اور اسٹکر بھی ھٹا دیا گیا تھا ،، مارکیٹ والوں کو شک پڑا کہ اس نے یہ چیز چوری کی ھے ! انہوں نے سیکورٹی گارڈ بلا کر بندہ گرفتار کرا دیا ! وہ بے چارہ اپنے ھم زلف کو فون کرے جو تراویح پڑھنے گیا ھوا تھا - جب تک ساڈو صاحب تراویح پڑھ کر آتے وہ حضرت پولیس اسٹیشن منتقل ھو چکے تھے،، ھم زلف نے مارکیٹ جا کر ان کو رسید دکھائی جو کہ وہ گاڑی میں ھی چھوڑ گئے تھے ،"بیوی کے ڈر سے "مارکیٹ والے مینیجر صاحب بات کو سمجھ گئے کیونکہ وہ بھی شادی شدہ تھے ،کیس واپس لے لیا مگر یہاں کا قانون ھے کہ بندہ ایک دفعہ شرطے چلا جائے تو کفیل ھی واپس لاتا ھے ،ویسے پولیس نہیں چھوڑتی ، اب اس کا کفیل عمرے پر گیا ھوا تھا ، عید والے دن اپنا عشرہ اعتکاف پورا کر کے آیا اور ساڈو جی کا رمضان اور عید پولیس اسٹیشن مین ھی گزری ! اس سے بھی آگے کی چیز ،، آپ پراجیکٹ مینیجر ھیں 500 آدمی آپ کے انڈر کام کر رھا ھے اور کروڑوں کے بل آپ کے دستخط سے پاس ھوتے اور چیک بنتے ھیں، بڑی بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیاں آپ تک رسائی پانے کے جتن کرتی ھیں،، آپ کے ماتھے کا ایک بل گئ گھرانے معاشی طور پر برباد کر دیتا ھے،،مگر بیوی آپ کو ایک درھم کے دھنیا کے لئے دکان کے دو چکر لگوا دے گی کہ تبدیل کر کے لاؤ ،، تمہیں دھنیا کی بھی پہچان نہیں،،؟ آپ کہیں کہ اسے کچرے میں پھینک دو میں دوسرا لے آتا ھوں،، پھر وھی ڈال لے گی کہ نیا نہیں لاؤ اسی سے گزارا کر لیتی ھوں،، یہ ھے مرد کی ویلیو ،، یہ گزارہ اعتراض کرنے سے پہلے بھی کیا جا سکتا تھا،، یہ کمپرومائز ایک درھم کے ساتھ ھوا ھے ، شوھر کے ساتھ نہیں !
ایک میاں بیوی امریکہ سے تشریف لائے ھوئے تھے اور ٹی وی پر انٹرویو چل رھا تھا،، وہ بتا رھے تھے کہ میں سیب لایا 35 روپے کے درجن لایا ،، پرانی بات سنا رھے تھے،، اس نے پوچھا تو میں نے 26 کے درجن بتا دیا،، اگلے دن پڑوسن آئی تو میری بیوی نے اس کو بھی 26 روپے درجن ریٹ بتا دیا،، اس کا شوھر پورا بازار گھوم کے آ گیا مگر کہیں بھی 26 کے درجن نہ ملے،، تو میری بیوی اپنے اٹھا کے اسے دے دیئے اور 26 روپے لے لیئے اور جب مین گھر واپس آیا تو بولی وہ سیب میں نے پڑوسن کو 26 کے دے دیئے ھیں،، کل آتے ھوئے اپنے پکڑ کے لے آنا،،،، ایک صاحب بیوی کا سوٹ لائے 65 درھم کا ،،مگر بیوی کو 45 کا بتایا کہ یہ ھمیشہ شور کرتی ھے تم مہنگا لاتے ھو،،ایک تو پیار سے سوٹ لاؤ اور الٹا بے عزتی کراؤ،، اور موڈ الگ خراب،، خیر بیوی نے وہ اٹھا کر سہیلی کو 45 درھم کا دے دیا کہ میرے پاس پہلے ھی ایک سوٹ پڑا ھوا ھے،یہ تم لے لو ،، میری خواتین سے گزارش ھے کہ وہ اس سوال سے کیا حاصل کرنا چاھتی ھیں،، اور اپنی کس حس کی تسکین کرتی ھیں،، اگر بات واضح ھو جائے تو شاید بچیوں کی تربیت سے جھوٹ کی اس فیکٹری کو بند کرنے میں مدد ملے،،

Tuesday, April 22, 2014

فریب خوردہ قوم !

فریب خوردہ قوم !
