Tuesday, August 5, 2014

تقدیر کے کھیل

              زنا کرنے والوں کے نام ایک پیغام                 
نازیہ کا باپ ایک کامیاب وکیل تھا ،، ایل ایل بی کے ساتھ اس نے اسلامیات میں ماسٹر بھی کیا تھا اور عملی
زندگی میں بھی ایک نیک اور اچھا انسان سمجھا جاتا تھا ، محلے کی مسجد میں امام صاحب جب بھی چھٹی پہ جاتے تو امامت اور خطابت کی ذمہ داریاں نازیہ کے والد ھی ادا کرتے تھے ،، نازیہ ان کی اکلوتی اولاد تھی ،نہایت نیک فطرت اور باحیا بچی تھی تربیت بھی اچھی تھی وہ ابھی میٹرک میں تھی کہ والد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ھو گئے ،، ان کی شہادت پہ سارے بڑے بڑے مذھبی علماء ،،،وکلاء تنظیموں اور مذھبی پارٹیوں کے سربراھان نے تعزیتی بیانات دیئے اور پھر بس ،،، کسی نے پلٹ کر نہیں پوچھا کہ اس گھرانے کا گزارہ کیسے چلتا ھے !! زندگی کی گاڑی جیسے تیسے چل رھی تھی ، نازیہ بی اے میں تھی اور روزانہ ویگن سے ھی یونیورسٹی جاتی تھی ،،
ایک دن ھڑتال کی کال تھی ، والدہ نازیہ کو روک رھی تھی کہ وہ یونیورسٹی نہ جائے اس کا دل ھول رھا تھا کہ وہ سارا دن اس ٹینشن میں کیسے گزارے گی ؟ مگر نازیہ کا اصرار تھا کہ آج بہت اھم پیریڈ ھے اور اسے ھر حال جانا ھے ،، ایسے میں شومئ قسمت کہ نازیہ کی امی کو نازیہ کے پھوپھی زاد ذوھیب کا خیال آ گیا ، ذوھیب کا آفس بھی یونیورسٹی کی طرف تھا ،، تعلقات میں سرد مہری کے باوجود اس نے ذوھیب کی ماں سے کہا کہ وہ ذوھیب سے کہے کہ جاتے ھوئے نازیہ کو لے جائے اور واپسی پہ ڈراپ کر دے ،، اگرچہ نازیہ نے ماں کو منع کیا کہ وہ ان لوگوں کا احسان نہ لے مگر قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ھے ،، ذوھیب نے نازیہ کو گھر سے اٹھایا اور پھر اسے اپنے آفس ھی لے گیا کہ کچھ پیپر وھاں سے لینے ھیں پھر لے کر چلتے ھیں ،،مگر ذوھیب اس دن پھوپھی زاد نہیں ایک شیطان کا روپ دھار چکا تھا ،،،،،،،،،،،،،،، لٹی پٹی نازیہ کو گھر کے پاس ڈراپ کر کے وہ بھاگ نکلا ،،، نازیہ جونہی گھر میں داخل ھوئی ماں کو دیکھتے ھی اس پر ھیسٹیریا کا شدید دورہ پڑا ،، وہ اپنی ماں کے بال کھینچ رھی تھی تو کبھی اپنا سر دیوار سے ٹکرا رھی تھی پھر وہ غشی میں چلی گئ ،، نازیہ کی ماں نے نند کے گھر فون کیا کہ کیا ذوھیب واپس آیا ھے ،اس نے جواب دیا کہ اس کا آفس تو شام 5 بجے بند ھوتا ھے ،، نازیہ کی ماں نے پڑوس سے ایک نرس کو بلایا جو آغا خان اسپتال میں سروس کرتی تھی ، اس نے نازیہ کا معائینہ کیا ، اور جتن کے ساتھ اسے ھوش میں لائی ، ساری صورتحال علم میں آنے کے بعد نازیہ کی ماں خود بھی ڈیپریشن کا شکار ھو گئ ،، نند کو فون کیا تو اس نے پروں پہ پانی نہیں پڑنے دیا ،میرا بیٹا تو ایسا ھو ھی نہیں سکتا ،،ھم نے اسے حلال کا لقمہ کھلایا ھے ،تم لوگ رشتہ دینے کے لئے ھمیں بلیک میل کرنا چاھتے ھو وغیرہ وغیرہ !!
اس دن کے بعد نازیہ نے یونیورسٹی کا منہ تک نہ دیکھا اور گھر کی ھو کر رہ گئ ،،
دو ماہ کے بعد نازیہ میں زندگی کے آثار واضح ھو چکے تھے ، گویا یہ ایک اور قیامت تھی کہ جس سے ماں بیٹی کو دوبارہ گزرنا تھا ،، یا تو بچے کا ابارشن کرا دیا جائے یا پھر جھٹ سے نازیہ کی شادی کر کے اسے کسی کے سر منڈھ دیا جائے ،، اسی پہ رات دن ڈسکشن چلتی ،، آخر نازیہ کی والدہ نے اپنی بہن سے رابطہ کیا اور اس کو صورتحال بتائے بغیر اس سے نازیہ کے رشتے کی بات کی ،، نازیہ کا خالہ زاد ثاقب صدیقی نہایت شریف دیندار اور کامیاب بزنس مین تھا ، اگرچہ والد اس کے بھی فوت ھو چکے تھے اور وہ بھی اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا !
شادی طے ھو گئ ، ڈولی کیا اٹھی جنازہ تھا جو روتے دھوتے اٹھایا گیا اور ایک غیر یقینی مستقبل کے حوالے کر دیا گیا ،، رخصتی کے وقت تو ھر دلہن روتی ھے مگر سسرال جا کر بھی جو دھاڑیں نازیہ نے ماریں وہ عرش ھلا دینے والی تھیں،،ان میں کسی کے لئے بدعائیں تو کسی سے التجائیں تھیں ،، پہلے ھی دن نازیہ کی نظر جب ثاقب پہ پڑی تو اس نے طے کر لیا کہ وہ اس شریف انسان کو دھوکہ نہیں دے گی ، وہ کسی اور کے جرم کی سزا کسی معصوم کو دینے سے ڈرتی تھی ،، قتل کے مقابلے میں وہ دھوکہ دینا ایک چھوٹا گناہ سمجھتی تھی مگر جس کو دھوکہ دینا تھا وہ جب سامنے آیا تو اسے دھوکہ دینا اسے قتل سے بھی بڑا گناہ لگا ،، اس نے رو رو کر ساری داستان ثاقب کو سنا دی اور اپنی قسمت کا فیصلہ اس پہ چھوڑ دیا ،، ثاقب یہ سب کچھ سن کر ھکا بکا رہ گیا ،، اس دنیا میں ایسا بھی ھوتا ھے ! یہ تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ،، وہ خاموشی کے ساتھ عجلہ عروسی سے باھر نکل آیا !! نازیہ کی امی بھی بہن کے پاس ھی ٹھہر گئ تھی ، رات بھر دونوں بہنیں آپس میں دکھ سکھ بانٹتی رھیں مگر نازیہ کی امی نے اپنی بہن کو معاملے کی کوئی خبر نہ لگنے دی ، ساری رات اس کا دھیان اور اس کے کان اوپر کی منزل کی طرف لگے رھے ،، اسے ھول اٹھ رھے تھے ،وہ دل میں اللہ سے دعا کرتی رھی کہ وہ اس کا پردہ رکھ لے - ثاقب نے ساری رات ڈرائنگ روم میں چکر کاٹتے گزار دی ،، بات اگر صرف ریپ کی ھوتی تو وہ نازیہ کو اپنا لیتا ، اسے معلوم تھا کہ اس کے ساتھ زیادتی ھوئی ھے ،مگر بچہ ؟ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن گیا تھا ،،کیا میں کسی کے بچے کو اپنا نام اور خاندان دونگا ، یہ شرعاً کیسا ھو گا یہ تو علماء سے پتہ چلے گا مگر میں اس زھر کو پل پل گھونٹ گھونٹ کیسے پیوں گا ،،صبح ثاقب کی امی عجلہ عروسی کی طرف رواں دواں تھی کہ پیچھے سے ڈرائنگ روم کے دروازے سے ثاقب نے آواز دی " امی !! ماں نے پلٹ کر دیکھا تو بیٹے کی سوجی ھوئی سرخ آنکھیں اور دھکتا چہرہ ھی سب کچھ کہہ رھا تھا !
امی آپ نے میرے ساتھ یہ کیا کر دیا ھے ؟ وہ سسک پڑا ،،
کیا ھوا بیٹا ؟ ماں نے اسے گلے لگاتے ھوئے کہا ،پہلے دن کھٹ بٹ ھو ھی جاتی ھے ،بچی مانوس نہیں ھے ،،،،،، ، بس بس امی پلیز بس کر دیں ،، 
ایسا نہیں ھے ، امی جان ،،،،،،،،،،، نازیہ ذوھیب کے بچے کی ماں بننے والی ھے ،، ثاقب نے گویا گولہ فائر کر دیا ،، اس کی ماں کو ایک دفعہ چکر آگئے ، دھوکہ اور بہن کے ساتھ ؟ یہ میری نمازی تہجدگزار بہن کا تحفہ ھے ،،، وہ بڑبڑا رھی تھی ،، پھر وہ ثاقب کو انتظار کا کہہ کر نیچے اپنی بڑی بہن کے پاس چلی گئ ! جونہی وہ واپس کمرے میں داخل ھوئی آگے بہن تیار کھڑی تھی اس نے اوپر کی کھسر پھسر کو سن لیا تھا ،، ثاقب کی امی نے ابھی بات شروع کی تھی کہ بہن نے دوپٹہ اتار کر اپنی چھوٹی بہن کے قدموں میں ڈال دیا ،، میں ، میرا مرحوم شوھر اور میری بیٹی ھم سب بدنام ھو جائیں گے ! ھماری عزت آپ کے ھاتھ میں ھے ،،آپ بچے کی پیدائش کے بعد بے شک میری بیٹی کو طلاق دے دیجئے گا اور نئی شادی کر لیجئے گا ، ھم بچے کو پال لیں گے ،،مگر بس ایک نام کا سوال ھے تا کہ بچہ معاشرے میں سر اٹھا کر چل سکے ! ثاقب کی ماں کو چپ لگ گئ ،یہ بڑی بہن تھی جس نے اسے ماں کا پیار دیا تھا ،اور اس نے اسے ماں ھی کی جگہ سمجھا تھا آج وہ سر ننگا کیئے اس کے سامنے کھڑی تھی ،، وہ بہن جو اس کا سر دھوتی ،ج‍ؤئیں نکالتی تھی ، اسے سختی کے ساتھ سر ڈھانپنے کو کہا کرتی تھی آج تقدیر نے اسی بہن کو سر ننگا کر کے اس کے سامنے کھڑا کر دیا تھا ،، اس نے دوپٹہ اٹھا کر بہن کے سر پہ رکھا اور اسے سینے سے لگا کر رونے لگ گئ !
اوپر جا کر اس نے ثاقب کے سامنے یہی تجویز رکھی کہ وہ فی الحال صبر کر لے اور بچے کی پیدائش کے بعد نازیہ کو فارغ کر دے ،، یوں پورے خاندان کا پردہ رہ جائے گا ! مگر ثاقب آج پہلی بار ماں کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا ،، ایسا کسی صورت نہیں ھو سکتا میں ایک حرام کے بچے کو اپنا نام ھر گز نہیں دے سکتا - وہ غصے سے پلٹا ،،میں اس کو ابھی فارغ کر کے ماں کے ساتھ بھیجتا ھوں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، مگر ثاقب کی امی نے اس کا رستہ روک لیا ،، اور کچھ کہے بغیر اپنا دوپٹہ اتار کر بیٹے کے قدموں پر ڈال دیا ،، لگتا تھا وہ دوپٹہ نہیں سانپ تھا ،، ثاقب تڑپ کر پیچھے ھٹا اور ماں کے دوپٹے کو اٹھا کر ماں کے سر پر رکھا ،،ماں کا سر چوما اور گھر سے باھر نکل گیا !!