حقیقت میں اسلامی نظام کے نام پر سزاؤں کا نفاذ ھمارا مطمع نظر ھے،یعنی جس ملک میں اسلامی سزاؤں کا نفاذ ھو جائے لوگ ھاتھ کاٹنا اور سنگسار کرنا شروع کر دیں،،لوگ کہیں گے کہ اسلام آ گیا ! یہ آج کے مسلمان کا کانسیپٹ ھے ،اسلامی نظام کے بارے میں اور یہ ضیاء صاحب کے دور میں زیادہ اسٹیبلیش ھوا ھے ،، 
اب بھی جب کہا جاتا ھے کہ پاکستان کا آئین اسلامی ھے یا پاکستان ایک اسلامی ملک ھے تو لوگ سوال کرتے ھیں کہ 1947 سے کتنے لوگوں کے ھاتھ کاٹے گئے ھیں؟ کتنے لوگوں کو سنگسار کیا گیا ھے ؟ یہ ھے ھمارا اسلامی نظام ،، 18 کروڑ میں سے 16 کروڑ کے ھاتھ کاٹ دیجئے تو اسلام آ جائے گا ! اس کے علاوہ کونسا اللہ کا حکم ھے جو پوری دنیا میں پورا نہیں کیا جا سکتا؟ کوئی نماز سے روکتا ھے؟ کوئی روزے سے منع کرتا ھے ؟ کوئی زکوۃ سے روکتا ھے ؟ شہادتین سے منع کرتا ھے،، حدیثِ جبریل میں تو یہی اسلام ھے ! اب رہ گیا معاشی نظام تو وہ پوری دنیا میں ممکن نہیں ھے،جب کہ مکے مدینے والی خودکفیل ریاست میں ممکن نہیں ھے ،جہاں تیل نہ بھی ھو، حج اور عمرے والوں کا زرمبادلہ ھر لحظہ بارش کی جھڑی کی طرح مسلسل برستا رھتا ھے ،، ھم تو ھیں ھی بھکاری قوم ! تحت الثراء تک قرضوں میں جکڑی ھوئی قوم ،،ھم قرض کی ادائیگی سے کیسے انکار کر سکتے ھیں ؟ جن لوگوں کو یہ زعم ھے کہ ھم ایک خود مختار مالیاتی نظام کھڑا کر سکتے ھیں میری ان سے گزارش رھی ھے کہ " ھم نے ھزاروں جانیں اور عصمتیں قربان کر کے صومالیہ میں ایک بنی بنائی حکومت گرائی ھے اور اسے تہس نہس کر دیا ھے، اب وہ ٹھیک 1434 سال پرانا ملک ھے ! کسی کے قرضے میں مقروض نہیں،، اس کی کوئی کرنسی نہیں،، کوئی بینک نہیں،،بس سارے مخلص مسلمان وھاں تشریف لے جائیے اور ایک غیر سودی مالیاتی نظام کھڑا کر دکھائیے ،، تا کہ سند رھے،، اب بھی شاید کوئی بھائی گوگل سرچ کر کے تقی عثمانی صاحب کا کیا ھوا " نیٹ پریکٹس ٹائپ " مالیاتی سسٹم شیئر کر دے گا کہ یہ لو ،کام تو سارا ھو چکا ھے بس اب حکومت اس کو نافذ کرے ،، مگر حقیقت یہ ھے کہ وہ صرف دھوکا ھے،، اتنا سارا دھوکا جتنا آپ کے وضو کا پانی واش بیسن سے کموڈ والے 4 انچ پائپ میں جا کر مکس اپ ھوتا،، پھر دونوں ایک جیسے ناپاک ھو جاتے ھیں،، مفتی صاحب کا بنایا ھوا مالیاتی نظام صرف ایک برانچ سے دوسری برانچ کا سفر ھے وھی جو فیصل بینک میں حلال اور پاک ھوتا ھے وھی شام کو اسٹیٹ بینک اور بھر سٹی بینک یعنی عالمی مالیاتی نظام میں پہنچتے ھی پھر وھی ناپاک بن جاتا ھے ،، یہ اب اضطرار بن چکا ھے تا آنکہ ایٹمی جنگ میں دنیا تباہ ھو کر واپس پتھر کے دور میں پہنچ جائے اور لوگ گندم دے کر گاجریں خریدیں اور بکری بیچ کر آٹا ،، بارٹر سسٹم شروع ھو جائے ،، ھمارے مجاھدین اسی لئے ایٹمی ھتھیاروں تک رسائی چاھتے ھیں ! اگر ایک شخص ان تمام معاملات میں اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کی اطاعت کرتا ھے جن میں  وہ اطاعت کرنے کی استطاعت رکھتا ھے،تو اللہ پاک اسے ان معاملات میں معاف فرما دے گا جن میں وہ مجبور کر دیا گیا تھا جن میں سودی نظام بھی شامل ھے، لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا ،، اور رفع عن امتی ثلاث،، الخطاء والنسیان وما استکرھوا ! میری امت سے تین باتوں پر پرسش معاف کر دی گئ ھے ،، غلطی ، بھُول چوک اور جس پر اسے مجبور کر دیا جائے ! جب بندہ اپنی استطاعت میں بری ھو جائے گا تو معاف کر دیا جائے گا،،مگر ایک مسلمان جب اپنے اخلاقیات اور اردگرد کے معاملات میں جن میں وہ عمل کرنے میں آزاد ھے بودا ثابت ھو جائے گا،، تو پھر باقی کے بارے میں وہ ماخوذ ھو گا ! آج مسلمان معاشرے عام انسانی اقدار سے بھی کوسوں دور ھیں،، ھر برائی اپنی بدترین شکل میں ان میں موجود ھے، بڑے بڑے دیندار اور خود وہ جو اللہ کے دین کے نفاذ کا خوشنما دعوی لے کر اٹھے ھیں خود وہ انسانیت کے اجتماعی قتل کے مجرم ھیں،، عبادت گاھوں کو نمازیوں سمیت اڑانے کے مجرم ،، سکول وینوں کو بچوں سمیت اڑانے کے مجرم ،، بازاروں کو خریداروں سمیت اڑانے کے مجرم ،، ھر نیک و بد ان کے نشانے پہ ھے ! یہ لوگ اسلام کے نام پر اپنی ذاتی ڈکٹیٹر شپ چاھتے ھیں ،، اور کچھ نہیں،، یہ روئے زمین پر بدترین مخلوق ھیں،، یہ اللہ کے اختیارات کو سلب کر کے اپنی ذات میں مرتکز کرنا چاھتے ھیں،، یہ چاھتے ھیں کہ یہ لوگوں کے بالوں کا اسٹائل طے کریں ،، اور کپڑا آپ کا ھو مگر ناپ وہ طے کریں ! یہ گسٹاپو کا مذھبی روپ ھے اور کچھ نہیں ! اس کو یہ لوگ اسلامی نظام کہتے ھیں !