ثاقب صدیقی گھر سے نکل کر ساتھ کی مسجد میں چلا گیا ، اس نے اشراق پڑھی اور دعا کے لئے ھاتھ اٹھا دیئے مگر کیا مانگے اسے کچھ سمجھ نہیں لگ رھی تھی ،، ھاتھ مہندی سے رنگے تھے مگر وہ رنگ اسے اب ارمانوں کا خون لگتا تھا ،، وہ سسکتا رھا ،، مگر کچھ بھی نہ مانگ سکا ،، صرف ھاتھوں کا کشکول پھیلا کر رہ گیا ،، اسے سسکتا دیکھ کر امام مسجد صاحب بچوں کو قرآن پڑھتا چھوڑ کر اس کے پاس چلے آئے ،، کیا ھوا بیٹا ؟ کل کے دولہے کو سسکتے دیکھ کر وہ بھی حیران رہ گئے تھے ،، وہ اسے اٹھا کر حجرے میں لائے ،، حجرے میں ثاقب نے ان سے ساری بات کھول کر بیان کر دی ،،،،، امام صاحب گہری سوچ میں ڈوب گئے ، دیکھ بیٹا اللہ پاک جب کسی کا امتحان لیتا ھے تو اس آدمی کی استطاعت دیکھ کر لیتا ھے ،، اللہ نے تجھے بہت بڑے کام کے لئے چنا ھے اور میرا ایمان کہتا ھے کہ اس کا انعام بھی بہت ھی بڑا ھو گا،، نبی کریم ﷺ کا فرمان ھے کہ بچہ اس کا ھے جس کے بستر پر پیدا ھوا ھے اور زانی کے لئے پتھر ھیں ،، یہ شرعاً تیرا بچہ ھو گا ،بیٹی ھو یا بیٹا ، اس کو نام تیرا ھی ملے گا ،، جو اللہ جانتا ھے وہ تم نہیں جانتے شاید اللہ نے اس بچے میں ھی تیری خیر رکھی ھے ، دیکھ وہ بچی مظلوم ھے اور تم بھی مظلوم ھو اور وہ بچہ معصوم ھے اور اللہ تم لوگوں کے ساتھ ھے ،، امام صاحب اسے کافی دیر سمجھاتے رھے ، وہ واپس گھر کی طرف چلا تو اس کا دل کافی ھلکا ھو چکا تھا ،
سات ماہ لوگوں کے لئے تو پل جھپکتے گزرے ھونگے مگر نازیہ ، ثاقب اور گھر والوں کے لئے وہ سات سال کے برابر تھے ،، نازیہ نے اپنا آپ بھلا دیا تھا وہ مٹی کے ساتھ ھو کر رہ گئ تھی ،گھر والوں کی تو جو خدمت اس نے کی وہ ایک الگ کہانی ھے ، اس نے اس گھر کو بھی شیشہ بنا کر رکھ دیا ،، رات کو اپنی خالہ کے قدم دباتے دباتے وہ وھیں ان کے پاس سو جاتی ،کبھی کبھار گزرتے ثاقب کو کسی چیز کی ضرورت ھوتی تو پوچھ لیتا ، ورنہ میاں بیوی کا آپس میں کوئی خاص انٹر ایکشن نہیں تھا ! سات ماہ بعد اللہ پاک نے نازیہ کو بچے سے نوازا اور یہاں بھی نازیہ کا پردہ رہ گیا ،بچہ نازیہ کی کلرڈ کاپی تھا ، باپ کی کوئی جھلک اس میں نہیں پائی جاتی تھی ، نازیہ نے سکھ کا سانس لیا ، وہ یہی سوچ سوچ کر پاگل ھوئی جا رھی تھی کہ اگر بچی بچہ ذوھیب پہ چلا گیا تو کیا ھو گا !
بچے کی پیدائش کے دو چار ماہ بعد دونوں میاں بیوی کی ھیلو ھیلو شروع ھو گئ تھی جو آئستہ آئستہ قربت میں تبدیل ھوتی چلی گئ ،، ادھر بچہ سال کا ھو گیا تھا ،،وہ جب ثاقب کی گود میں آ کر بیٹھتا تو ثاقب کے چہرے پہ ایک رنگ آتا اور ایک جاتا تھا ،، نازیہ جھٹ سے بچہ اس کی گود سے اٹھا لیتی مگر وہ روتا اور لپکتا تھا ثاقب کی طرف،، کھڑی ماں کے ھاتھوں سے وہ ثاقب کی طرف لٹکتا اور اس کی طرف فریادی نظروں سے دیکھتا کہ وہ اسے ماں سے لے لے ،، پھر اس نے اسے پاپا پاپا کہنا شروع کیا تو ثاقب کی اذیت مین مزید اضافہ ھو گیا ، بچہ جس کا نام احسان اللہ رکھا گیا تھا ،، رات کو ضد کرتا کہ وہ پاپا کے پاس سوئے گا ،،مگر ماں اس روتے دھوتے کو اٹھا کر اپنے پاس سلا لیتی ، بعض دفعہ بچے کی آنکھ کھلتی تو وہ ماں کے پاس سے اتر کر ثاقب کے بیڈ پہ چلا جاتا اور اس کے سینے پہ ھاتھ رکھ کر سو جاتا ،، ایک دن ثاقب پھر امام صاحب کے پاس چلا گیا اور ان سے اپنی اس اذیت کا ذکر کیا کہ بچہ جب مجھے پاپا کہتا ھے تو میرے سینے پہ چھری چل جاتی ھے ،، اس پہ امام صاحب نے اسے سمجھایا کہ شریعت جب اسے اس کا پاپا تسلیم کرتی ھے تو اسے اتنی زیادہ ٹینشن نہیں لینی چاھئے ،،
دو سال گزر گئے تھے مگر ثاقب کے گھر کوئی نئ امید نہیں لگی تھی ،، آخر اس نے ایک ڈاکٹر سے رجوع کیا ،جس نے اسے بتایا کہ نازیہ کے ٹیسٹ کی تو فی الحال ضرورت نہیں البتہ وہ اپنا ٹیسٹ کرا لے ،،، ٹیسٹ کے لئے سمپل دے کر ثاقب گھر آ گیا ،،تیسرے دن وہ فالو اپ کے لئے ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر کے چہرے کی پر ضرورت سے زیادہ سنجیدگی دیکھ کر وہ ٹھٹھکا ! صدیقی صاحب آپ نے اس سے قبل کبھی یہ ٹیسٹ کرایا تھا ؟ جی نہیں ثاقب نے روانی میں جواب دیا ،، ویسے انسان کو شادی سے پہلے یہ ٹیسٹ ضرور کر لینا چاھئے تا کہ کسی کی بچی برباد نہ ھو ،، صدیقی صاحب ابھی کبھی بھی باپ بننے کے قابل نہیں ھیں ،، ڈاکٹر صاحب بول رھے تھے اور ثاقب کا سر گھوم رھا تھا ،، بیٹا مستقبل کو اللہ جانتا ھے ھم نہیں جانتے ، اس کی تقدیر کے پیچھے اس کی بڑی حکمتیں چھپی ھوتی ھیں ، اس کے کانوں میں مولوی صاحب کے الفاظ گونج رھے تھے !
وہ ایک ھارے ھوئے جواری کی طرح واپس لوٹا تھا ،، اور پھر اس نے تقدیر کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ، اس نے احسان اللہ کو اللہ کا احسان سمجھ کر قبول کر لیا اور ٹوٹ کر اسے پیار کرنے لگا ،، نازیہ بڑی حیرت کے ساتھ اس تبدیلی کو دیکھ رھی تھی مگر اس نے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور نہ ھی ثاقب نے اسے وجہ بتانے کی زحمت کی ! احسان اللہ کو مسجد میں مولوی صاحب کے پاس حفظ مین بٹھا دیا گیا ،بچہ بہت ذھین تھا ،، گھر والدہ اس کو اسکول کی تیاری بھی کراتی تھی ،حفظ مکمل کر کے احسان اللہ کو براہ راست پانچویں کلاس میں ڈال دیا گیا تھا !!
دوسری جانب ذوھیب کی شادی بھی نازیہ کی شادی کے پندرہ دن بعد کر دی گئ تھی ، اور اللہ نے اسے بھی بیٹے سے نوازا تھا ، بیتا ذھین تو تھا مگر لاڈ پیار نے اسے بگاڑ کر رکھ دیا تھا ،، وہ بچپن سے ھی ضدی تھا جوں جوں بڑا ھو رھا تھا اس کی ضد اور ھٹ دھرمی میں اضافہ ھو رھا تھا ،، احسان اللہ نے جس دن ایم بی بی ایس مکمل کیا تھا ،، نازیہ اور ثاقب کے پاؤں زمین پر نہیں لگتے تھے ،، اللہ پاک نے آج ان کے صبر کا پھل دے دیا تھا ؛؛ اگلے دن پتہ چلا کہ ذوھیب نے بیٹے کو رات نشے میں لیٹ نائٹ واپس آنے پر ڈانٹا جس پر بیٹے نے اینٹ باپ کے سر میں مار کر اس کا سر کھول دیا ،، بیہوشی کی حالت میں ذوھیب کو اسپتال داخل کر دیا گیا ،مگر بقول ڈاکٹر ذوھیب کی یاد داشت اور نظر دونوں کو خطرہ تھا ،، ایک دو آپریشز کے بعد نظر کا مسئلہ تو تقریباً حل ھو گیا ۔۔،مگر ذوھیب کی یاد داشت جواب دے گئ تھی اور اب وہ ایک خالی الذھن پاگل تھا ! وہ گھر سے باھر نکل جاتا ،کاروبار تباہ ھو گیا ،ذوھیب کو کبھی کسی درگاہ سے واپس لایا جاتا تو کبھی کسی نشہ خانے سے ، وہ چرس اور ھیروئین کے نشے کی لت میں مبتلا ھو گیا تھا ،، ایک دن ثاقب ،نازیہ اور احسان اللہ شاپنگ کر کے گاڑی میں واپس آ رھے تھے کہ ایک جگہ ان کی گاڑی رش میں پھنس گئ ، اچانک ایک فقیر نے گاڑی کی ڈرائیور والی کھڑکی پر آ کر شیشہ بجایا ،، احسان اللہ نے جو کہ گاڑی چلا رھا تھا جونہی گا ڑی کا شیشہ بھیک دینے کے لئے کھولا ،،کسی بچے نے اچانک اس فقیر کو دور سے پتھر دے مارا ،، فقیر کے سر سے بھل بھل خون بہنے لگا جو سیدھا احسان اللہ کے ھاتھ پہ گرا ،، اس نے جھٹ سے گھبرا کر شیشہ بند کر دیا ،، گاڑی آگے چلی تو نازیہ نےآئستہ سے ثاقب سے پوچھا " آپ نے فقیر کو پہچانا ؟ نہیں ثاقب نے جواب دیا ،، یہ ذوھیب تھا ،نازیہ نے جھرجھری لے کر کہا ! ثاقب نے چونک کر نازیہ کی طرف دیکھا اور اس کے کانوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول گونجا جو اس کو امام صاحب نے بتایا تھا ،بچہ اس کا ھے جس کے بستر پر پیدا ھو اور زانی کے لئے پتھر ھیں "
احسان اللہ نے پریکٹس کرنے کی بجائے سی ایس پی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور ڈائریکٹ اے ایس پی بھرتی ھو گیا، ابھی ٹریننگ مکمل کی تھی کہ بوسنیا کی جنگ میں جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو تحقیقات کے لئے پاکستان سے 25 پولیس افسروں کی ضرورت پڑی سب سے پہلے احسان اللہ کا انتخاب ھوا ،، 6 فٹ دو انچ کا احسان اللہ اپنے گورے رنگ اور انگلش کی وجہ سے انگریز ھی لگتا تھا ،، سارے افسر ڈیپوٹیشن سے واپس آ گئے مگر احسان اللہ کو اقوام متحدہ نے ریلیز کرنے سے انکار کر دیا ،، بوسنیا کے بعد روانڈا کے جنگی جرائم کی تحقیق بھی احسان اللہ کے ذمے تھی ،، نازیہ اور ثاقب بھی نیویارک میں اپنی بہو کے پاس ھیں ، اس دوران ذوھیب کو مردہ حالت میں کہیں سے اٹھا کر ایدھی والوں نے دفنا دیا تھا ،گھر والوں کو بعد میں خبر ملی تھی وہ ایدھی سنٹر گئے تو انہیں ذوھیب کے خون آلود کپڑے ،، سگریٹ ،ماچس اور 50 روپے پکڑا دیئے گئے