ماں کو خوشخبری سنائیں

ھم تو قفس میں کاٹ چکے دن بہار کے !
اگست کی تپتی دوپہر ، تندور کی طرح لـُـو کی لپٹیں اٹھاتی گلیوں میں سے وہ دوڑتا ھوا ماں کے پاس پہنچا جو ایک تالاب پر کپڑے دھونے آئی ھوئی تھی !
امی ، امی ابو کا خط اس نے ماں کو خوشخبری سنائی ! تیسری کلاس میں پڑھتے اپنے بیٹے کے تپتے ھوئے چہرے کو دیکھتے ھوئے اس نے اسی کو خط پڑھنے کو کہا کیونکہ وہ خود ان پڑھ تھی !
بیٹا خط کھول رھا تھا اور وہ کھڑی ھو کر کوئی کپڑا نچوڑ رھی تھی جب اچانک بیٹے نے خط کا سرنامہ پڑھا ،،،،،،،،،،،طلاق نامہ ،،،،،،،،،،،،،،
سرنامہ پڑھ کر بچے نے مزید آگے پڑھنے سے پہلے ماں کی طرف دیکھا، جس کے ھاتھ سے کپڑا چھوٹ کر دوبارہ تالاب کے پانی میں گر گیا تھا اور وہ کمر کو پکڑ کر بیٹھنے کی کوشش کر رھی تھی ! معصوم بچہ جسے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ طلاق نامہ کیا بلا ھوتی ھے ! یہ خوشخبری ھوتی ھے یا کسی کی زندگی کی تباھی کا اعلان نامہ ! وہ ماں کی حالت دیکھ کر پریشان ھو گیا جو اسے ھاتھ کے اشارے سے مزید آگے پڑھنے سے روک رھی تھی ! ماں نے دھلے ان دھلے سارے کپڑے لپیٹے اور گھر واپس آ گئ ! فردِ جرم یہ لگائی گئ کہ میں نے جب تمہیں بہن کے گھر جانے سے منع کیا تھا تو تم اس کے گھر کیوں گئ ھو ! وہ دو بہنیں ھی تھیں اور کوئی ان کا تھا بھی نہیں ! نہ والدین نہ بھائی !
طلا ق کے بعد وہ 24 سال کی عمر میں بہن ھی کے گھر کے ایک کمرے میں رھنے لگی ! باپ کی کوشش کے باوجود بیٹا ماں کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھا ، حساس طبیعت بچے نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا دکھ بنا لیا اور اس دکھ کو محنت میں تبدیل کر کے تعلیم پر پوری توجہ مبذول کر دی،، وہ اس چھوٹی عمر میں ھی محنت کرنے لگ گیا اور اپنے تعلیم کے اخراجات خود برداشت کرتا ! ماں اسے چنے چاٹ بنا دیتی جو وہ عصر اور مغرب کے درمیاں بیچ دیتا ،، وہ بورا تربوز کا ایک دفعہ خرید لیتے جسے وہ روزانہ عصر کے بعد اور چھٹی والے دن بیچتا،، ماں لوگوں کے گھروں کا کام کرتی یوں گھر کے اخراجات چلتے ! وقت گزرتے دیر نہین لگتی بی اے کرنے کے بعد اس نے ایل ایل بی کا امتحان دیا اور امتیازی نمبروں سے پاس کیا ،، لاھور ھائی کورٹ سے لائسنس ملنے کے بعد اس نے اپنی تحصیل میں پریکٹس شروع کی ! عموماً وہ سول کیس لیتا تھا اور خاص کر طلاق کے کیس تو اس کے پاس کثرت سے آتے تھے ! وہ جب عدالت میں کھـڑا ھوتا تو ھر طلاق یافتہ عورت اسے اپنی ماں لگتی وہ ان عورتوں کے مستقبل کو یوں جانتا تھا جیسے اپنی ماں کے ماضی کو ،، اپنا درد جب وہ الفاظ میں سمو کر جج سے مخاطب ھوتا تو پوری عدالت کا ماحول جذباتی ھو جاتا ،، وہ سب کچھ جو وہ چھوٹا ھونے کی وجہ سے باپ سے نہ کہہ سکا تھا وہ طلاق دینے والے کے کانوں میں پگھلے ھوئے سیسے کی طرح اتار دیتا،، بہت سارے مقدموں میں صلح بھی ھو جاتی اور گھر بس جاتے ،مگر ھر کیس کا فیصلہ اس کے حق میں ھی ھوتا !
وقت نے اسے سول جج اور میجسٹریٹ دفعہ 30 بنا دیا ،،

ماں کے دکھ نے اسے مذھب کی طرف مائل کر دیا تھا ! دکھ ایک دھکا ھوتا ھے جو کسی کو گمراھی کے تالاب میں گرا دیتا ھے تو کسی کو اللہ کے قدموں میں لا ڈالتا ھے ! اس نے سکول کی تعلیم کے دوران ھی قرآن بھی حفظ کر لیا تھا ! جب وہ اپنی مشت بھر داڑھی کے ساتھ قراقلی پہن کر عدالت میں بیٹھا ھوتا تو لگتا کوئی خطیب ھے، وہ ظہر کی نماز کا وقفہ کر کے باقاعدہ نماز جماعت کے ساتھ کچہری کی مسجد میں ادا کرتا ! اس کی شادی اسی خالہ کی بیٹی سے کر دی گئ تھی جن کے گھر وہ رھتا تھا !