پڑوس کی جنت دال برابر

     ایک عورت     
"میں جب بھی گزارش کرتا ھوں کہ عورت سراپا وفا ھے
تو 
مرد حضرات اعتراض کرتے ھیں ،،
 اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں استثناء بھی ھے جیسا کہ ھر معاملے میں ھوتا ھے مگر عموماً عورت جو قربانی دیتی ھے وہ مرد سوچ بھی نہیں سکتے یا شاید مرد کی جبلت ھی ایسی ھے
 کسی عورت کا شوھر بیمار ھو تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی کہ اسے چھوڑ کر کہیں اگلے کے ساتھ جا شادی رچائے ،،
 بعض لڑکیاں نامرد کے ساتھ عمر بتا دیتی ھیں
مگر ساس کے طعنوں اور بیٹے کو نئ شادی کرانے کی دھمکیوں کے باوجود یہ نہیں بتاتی کہ اس نے بیٹا نہیں بلکہ اس کے ساتھ اپنی بیٹی بیاہ دی ھے !
یہ شارجہ کا واقعہ ھے ،،
 ایک خاتون کے یہاں 3 بچے تھے ،دو بیٹے اور ایک بیٹی ، بڑا بیٹا 11 سال کا تھا پھر بیٹا تھا پھر بیٹی تھی !
 شوھر کا رویہ بیوی کے ساتھ کچھ اچھا نہیں تھا ،
 اولاد بڑی حساس ھوتی ھے ،
وہ والدین کے معاملات کو جانتی ھوتی ھے
 اور
ظالم و مظلوم کو بھی پہچانتی ھے !
بیٹا کہا کرتا امی ابو آپ کے ساتھ بہت ظلم کرتے ھیں ،
ھم اپنی بہن پہ ایسا ظلم نہیں ھونے دیں گے ،،
 ھم اسے دور نہیں بیاھیں گے،
 ھم تین منزلہ گھر بنائیں گے نیچے میں رھونگا اوپر بہن کو رکھیں گے
اور
 سب سے اوپر دوسرا بھائی ھو اس طرح بہن دو بھائیوں کے درمیان رھے گی تو کوئی ظلم نہیں کرے گا !
یہی 11 سالہ بیٹا شام کو فٹ بال کھیلنے گیا ،،
بال کنپٹی میں لگا ،،
 وہ رات تو جیسے تیسے درد درد کرتے گزری اگلے دن اسپتال لے کر گئے
تو
 چیک اپ کے دوران ھی بیٹے کی زبان بند ھو گئ
پھر اس کے پورے بدن کو فالج ھو گیا ، صرف اس کی آنکھیں کھلی تھیں ،، ماں روز صبح اس کے سامنے جا کر بیٹھ جاتی اسے ادھر ادھر کی باتیں سناتی مگر وہ صرف دیکھ سکتا تھا کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا ،، ماں کے لئے اس سے بڑھ کر اذیت کیا ھو گی کہ اس کا اس قدر ھمدرد بیٹا بے حس و حرکت اس کے سامنے لیٹا تھا اور ماں کی بات کا جواب نہیں دیتا تھا ،، اس کی ساری خوشیاں اور سوشل زندگی راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئ،، شوھر کا مطالبہ تھا کہ وہ ھار سنگھار کرے ،،مگر وہ کہتی تھی جس ماں کا بیٹا اس حال میں سامنے پڑا ھو وہ کیسے ھار سنگھار کر سکتی ھے ؟ اسٹوری گلف نیوز میں آ گئ ،کچھ عرصہ لوگوں نے مدد بھی کی مگر کب تک ! آئستہ آئستہ لوگ بھول گئے ،، شوھر بھی ناراض ھو گیا اس نے پہلے کمرہ الگ کیا پھر نئ شادی کر لی ! یہ ایک دو دن یا ایک دو ماہ کی بات نہیں ،، یہ چھ سال کا طویل عرصہ ھے ،جس میں 11 سال کا بچہ مونچھوں اور داڑھی والا جوان بن گیا ،بیڈ پہ لیٹے لیٹے ماں کےسامنے ھی اس کی مسیں بھیگیں پھر گھنی داڑھی نکلی ،، اور 17 سال کا کڑیل جوان ایک دن ماں کی گود میں سر رکھ کر مر گیا ،، چند آنسو تھے جو اس کے مرنے کے ساتھ اس کی آنکھوں سے گرے ،، اور چھ سال مسلسل کھلی آنکھیں آخر کار بند ھو گئیں ،،مگر وہ عورت غم کی وجہ سے ڈیپریشن کا شکار ھوئی ،شوھر نے اپنی دنیا بسا لی تھی،، چھوٹے بیٹے کو نویں کلاس سے اٹھا کر سفاری والوں کے ساتھ لگا دیا جو تھوڑے بہت پپسے ملتے ان سے نظام چل رھا تھا ،،بیٹی کو وہ پڑھاتی رھی جو اس وقت گیارھویں میں پڑھ رھی ھے ! شوھر پہلے دوستوں کے برا بھلا کہنے پہ مکان کا کرایہ دے دیا کرتا تھا ،جو کہ اب وہ بھی بند ھے ،،ایک بیٹے کے دو یا ڈھائی ھزار میں وہ بیٹی کو پڑھائے ،مکان کا کرایہ دے جو کہ 1800 درھم ھے یا گھر کا روٹی کا نظام چلائے ،، اس کے آگے بھی اندھیرا ھے اور پیچھے بھی اندھیرا ھے ! درد بانٹنے والا بھی کوئی نہیں اور یادیں شیئر کرنے والا اپنی دنیا بسائے بیٹھا ھے ،، بیٹے کی تیمار داری کے دوران خود گرنے سے اس کی اپنی ریڑھ کی ھڈی کے مہرے بھی فریکچر ھو چکے ھیں،، بیٹی اسکول سے آ کر کچھ پکا کر کھلا دے تو کھلا دے ،، !
لوگ جنت ڈھونڈنے پتہ نہیں کہاں کہاں جاتے ھیں
 اور
 جنت ان کے پڑوس میں لگی ھوتی ھے !

تقوی

    تقوی    
ھر تمنا دل سے رخصت ھو گئ     
                                    اب تو آ جا ، اب تو خلوت ھو گئ 
جب آپ کو کسی کا سامنا کرنا ھو تو آپ سب سے پہلے اپنا جائزہ لیتے ھیں کہ آپ اس شخصیت کے شایان شان حال میں ھیں جس کا سامنا کرنے جارھے ھیں یا نہیں !
آپ اسے انتظار کرواتے ھیں تب تک اپنا حال درست کرتے ھیں ! 
اپنے کپڑے ،حلیہ ،، جوتے الغرض ھر چیز کو ری وزٹ کرتے ھیں !
جب انسان کو اللہ سے محبت ھو جاتی ھے تو وہ چن چن کر اپنی ھستی سے گند نکالتا ھے ،، اس وقت اسے یہ ھوش نہیں ھوتا کہ دوسرے کیسے ھیں اور کیا کر رھے ھیں، وہ اپنے حال پہ نگاہ ٹکائے دل کے نہاں خانوں سے کوڑا کرکٹ نکال رھا ھوتا ھے ،، وہ نارمل پانی سے نہیں بلکہ آنسوؤں کے پانی سے اس دل کو مل مل کر دھوتا ھے ! جب وہ اس کام میں لگ جاتا ھے تو اللہ پاک بھی اس کی مدد کرتا ھے اور اسے پاک صاف کرتا ھے نیز پھر گند لگنے نہیں دیتا کہ ابھی تو میرے بندے نے میری خاطر یہ گند نکالا ھے اور یہ شیطان خانہ خراب پھر گند ڈالنے آ گیا ھے ،، فرشتوں کی ڈیوٹی لگ جاتی ھے کہ اس شیطان کو اس سے دور رکھو ،، یہاں تک کے موت کے وقت بھی " تتنزل علیھم الملائکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا و ابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون ،، نحن اولیائکم فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرہ ،، 
مسجد میں آنے کے لئے صرف باھر کی زینت کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اندر بھی سنوار کر لانے کو کہا گیا ھے !
باھر کی شلوار سے زیادہ اندر کے سانپ کی فکر کرنے کا کہا گیا ھے ،،
ھو مبارک تمہیں سر جھکانا ، پھر بھی اتنی گزارش کروں گا !
دل جھکانا بھی لازم ھے زاھد ، سر جھکانا ھی سجدہ نہیں ھے !
ایسی نماز بندے کو رب سے ھر وقت جوڑے رکھتی ھے ،وہ کوئی بھی رویہ اختیار کرنے سے پہلے سوچے گا ،، یار اللہ بھی کیا سوچے گا کہ یہ کیا چول مار رھا ھے ! 
یار کتنی شرم کی بات ھے ، اللہ بھی کیا سوچے گا کہ میرا دوست کیا کرنے جا رھا ھے ؟
اللہ بھی کیا سوچے گا کتنا شرمناک رویہ ھے میرا !
اللہ بھی کیا سوچے گا کہ اس کے خیالات کتنے گندے ھیں اور چلا ھے میرا دوست بننے !
جس دن " اللہ کیا سوچے گا " اللہ کیا کہے گا " ھماری سوچ بن گئ اس دن ھماری ھستی میں سے گناہ مٹنا اور نیکیاں بسنا شروع ھو جائیں گی !
مجھے جب کوئی بندہ فرینڈ شپ کی درخواست بھیجتا ھے اور ساتھ ننگے پیج بھی لائک کیئے ھوئے ھوتے ھیں تو میرا دل کرتا ھے کہ اگر وہ میرے پاس ھو تو اس کے منہ پر چپیڑ ماروں ،، حالانکہ میں ایک گنہگار انسان ھوں ،سر سے پاؤں تک گناھوں سے بھرا ھوا ھوں !
فرینڈ شپ کی درخواست اللہ جل جلالہ کو ارسال کرنا اور اندر باھر گند بھر کر کرنا ،، کیسا غضب بھڑکتا ھو گا !
حجرے شاہ مقیم تے اک جٹی عرض کرے !
پنج مرن سہیلیاں تے سَتاں تو تاپ چڑھے !
کتی مرے فقیر دی جہڑی کاؤں کاؤں نت کرے !
اس تکیے دار فقیر نوں شالا " لا " دا ناگ لڑے !
میں بکرا دیاں گی پیر جی میرے سر دا کونت مرے !
گلیاں ھونڑ سوانجھڑیاں ،وچ رانجھنڑ یار پھرے !
حضرت دوست محمد قریشی فرمایا کرتے تھے ،، سارا تصوف ان اشعار میں ھے !
پانچ سہیلیاں پانچ مجلسی برائیاں ھیں جن کا ذکر سورہ الحجرات میں ھے !
سات لطیفے جن کا جاری ھونا طلب کیا گیا ھے !
کُـتی سے مراد لالچ ھے 
تکیے دار فقیر سے مراد نفس ھے ھے جو اللہ کی چیز پہ قابض ھو بیٹھا ھے !
لا کا ناگ کلمے کی لا سے ھر چیز پر کسی کی ملکیت کی نفی ھے ، کلمے میں الا سے زیادہ اھمیت لا کی ھے ،کیونکہ لا کے بغیر الا کے لئے جگہ بھی دستیاب نہیں ھے !
لا کے دروازے سے نفس نکلتا ھے تو الا کے دروازے سے اللہ پاک داخل ھوتا ھے !
سر کا کونت ،، تکبر اور خناس ھے !
یہ تمام رکاوٹیں دور ھو جائیں ،،کوئی میرے رحمان کو تنگ نہ کرے ،، یہ دل اس کے لئے مخصوص ھو جائے ،،بادشاھوں کے محلات کی طرح میرے اللہ کے لئے سجا رھے ،جب چاھے ، میرا محبوب تجلی فرمائے !!
بس دل کو اس طرح صاف ستھرا رکھنے ،، اس کا جائزہ ھر وقت لیتے رھنے کا نام تقوی ھے

مانگو. ڈهونڈو

      مانگو تو تم کو دیا جائے گا ڈهونڈو تو پاؤگے-   
دروازه کهٹکهٹاؤ تو تمہارے واسطے کهولا جائے گا- کیونکہ جو کوئ مانگتا هے اسے ملتا هے اور جو ڈهونڈتا هے وه پاتا هے اور جو کهٹکهٹاتا هے اس کے واسطے کهولا جائے گا
تم میں ایسا کون سا آدمی هے کہ آگر
 اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وه اسے پتهر دے دے یا آگر مچهلی مانگے تو اسے سانپ دے دے- پس جب کہ تم برے هو کر آپنے بچوں کو آچهی چیزیں دینا جانتے هو
 تو  
 تمہارارب جو آسمانوں پر هے آپنے مانگنے والوں کو آچهی چیزیں کیوں نہ دے گا

Thursday, June 12, 2014

ایک لاکھ کا چیک

   ایک لاکھ کا چیک   
ایک عالم کا واقعہ ہے۔ ان کی زندگی ایک تصنیفی ادارہ میں گزری۔ وہ بہت سادہ طور پر رہتے تھے۔ اپنی مختصر آمدنی میں بھی وہ ہر ماہ کچھ نہ کچھ بچت کر لیا کرتے تھے۔ ان کی صرف ایک لڑکی تھی۔ اس کی انھوں نے شادی کی تو شادی میں کچھ خرچ نہیں کیا۔ ایک نوجوان سے سادہ طور پر نکاح پڑھایا اور اس کے بعد لڑکی کو رخصت کر دیا۔
البتہ انہوں نے رخصت کرتے ہوئے اپنی لڑکی اور داماد کو ایک چیک دیا۔ یہ چیک 100،000 روپے کا تھا۔ انہوں نے کہا: یہی میری زندگی بھر کی بچت ہے جو بینک میں جمع تھی۔ اس رقم کو میں شادی کی رسوم میں بھی خرچ کر سکتا تھا۔ تاہم اس کے مقابلے میں مجھے یہ زیادہ پسند آیا کہ میں اس کو نقد تم لوگوں کے حوالے کردوں۔ تم لوگ اسے سنبھالو اور اس کو اپنی زندگی کی تعمیر میں استعمال کرو۔
لڑکی اور داماد نے باہم مشورہ کیا تو ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اس رقم سے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ ابتداء میں ان کو کافی محنت کرنی پڑی۔ بعض اوقات بڑے سخت مراحل سامنے آئے۔ مگر وہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے کاروبار پر جمے رہے۔ بالآخر حالات بدلنا شروع ہوئے۔ مذکورہ 100,000 روپیہ میں برکت ہوئی اور وہ لوگ چند سال کے بعد کافی ترقی کر گئے۔ اب وہ اپنے مقام پر ایک باعزت اور خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔
شادی آدمی کی زندگی کا ایک بے حد سنجیدہ واقعہ ہے۔ وہ دھوم مچانے کا دن نہیں بلکہ زندگی کی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کا دن ہے۔ اس دن ایک مرد اور عورت اپنے کوگاڑھے اقرار (نساء۔۲۱) میں باندھتے ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ نکاح کی تقریب سادہ ہو، وہ فضول نمائشوں سے بالکل پاک ہو۔ اور اگر کسی کو خرچ ہی کرنا ہے تو اس خرچ کی ایک اچھی صورت وہ ہے جس کی مثال اوپرکے واقعہ میں نظر آتی ہے۔
اگر ہمارے درمیان اس قسم کا رواج پڑ جائے تو شادی قومی تعمیر کے پروگرام کا ایک اہم جز بن جائے۔ ہر خاندان میں نہایت خاموشی کے ساتھ ترقی کاسلسلہ چل پڑے۔ قوم کے اربوں روپے جو ہر سال چند دن کے تماشوں میں ضائع ہوجاتے ہیں، قوم کی تعمیر کا ایک مستحکم ذریعہ بن جائیں،وہ قومی اقتصادیات کے منصوبہ کا جز بن جائیں اور قوم اقتصادی حیثیت سے اوپر اٹھ جائے تو یہ صرف ایک اقتصادی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ بے شمار پہلوؤں سے وہ قوم کی ترقی کے لیے مفید ہوگا۔ یہ ایک مزید فائدہ ہے مگر مزید خرچ کے بغیر۔

کفاف،تکاثر

   کفاف،تکاثر  
رزق کا حصول ہر آدمی کی ایک لازمی ضرورت ہے-اس رزق کے لیے آدمی مختلف ذرائع سے مال کماتا ہے-
قرآن اور حدیث میں اس رزق کے دو معیار بتائے گئے ہیں-
کفاف
Necessities
تکاثر
Abundance
قرآن کی سوره نمبر 102 میں بتایا گیا ہے کی لوگوں کا حال یہ ہے کہ وه تکاثر کی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں،یعنی زیاده سے زیاده مال جمع کرنا- وه یہ بهول جاتے ہیں کہ مال ذریعہ عیش نہیں،بلکہ وه ایک سنگین ذمہ داری ہے،ایک ایسی ذمہ داری جس کے بارے میں خدا کی عدالت میں ان سے پوچها جائے گا-جس آدمی کے اندر یہ احساس ہو،وه مال کو اپنی زندگی میں ثانوی  
درجہ دئے گا۔کیوں کہ وه اس حقیقت کو جانے گا کہ زیاده مال کا مطلب ہے----زیاده جواب دہی 
دوسرا طریقہ کفاف کا طریقہ ہے-اس کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یعنی وه آدمی کامیاب رہا جس نے خدا کی اطاعت کی،اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا،اور اللہ نے اس کو جو کچھہ دیا،اس پر اس نے قناعت کیا-
( صحیح مسلم،ابن ماجہ،مسند احمد)
تکاثر کی نفسیات میں مبتلا ہونا دراصل مال کو اپنا سب کچهہ سمجهنا ہے-ایسا آدمی رسمی طور پر خدا کا نام لے گا،لیکن حقیقت کے اعتبار سے مال ہی کو اس کی زندگی میں معبود کا درجہ حاصل هو گا-ایسا آدمی دنیا میں بظاہر مال دار دکهائی دے گا،لیکن آخرت میں وه پوری طرح بے مال هو جائے گا
اس کے برعکس،جس شخص نے رزق کے معاملے میں کفاف کا طریقہ اختیار کیا،یعنی اس نے بقدر ضرورت پر قناعت کی،وه کامیاب انسان ہے-کیونکہ ایسے آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وه اپنی توانائی کو ضائع هونے سے بچائے،وه آخرت کی ابدی کامیابی کے لیے زیاده سے زیاده عمل کرے-

Thursday, May 29, 2014

سوچو کبھی ایسا ھو تو کیا ھو ؟

سوچو کبھی ایسا ھو تو کیا ھو ؟
بعض حضرات کے اپنے معاملات، کچھ درست نہیں ھوتے مگر وہ بیوی کو صحابیہؓ بنانے کی کوشش کرتے ھیں،، نتیجہ کھڑاک کی صورت میں نکلتا ھے،، خاتون نے پردہ کرنا شروع کر دیا،، بازار نہیں جاتی،، جو چیز چاھئے حضرت گھر ھی لۓ آ کر پسند کروا لیتے ھیں،،اصرار پر بازار لے جائیں تو گاڑی میں ھی بٹھا کر رکھتے ھیں اور گاڑی میں ھی کپڑا جوتا دکھاتے ھیں،، خاتون بھی کوئی گائے بکریاں چراتی نہیں آئی تھی،، ملٹری اکیڈیمی کی پروفیسر تھی ،،مگر اسلام مین ڈھلتی چلی گئ،،