عدالت میں جب بھی کوئی طلاق کا کیس آتا تو اسے ایک لمحے کے لئے ایک جوان عورت کے ھاتھ سے کپڑا چھوٹ کر گرتا نظر آتا اور دوسرے لمحے وہ عورت اپنی کمر پہ ھاتھ رکھے زمین بوس ھوتی نظر آتی ! ساری زندگی یہ کلپ اس کا پیچھا کرتا رھا ،جس کا پرتو اس کے ھر فیصلے میں نظر آتا ! ماں کی دعاؤں کا اثر تھا یا اس کی دیانت تھی کہ وہ جھٹ پٹ سول سے سیشن جج بنا اور اس کی پوسٹنگ اسلام آباد کچہری میں ھو گئ،، جہاں اسے کئ وزراء اعظم کی ضمانت اور کئ کے وارنٹ جاری کرنے پڑے ! 

اس کے والد اور والدہ مقبوضہ کشمیر کے ایک ھی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے ! 1948 کی ھجرت کے دوران اس کی والدہ کا سارا خاندان تہہ تیغ کر دیا گیا تھا ،، صرف دو بہنیں زندہ بچ گئ تھیں وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ اس وقت کسی کے گھر گئ ھوئی تھی کھیلنے کے لئے ! اس کے نانا گاؤں کے امیر ترین آدمی تھے ! گائیں بھینسیں زمینیں اور کھیتی باڑی ،، ھندو ان کے ملازم تھے اور وھی ڈوگروں کو چڑھا کر لائے تھے ! اس کے دادا نے گاؤں سے نکلتے وقت ان دونوں بہنوں کو بھی ساتھ رکھ لیا یوں اس کے والد اور والدہ ایک ھی گھر میں اکٹھے کھیل کود کر جوان ھوئے تھے !
یہ شادی بھی دونوں کی رضامندی سے ھوئی تھی ! طلاق کے باوجود والدہ نے کبھی بھی اسے والد کے خلاف نہیں بھڑکایا ،ھمیشہ اسے والد کا احترام کرنے کی نصیحت کی، والد نے دوسری شادی کر لی تھی جس سے اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں،، دوسری بیوی نے اس کے والد کو تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دیا تو اولاد تو اللہ کا عذاب بن کر آئی ،، اسے اکثر اپنی والدہ کی بات یاد آتی، بیٹا وہ تیرے والد ھیں،تو ان سے تعلق رکھ اور ان کا احترام کر ،، میرا حساب اللہ دنیا میں چکا دے گا ورنہ آخرت تو پڑی ھوئی ھے وھاں دیکھ لیں گے ! مگر وہ سلام دعا کرنے کے باوجود والد کے ساتھ کوئی قلبی تعلق پیدا نہ کر سکا ! اس کا والد جب اپنے دوسرے بیٹوں کے پیچھے گلی گلی ٹوکا لیئے دوڑ رھا ھوتا تو اسے تعجب ھوتا کہ کل تک اتنا سنجیدہ انسان جو اس کا آئیڈیل تھا ، آج اولاد اسے کس مقام پر لے آئی تھی ! سرکاری نوکری سے ریٹائرڈ ھونے کے بعد اس کے والد کا رعب داب اور ٹھاٹ بھاٹ سب ختم ھو گئے تھے،، جب کبھی وہ گھر میں والد صاحب کی درگت بیان کرتا تو اسے محسوس ھوتا جیسے اس کی ماں بجائے خوش ھونے کے دکھی ھو جاتی ھے ! یہ بات اسے بعد میں اچھی طرح معلوم ھو گئ کہ اس کی ماں طلاق کے صدمے کے باوجود اس کے والد کی محبت کو دل سے نہیں نکال سکی تھی ،، اور اسی وجہ سے اس نے دوسری شادی کے لئے نہایت معقول پیش کشیں ٹھکرا دی تھیں !
جب کبھی وہ دوسرے بھائیوں کی شرارتیں اور والد کا گلی گلی ان کے پیچھے دوڑنا ماں کو بتاتا تو وہ افسردہ ھو کر کہتی " بیٹا جب انسان اللہ کی ناشکری کرتا ھے تو اس کی سزا بھی اسی صورت میں پاتا ھے،، تیرے جیسے ھونہار بیٹے کا بچپن خراب کر کے تیرے ابا نے اللہ کی ناشکری کی تھی، اللہ نے اولاد ھی کی صورت میں ان کو عذاب دے دیا اور میرے ساتھ جو کیا ،، وہ دوسری بیوی کی صورت میں پا لیا ! تو ان کے یہاں جایا کر اور جو خدمت ھو سکتی ھے وہ بھی کیا کر ،، وہ اولاد کی طرف سے دکھی ھیں،، تو کوشش کیا کر کہ تو ان کو وقت دے سکے ! ماں کے مجبور کرنے پر جب کبھی وہ مسجد سے نماز پڑھ کر والد کے ساتھ ھی ان کے گھر جاتا تو ،، اسے محسوس ھوتا جیسے والد اپنے کیئے کی کوئی وضاحت کرنا چاھتے ھیں مگر شاید ان کو الفاظ نہیں ملتے یا وہ اس کے رد عمل سے ڈرتے ھیں کہ کہیں جو تھوڑا بہت تعلق ھے وہ بھی نہ ٹوٹ جائے ! ایک دفعہ رات کو زور کی آندھی چلی ،گرمیوں کا موسم تھا سارے چھتوں پہ سوئے ھوئے تھے وہ اس وقت نویں کلاس میں پڑھتا تھا ،، والدہ نیچے صحن میں تھی اور وہ انہیں چھت پر سے چارپائی پکڑا رھا تھا جب ھوا کے تیز تھپیڑے نے اسے چھت سے نیچے دھکیل دیا ! اس کے والد جو پڑوس میں اپنی چھت پر سے یہ منظر دیکھ رھے تھے ان کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور وہ سیڑھیاں اترنے کی بجائے چھت پر سے گلی میں چھلانگ لگا کر دوڑے ، اور سیدھے ان کے گھر میں آ گھسے ! وہ چھت سے چھاتی کے بل گرا تھا اور سینے پر براہ راست لگنے والی چوٹ نے شاید اس کا دل بند کر دیا تھا یا گرتے وقت جو چیخ اس نے ماری تھی پھر پھیپھڑوں پر لگنے والے دھچکے نے سانس کا ردھم الٹا کر رکھ دیا تھا،، وہ سانس اندر لینا چاھتا تھا جبکہ پھیپھڑوں میں ایکسٹرا بھری ھوئی " ھوا " سانس اندر آنے نہیں دے رھی تھی بلکہ باھر دھکیل رھی تھی،، جو بھی تھا اس کی آنکھیں سفید ھو چکی تھیں اور والدہ کو اس آدھی رات اپنا چاند ڈوبتا نظر آرھا تھا ! ایسے میں اس کے والد کی آمد نے ماں کو حوصلہ دیا انہوں نے آتے ھی اس کی حالت کا اندازہ لگا لیا اور اسے لیٹے لیٹے اپنے منہ سے سانس دی ،اور پھر بٹھا کر اس کی چھاتی کو ملنا شروع کیا ! اس کی حالت سنبھل گئ تو والد نے اس کی والدہ سے کہا کہ میں دودھ بھیجتا ھوں اسے گرم دودھ میں ھلدی ڈال کر دو ! یہ پہلا مکالمہ تھا جو اس نے چھ سالوں بعد اپنے والد اور والدہ کے درمیان سنا تھا ! صبح اس کی سوتیلی ماں آئی تو اس نے بتایا کہ رات کو انہوں نے سیڑھیوں سے اترنے کی بجائے باھر گلی میں چھلانگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے ان کے اپنے پاؤں میں سخت موچ آ گئ ھے ! اس دن اسے احساس ھوا کہ اس کے والد بہرحال اس سے پیار کرتے ھیں !؛

پارٹ ٹائم ٹیویشن پڑھانے کے باوجود والدہ اور اپنی یونیورسٹی کے اخراجات کے لئے اسے پیسے کا انتطام کرنا مشکل ھو رھا تھا ! ایسے میں گاؤں کے ایک صاحب جو اس کے والد کے دوست تھے اور لندن سے پینشن لینے کے بعد مستقل گاؤں میں ھی آ کر آباد ھو گئے تھے ! نام تو ان کا نور حسین تھا مگر کافی تعلیم یافتہ بھی تھے اور گورے چٹے ھونے کی وجہ سے لوگ ان کو بابو جی ،بابو جی کہہ کر پکارا کرتے تھے ! انہوں نے اسے ایک دن بلایا اور کہا کہ مجھے معلوم ھے کہ تعلیم کی وجہ سے آپ کو اخراجات کو manage کرنا مشکل ھو رھا ھے،، میں آپ کی یونیورسٹی کی سہ ماھی فیس جمع کرا دیا کروں گا ، آپ جب کام پر لگ جاؤ گے تو مجھے آئستہ ائستہ اسی ترتیب سے ادا کر دینا ! خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ،، ایک بہت بڑا بوجھ اس کے سر سے اتر گیا تھا !
جس دن اس کی گریجویشن کی تقریب تھی وہ خود بابو جی کے پاس چل کر گیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس کے ساتھ یونیورسٹی مہمان کے طور پہ چلیں ! انہوں نے اسے کہا کہ بہتر یہ ھے کہ وہ اپنے والد کو ساتھ لے کر جائے کیونکہ یہ ان کا حق ھے مگر اس نے کہا کہ سر آپ نے میرے اوپر اتنی مہربانی کی ھے ، آپ نے والد والی جگہ کام کیا ھے ،، آپ بھی میرے والد کی جگہ ھیں اسی لئے میں خود چل کر آپ کے پاس آیا ھوں ،، انہوں نے اس کا ھاتھ پکڑ کر اپنے دائیں طرف بٹھایا اور بڑی سنجیدگی سے کہا " یاد رکھنا والد والی جگہ دنیا میں کوئی نہیں لے سکتا " یہ دھوکا زندگی میں کبھی نہ کھانا ،، میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا ،، تمہارے والد کے کہنے پر ھی کیا ھے، وہ سارے پیسے تمہارے والد کے ھی تھے اس نے اپنے چراٹ سیمنٹ کمپنی کے سارے شیئر مجھے بیچ کر وہ رقم تمہارے لئے ارینج کی تھی ،، تمہیں اس لئے نہیں بتایا گیا تھا کہ شاید تم جزباتی ھو کر پیسے قبول کرنے سے انکار کر دو ،، بیٹا تمہارا باپ تمہارے ساتھ نہایت مخلص ھے ، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، اور تمہاری ماں کے ساتھ اس نے جو کیا ھے وہ اس پر بھی شرمندہ ھے ،، بقول اس کے اس نے ایک ھی طلاق لکھی تھی اور وہ بھی ڈرانے کی نیت سے ،،مگر وہ یہ سمجھتا تھا کہ طلاق تین دفعہ لکھنے سے ھی واقع ھوتی ھے ،، بس یہ وہ غلط فہمی ھے جو اکثر لوگوں کو ھوتی ھے کہ تین دفعہ طلاق لکھو تو طلاق ھوتی ھے ! وہ بابو جی کے پاس سے اٹھ کر آیا تو سیدھا ماں کے پاس گیا اور ان کو وہ سب کچھ بتایا جو بابو جی سے سن کر آیا تھا ! ماں نے اسے کہا کہ میں نے تمہیں اسی لئے ھمیشہ یہ کہا تھا کہ اپنے والد کے ساتھ عزت اور احترام کے ساتھ پیش آؤ ! وہ دل کے بہت اچھے انسان ھیں ! طلاق والی بات بھی انہوں نے مجھے کسی ذریعے سے پہنچائی تھی کہ وہ مسئلہ پتہ کر کے رجوع کر لیں گے مگر میں نے انکار کر دیا تھا،، البتہ پیسوں والی بات میرے لئے نئ ھے ، تم جاؤ اور ان کو کل کے لئے دعوت دو اور اصرار کر کے انہیں ساتھ لے کر جانا !