گھر چھٹی جاتے ھیں تو صاحب کی اپنی کنواری بہن رات بارہ بجے واپس آتی ھے،، ساری بہنیں پردہ نہیں کرتیں، وہ رات کو انہیں سمجھاتی کہ بہن کو سمجھائیں اور اللہ رسولﷺ کا حکم بتائیں کہ پردہ کرے اور وقت پر گھر آیا کرے،، صبح منہ دھونے سے پہلے امی کو جا کر بتاتے ھیں کہ مجھے بہنوں کے بارے میں پٹی پڑھاتی ھے،، ظاھر ھے پھر ساس اور نندوں نے تو اس کو پھینٹی لگانی ھے !
واپس آتے ھیں تو اپنی سیکرٹری سے ھنس ھنس کر گھنٹوں باتیں ھوتی ھیں،،ھاسے بغلوں اور کچھوں سے نکلتے ھیں، کوئی نہیں سوچتا وہ بھی کسی کی بہن ،بیٹی بیوی ھو گی،، اب ردعمل کی باری آتی ھے،، اس عورت نے جمعے والے دن صبح صبح فون کر کے مجھے،جس کا خطبہ اس کا شوھر باقاعدگی سے سنتا ھے،اپنے شوھر کو اور اس منافقانہ اسلام کو اتنی گالیاں دیں،، کہ رھے نام اللہ کا،، اس کے بعد اتنا روئی اتنا روئی کہ مجھے بھی اشکبار کر دیا،،
سارا اسلام بیوی کے لئے نہیں شوھر ، ساس اور نندیں بھی ایک ایک چمچ نہار منہ کھا لیا کریں،، اگر بہنیں نہیں مانتیں تو قطع تعلق کریں تا کہ آپکی بیوی کو آپ کے دینی اخلاص کا یقین ھو،، یہ دین نہیں دین کے نام پر کسی کو تنگ کرنا ھوتا ھے،، حضرت عمرؓ نے بیوی کو ڈانٹا تھا کہ " جواب دیتی ھو ؟ گھر والی نے بیٹی کا طعنہ دیا تھا،،ذرا جا کے نبیﷺ سے پوچھنا تیری بیٹی اللہ کے رسولﷺ کو جواب دیتی ھے،، عمرؓ کی شان کوئی نبیﷺ سے زیادہ نہیں،،،
بڑی بدقسمتی ھے،، ھر انسان خطاؤں کا مجموعہ ھے،، عورت میں اگر کچھ کمی بیشی ھو گی تو شوھر بھی بہت سارا گند پالے ھوئے ھو گا،، مگر اپنا گند کسے نظر آتا ھے،، انسان دودھ پیتے بچے کی پیٹھ دھو دے تو جب تک ھاتھ صابن سے نہ دھوئے تسلی نہیں ھوتی،،مگر اپنا استنجا کر کے اکثریت بغیر صابن ھاتھ بھگو کر کھانا کھا لیتی ھے،، یہی حال گناھوں کا ھے اور خطاؤں کا ھے،، ساس کو جو باتیں اپنی بیٹی کا بھولپن نظر آتی ھیں وھی بہو کا عیب بن جاتی ھیں
ھمارا حقیقی مسئلہ یہ ھے کہ ھم خریدنا چاھتے ھیں گوبھی مگر ھم براہ راست گوبھی خریدنے کی بجائے آلو خرید کر لے آتے ھیں اور پھر ان پر لال دوپٹہ ڈال کر دو رکعت صلاہ الحاجت پڑھ کر نہایت خشوع و خضوع سے دعا کرتے ھیں کہ کہ یا اللہ تو ھر چیز پر قدرت رکھتا ھے،میں نہیں کر سکتا تو کر سکتا ھے،، یا اللہ یہ آلو ھیں تو ان کو گوبھی بنا دے،، بس اسی جھگڑے میں گھر اجڑ جاتے ھیں،، سب سے پہلے یہ طے کریں کہ یہ عورت نام کی مخلوق جس کو لانے کے لئے سارے پروگرام بنائے جا رھے ھیں،وہ کس کس کے لئے ھو گی؟ یہ سوال تو تین سال کا بچہ بھی والدین سے بازار مین ھی کر لیتا ھے کہ یہ گڑیا جو آپ نے خریدی ھے کس کے لئے خریدی ھے کیونکہ بھائی بہن تو ھم 6 ھیں،، اور گڑیا ایک ؟ اگر تو کہہ دیا بیٹا جی تیرے لئے،پھر تو وہ خوش خوش لے کے گاڑی مین بیٹھ جائے گا،،اور اگر کہا کہ سب کے لئے تو وہ آپ کا ھاتھ چھوڑ کر ادھر ھی بیٹھ کر ایڑیاں رگڑنے لگے گا،، اگر آپ کو چاھئے ایسی بہو جو ایک شوھر اور سات دیوروں کو سنبھالے، ان سب کے احتلام والے کپڑے دھوئے ،تو بہتر ھے کوئی دیہاتی یتیم سی بچی کر لیں جس بیچاری کی روٹی بھی چل جائے گی اور آپ کا دھوبی گھاٹ بھی چلتا رھے گا،،اس دھوبی گھاٹ کے لئے بیوی لے کر آئے ھیں جو نفسیات میں پی ایچ ڈی ھے ایک لاکھ پچاس ھزار تنخواہ لیتی ھے اور سی ایم ایچ میں میجرز اور بریگیڈئرز کو لیکچر دیتی ھے،، اب اس سے تقاضا کرنا کہ وہ یہ دھوبی گھاٹ چلائے تو ،،،،، آج کل دونوں کو دورے پڑ رھے ھیں شوھر کو بھی اور بیوی کو بھی ،،،،پردہ اتروانا ھے تو بے پردہ جو ملتی ھیں وہ لے آؤ ، اس کو کوئی پردے والا لے جائے گا،،وہ جو بے پردے والی کو لا کر تشدد سے پردہ کرائے گا،،تم پردے والی پر تشدد کر کے اترواؤ گے،، پہلے فیصلہ تو کرو تمہیں کیا چاھئے ؟
خواتین جو کام اپنے عمل سے بگاڑتی ھیں اسے وظیفوں سے درست کرنے کو کوشش کرتی ھیں،، وظیفہ کبھی بھی عمل کا نعم البدل نہیں ھو سکتا،، اللہ پاک نے عورت پر کوئی اھم ذمہ داری نہیں ڈالی سوائے اھم ترین ذمہ داری کے،، شوھر کو خوش رکھو،، اولاد پر توجہ دو،اور سماج کو اچھے انسان فراھم کرو،،تمہیں جماعت کی نماز بھی معاف،تمہیں جمعے کی بھی چھٹی،، تمہیں جہاد بھی معاف،، تیرا سب سے بڑا جہاد اپنے گھر میں ھے،، بنو سنورو اس طرح کہ شوھر کی نظر کی پیاس بجھ جائے کسی اور طرف دیکھنے کی رغبت مر جائے،، ھنسی مذاق، اور چٹکلے، دل جوئی اس طرح کی ھو کہ گھر سے باھر جا کر اس کا دل واپسی کے لئے بےچین رھے اور فرصت ملتے ھی گھر کی طرف دوڑے،، گھر میں داخل ھو کر پرسکون ھو جائے ،، پھر جو چاھو اس سے منوا لو،، ھر وقت کی چخ چخ،، گلے شکوے اور رونے سیاپے،، تمہیں شوھر سے کچھ بھی نہیں دلائیں گے سوائے طلاق کے ،، جب چاھو لے لو