وہ والد صاحب کی حویلی میں داخل ھوا تو اس کی باڈی لینگویج ھی تبدیل ھو چکی تھی ، آج وہ شرمندہ شرمندہ سا لگ رھا تھا ، والد صاحب کے ھاتھ میں چائے کی پیالی تھی جو انہوں نے اسے ھی پکڑا دی اور اپنے لئے دوسری پیالی منگوا لی ! عام طور پہ وہ والد صاحب کے گھر بہت کم کھاتا پیتا تھا مگر آج اسے احساس ھوا کہ وہ گھر میں بھی والد صاحب کا ھی کھا رھا تھا ! جب وہ چائے پی چکا تو والد صاحب نے پیالی پکڑنے کو ھاتھ آگے بڑھایا ، اس نے پیالی تو نیچے رکھ دی اور والد صاحب کا ھاتھ پکڑ لیا ،، ان کا ھاتھ اپنے دونوں ھاتھوں میں لے کر اس نے انہیں کہا کہ کل اس کی گریجویشن تقریب ھے ،وہ چاھتا ھے کہ وہ اس کے ساتھ چلیں،، اسے محسوس ھوا جیسے والد صاحب کا ھاتھ آئستہ سے کانپا ھے ! انہوں نے اسے گہری نظر سے دیکھا اور حامی بھر لی !

تقریب میں اس کے دائیں طرف والد صاحب اور بائیں طرف والدہ تھیں ! جب وہ سند لے کر اترا تو سیدھا ماں کی طرف آیا ماں نے اس کا ماتھا چوما ، وہ رو رھی تھیں،، اس دن کے انتظار میں وہ زندہ تھیں،، ماں سے مل کر وہ والد صاحب کی طرف جھکا تو وہ والدہ کی طرح ماتھا چومنے کا منتظر تھا ،کیونکہ خوشی کے موقعے پر اس ماتھا چومنے کی رسم کے علاوہ اسے اور کسی رسم کا تجربہ نہیں تھا، مگر آج اسے ایک نیا تجربہ ھونا تھا ،، وہ جب تیسری کلاس میں پڑھتا تھا تو جب بھی والد گھر آتے وہ ھمیشہ ان کے پاس سوتا تھا، ان کے پسینے کی خوشبو اس پہ جادو کا اثر کرتی تھی ! ماں کو طلاق ھو جانے کے بعد اس نے کبھی اس پسینے کی خوشبو نہ سونگھی تھی نہ اس کا مطالبہ کیا تھا اور نہ وہ اس کی امید رکھتا تھا ! باپ نے جب اسے کھینچ کر سینے سے لگایا تو 16 سال پرانی پسینے کی خوشبو نے اس کی ھستی میں وھی دھمال مچا دی جو گرم توے پہ ٹھنڈے پانی کے قطروں کے گرنے سے مچتی ھے ! اس کے اندر کا تیسری کلاس کا اسٹوڈنٹ ، ابا جی کے پسینے کا نشئی بچہ سارے دائرے تہس نہس کرتا باھر نکل آیا تھا،، وہ بلک بلک کر رو دیا،، اس کے دوست اور دیگر مہمان جو ٹوپیاں اچھال رھے تھے اور قہقے لگا رھے تھے وہ کسی اور دنیا کی مخلوق لگتے تھے، وہ بھی اس فیملی کے انوکھے رد عمل پر حیران تھے کہ یہ کیسی خوشی منائی جا رھی تھی

والد صاحب مسلسل ٹینشن میں رھنے لگے تھے کیونکہ ان کا دوسری بیوی سے بڑا بیٹا ھر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی معاملے میں تھانے جا پہنچتا ، کبھی چرس تو کبھی لڑائی جھگڑا ! یہ ٹینشن ان کے لئے فالج کو لے کر آئی ،، اسے یہ خبر عدالت میں ایک مقدمے کی بحث کے دوران دوسرے وکیل نے آ کر بتائی کہ اس کے والد کو فالج کا اٹیک ھوا ھے ! وہ بحث مؤخر کر کے کیس کی تاریخ لے کر جب گھر پہنچا تو والد صاحب کے گرد ساری برادری اکٹھی ھو چکی تھی اور لوگ اپنا اپنا ثواب کمانے کے لئے ان کے منہ میں پانی ڈالنے کے چکر میں تھے ! اس کو دیکھتے ھی انہوں نے اسے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کمزور سی ڈوبتی آواز میں کہا کہ تم نے آنے میں دیر کر دی ! اس نے بچپن سے اپنے اللہ سے بڑا قریب کا تعلق رکھا تھا،، اسی سہارے پہ تو وہ اس منزل تک پہنچا تھا،، اس نے کہا ابا جی آج کل فالج کوئی اتنی بڑی بیماری بھی نہیں ھے، برادری والوں کو اس نے سمجھا کر بٹھا دیا اور گاڑی کے لئے سوتیلے بھائی کو بھیج دیا ! والد صاحب نے کہا کہ میرے نچلے دھڑ سے جان نکل چکی ھے تم میرا مردہ خراب نہ کرو ! ان کا پریشر260/160 چل رھا تھا،، اس نے انہیں گاڑی میں ڈالا اور شہر کے بہترین پرائیویٹ اسپتال لے گیا ،، جہاں پہلے تو ان کا بلڈ پریشر کنٹرول کیا گیا اور پھر مثانے کی غدود کا آپریشن کیا گیا جس نے پورا مثانہ بھر رکھا تھا اور اسی کی وجہ سے بلڈ پریشر اتنا اوپر جا رھا تھا کیونکہ وہ ساری ساری رات کھڑے قطرہ قطرہ پیشاب کرتے رھتے تھے مگر کسی کو بتایا تک نہیں ، اور یہ ان کی شروع سے عادت تھی کہ وہ اپنی تکلیف کسی کو بتاتے نہیں تھے،بس اپنی ذات پر جھیل لیتے تھے ! دس دن کے بعد وہ اسپتال سے پلٹے تو اگلے دس سال تک جیتے رھے ! ایک دن انہوں نے اسے کہا کہ وہ ان کی سوا دو کنال حویلی میں سے ایک کنال میں اپنا مکان بنا لے ،، کیونکہ وہ چاھتے ھیں کہ دوسری بیوی کے بچوں پر وہ نگرانی رکھے اور ان کی سرپرستی کرے ! ان کے حکم پر اس نے اپنا مکان ان کے سامنے بنا لیا ،یہ وہ وقت تھا جب وہ سول جج بن چکا تھا ! بس یہ وہ دور تھا جسے سنہرا دور کہا جا سکتا تھا ! ایک دن اس نے سنا کہ اس کا سوتیلا بھائی چرس سمیت نصیر آباد چوکی پر پکڑا گیا ھے،، اسے معلوم تھا کہ والد صاحب پریشان ھونگے مگر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا ،، صبح اس نے اپنے چیمبر کی کھڑکی سے والد صاحب کو دیکھا وہ کچہری میں تھیلا لئے پھر رھے تھے ! وہ سمجھا والد صاحب ضمانت کے چکر میں دھکے کھا رھے ھیں،، وہ انہیں بتانا چاھتا تھا کہ یہ کیس قابلِ ضمانت نہیں ھے ، وہ وقت ضائع نہ کریں،، اس نے اپنے اہلمد کو بھیجا کہ وہ بابا جی کو بلا کر لائے ،، والد صاحب آئے تو اس نے انہیں بٹھا کر چائے پانی پلانے کے بعد بتایا کہ فی الحال بھائی کی ضمانت ممکن نہیں ،جب چالان پیش ھوا تو میں ضمانت کا بندوبست کر لوں گا ،،مگر وہ بولے تو انہوں نے اسے شرمندہ کر کے رکھ دیا ،،کہنے لگے ضمانت کرانی ھوتی تو میں رات کو ھی تمہیں کہہ دیتا ،،مجھے اس کی ضمانت نہیں کرانی اور نہ کبھی تم اس کی کوشش کرو گے،، تم اپنے دامن پہ کوئی دھبہ مت لگاؤ ،، میں تو تحصیلدار کے دفتر سے آ رھا ھوں ،،میں نے سارے مکان اور زمینیں تمہارے نام کرا دی ھیں،، انہوں نے کاغذ تھیلے سے نکال کر اس کے سامنے رکھ دیئے ،، انہوں نے ایک انچ بھی نہیں چھوڑا تھا ،، ساری زرعی زمین اور مکان اس کے نام کر دیئے تھے ! یہ آپ نے کیا کر دیا ؟ اس نے پریشانی سے کہا،، یہ تو ھم بھائیوں میں دشمنی شروع ھو جائے گی ،، پھر لوگ کیا کہیں گے کہ باپ کو ھاتھوں پہ ڈال کر سب کچھ ھتھیا لیا ! کچھ نہیں ھو گا،، میری انکھیں بند ھوتے ھی وہ سب کچھ بیچ دیں گے ،ماں بھی ان سے ڈرتی ھے - تم ان کو خرچہ دیتے رھنا اور اگر سدھر گئے تو ان کا حصہ ان کو دے دینا،، نہ سدھرے تو میں حلال کی کمائی چرس اور شراب میں ضائع کرنے کے لئے نہیں دے سکتا ! تقریباً دس سال نہایت پیار اور محبت سے گزرے تھے ،، ابا جان اس کے بچوں سے اس کے بچپن کی باتیں کرتے تو بچے قہقے مار کر اس کا مذاق اڑاتے ،، اس دوران اس کی امی بھی مسکراتی رھتیں ،، اس کی پوسٹنگ منڈی بہاولــدین میں تھی ! والدہ اور بیوی بچے اس کے ساتھ تھے ،جب اسے صبح 4 بجے والد صاحب کی فوتگی کی اطلاع ملی ،، وہ آدھے گھنٹے میں ھی ختم ھو گئے تھے،، دل کی تکلیف شروع ھوئی تو خود اٹھ کر دوا کھائی بیٹے کو بیجھا کہ چچا سے بولو گاڑی لاؤ،، چارپائی گاڑی پر رکھی گئ، ساری میڈیکل رپورٹیں ساتھ لے کر خود دھوتی مضبوطی سے باندھ کر گاڑی پر چڑھے اور چارپائی پر لیٹ گے،، 5 کلومیٹر جب ڈاکٹر کے گھر جا کر دروازہ بجایا اور ڈاکٹر نے باھر نکل کر پاؤں پہ ھاتھ رکھا تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ دیا،،پھر اوپر چڑھ کر آنکھ میں بیٹری مار کر کہا کہ بابا جی تو ٹھنڈے بھی ھو گئے ھیں،، بس اتنی دیر لگی،،چارپائی کے سرھانے بیٹھے بیٹے اور بھتیجے کو بھی پتہ نہیں چلا کب روح مسافر ھو گئ ؟ اس نے گاڑی بک کی اور والدہ کو بھی ساتھ لیا بچے ساتھ لیئے اور نکل پڑے،، رستے میں کھاریاں پہنچ کر والدہ کی طبیعت ناساز ھو گئ ، اس نے انہین کہا کہ آپ رو لیں آنسو نکلیں گے تو شاید طبیعت ھلکی ھو جائے گی،، ان پڑھ ماں نے ایسی پتے کی بات کی کہ اس کی روح تک اتر گئ !

امی نے کہا "آنسو  "! بیٹا یہ آنسو تو پچھلی دو دھائیوں سے بہہ رھے ھیں مگر کوئی آرام نہیں آیا ،،کیا آنسو باھر ھی بہتے ھیں؟ یہ آنسو اندر ھی اندر نہیں بہہ سکتے ؟ کیا یہ دریا باھر زمین پر ھی بہتے ھیں ؟،، زیر زمین چشمے نہین بہتے ! بیٹا باھر کے آنسو آسان ھوتے ھیں انہین پونچھنے والے بھی مل جاتے ،،انسان کو کھوکھلا وہ آنسو کرتے ھیں جو اندر ھی اندر بہتے اور زمین کی طرح اس کی ھستی کو بھی اس طرح کھوکھلا کرتے ھیں جیسے بڑے بڑے مضبوط پل بیٹھ جاتے ھیں،، عمارتیں زمین بوس ھو جاتی ھیں ! اس دن لوگوں کو پتہ چلتا ھے کہ اس عمارت کے نیچے سے تو کب کی زمین نکل گئ تھی،یہ بس اپنی بناوٹ کے زور پہ کھـڑی تھی،، انہوں نے بچوں کے سر پہ ھاتھ پھیر کر کہا دیکھو ان معصوموں کو کبھی اس عذاب میں مبتلا مت کرنا جس سے تم گزرے ھو ،، زندگی میں کئ بار وہ مقام آئیں گے جب تم اپنی انا کے گرداب مین پھنسو گے،،یاد رکھو اس گرداب سے تمہیں صرف یہ بچے نکالیں گے،،ان کے مسقبل کی خاطر تم دونوں صبر اور حوصلے سے کام لو گے،، جہلم پہنچ کر ان پر نیم غشی کی کیفیت طاری ھو گئ،، اس نے گاڑی سی ایم ایچ کی طرف مڑوا لی ،، اسپتال جا کر انہیں ابتدائی طبی امداد ھی دی جا رھی تھی کہ انہوں نے جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی ! اس پر سکتہ طاری ھو گیا،، یہ اچانک خوشیوں کو آگ کیسے لگ گئ ؟ اس کو مسلسل قے شروع ھو گئ،، جس پر سے فوری طبی امداد دی گئ، اس دوران ایمبولینس کا بندوبست کیا گیا بیوی بچے تو گاڑی میں تھے مگر وہ ایمبولینس میں سوار ھو گیا ،، سارا رستہ وہ کبھی ماں کا سر چومتا تو کبھی ان کے سینے سے لپٹ لپٹ کر روتا رھا ! جب ایمبولیس گاؤں پہنچی تو کہرام مچ گیا،، والدہ کی میت بھی والد صاحب والے گھر اسی صحن مین رکھی گئ تا کہ خواتین کو تکلیف نہ ھو ! دو قبریں تیار کی گئیں ،، اس کے جاننے والے وکیل اور کئ جج بھی جنازے مین شرکت کے لئے پہنچے ھوئے تھے،، والد صاحب کی چارپائی پر آ کر اس نے ان کے پاؤں پکڑے کچھ دیر ان کو پیار سے سہلانے کے بعد وہ جھکا اور آنسوؤں تر اپنے ھونٹ ان قدموں پر رکھ دیئے ،، یہ وہ پیار تھا جو وہ بچپن میں
 والد صاحب کے سونے کے بعد لیا کرتا تھا ﷺ اور آج وہ
 ھمیشہ کی نیند سو گئے تھے ! وہ ابا کے قدموں پہ منہ ٹیکے پاؤں کے بل کتنی دیر بیٹھا رھا، آج وہ جنت کے دونوں بند دروازوں پہ دستک دے رھا تھا کبھی ماں کا سر چومتا تو کبھی بابا کے قدم !
دونوں جنازے تیار کیئے گئے،، وہ باوقار انداز مین ساتھ ساتھ چل رھا تھا، اس کے اندر ایک بچہ بلک رھا تھا مگر بظاھر وہ سیشن جج تھا جس کے ارد گرد تین تحصیلوں کے وکیل تھے اور سول ججز اور دیگر عہدیدار تھے،، وہ نہایت باوقار انداز مین کبھی ابا کی چارپائی کو کندھا دیتا تو کبھی امی کی چارپائی کو !  دونوں کی قبریں ساتھ ساتھ بنائی گئ تھیں یوں دونوں مل کر اس کی زندگی کو ایک خاص دھارے میں ڈھال کر خود چل بسے تھے